خاندانی راج اقرباء نوازی

  تصدق مفتی کو ریاستی کابینہ میں شامل کئے جانے کو لیکر جہاں عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے وہاں ریاست کی سب سے بڑی جماعت نیشنل کانفرنس نے تصدق مفتی کی کابینہ میں شمولیت کو خاندانی راج کو بڑھاوا دینے اور اقربا پروری کی مذموم کوشش قرار دیا ہے ۔ بظاہر این سی نے سو فی صدی درست بات کہی لیکن اُن کے منہ سے تصدق مفتی کی کابینہ میں شمولیت کی مخالفت کرنا بالکل ہی اچھا نہیں لگتا جس کی غالب وجہ یہی ہے کہ ریاست میں خاندانی سیاست اور اقربا پروری کو فروغ دینے میں سب سے زیادہ کردار اگر کسی جماعت کا رہا ہے تو وہ این سی ہی ہے۔ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ جن اصولوں کو لیکر پی ڈی پی اقتدا میں آئی تھی ان میں سے ایک خاندانی راج کے خاتمے کے متعلق جد و جہد کرنا تھا اور آج پی ڈی پی پر وہی الزامات لگے ہیں جن برائیوں کے خلاف لڑنے کیلئے اس جماعت کو عوامی منڈیٹ ملا تھا ۔ در اصل ان دونوں جماعتوں نے لوگوں سے ہر مسئلہ کر لیکر اس قدر جھوٹ بولا ہے کہ اب ان کی اعتباریت تقریباً ختم ہو کے رہ گئی ہے لیکن بد قسمتی سے یہ لوگ دلی کی آشیرواد کا ایسے استعمال کرتے ہیں کہ ہر کوئی اس گمان اوروہم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ نئی دلی کی آشیرواد کے بغیر یہاں پتا بھی نہیں ہل سکتا اور عام کشمیری وہم اور تصورات کی دنیا سے خوفزدہ ہو کر ہر بار پھر ان ہی چند خاندانوں کا خاندانی غلام بن کے رہ جاتا ہے۔ یہ بات عیاں ہے کہ مفتی خاندان خاندانی راج کو فروغ دینے والا پہلا خاندان نہیں ۔ جمہوری نظام کے لاگو کئے جانے کے دعوئوں سے لیکر آج تک اگر ریاست میں کسی خاندان نے زیادہ دیر تک حکمرانی کی ہے تو وہ شیخ خاندان ہی ہے ۔ اس خاندان کے باہر اس جماعت کا کوئی شخص کوئی با اختیار عہدیدار بن سکتا ہے اور نہ ہی کسی میں شیخ خاندان کو آئینہ دکھانے کی ہمت اب تک پیدا ہوئی ہے۔ مرز ا محمد افضل بیگ اور ملک غلام الدین نے جب این سی کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی تو انہیں ایسے یہاں کی سیاست کے پردے سے ہٹایا گیا کہ جیسے انہوں نے کبھی جنم بھی نہ لیا ہو۔ آج تصدق مفتی کی کابینہ میں شمولیت کو کنبہ پروری کہنے والے این سی کے دوسری صف کے لیڈران سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا ان کو یہ بات معلوم نہیں کہ خود عمر صاحب اور فاروق صاحب کے نزدیک اُن کی حیثیت ڈیلی ویجروں سے بھی کم ہے اور پارٹی میٹنگوں یا عوامی جلسوں کے دوران ان لوگوں کو با ادب دو زانوں بیٹھ کر شیخ خاندان کی قصیدہ خوانی کرنی ہوتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ 1975؁میں جب شیخ صاحب نے رائے شماری کی تحریک کو آوارہ گردی کہہ کر کشمیریوں کی پیٹھ پر چھرا گھونپ دیا تو کانگریسیوں کو گندی نالی کے کیڑے کہلانے والے شیخ صاحب خود کانگریس لجسلیچر پارٹی کے لیڈر بن گئے حالانکہ وہ کسی بھی ایوان کے ممبر نہیں تھے۔ نہ معلوم کشمیریوں کو بھیڑ بکریاں سمجھنے والی این سی کی قیادت کو تب یہ اخلاقیات کا سبق یاد کیوںنہیں آیا۔ آج خاندانی راج کے خلاف جہاد چھیڑنے والے نیشنل کانفرنسیوں سے پوچھا جا سکتا ہے کہ جب شیخ صاحب کا انتقال ہو ا تو کیا اُن کی پوری جماعت میں شیخ خاندان کے سوا کیاکوئی ایسا بھی فرد موجود نہیں تھا جو وزارت اعلیٰ کی کرسی سنبھالنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے صفر کے برابر تجربہ نہ ہونے کے باوجود انہیں کشمیریوں کے سروں پر تھونپنا خاندانی راج کی بد ترین مثال تھا۔ اب جبکہ خود نیشنل کانفرنس عمر عبداللہ کی تاج پوشی کے بعد اپنی پارٹی کی قیادت شیخ خاندان کی چوتھی پیڑی کو منتقل کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے تو ایسے میں مفتی خاندان پر ان کا خاندانی راج کو فروغ دینا ایسی ہی بات ہے کہ جیسے بھیڑیا  اس بات ک لیکر احتجاج کرے کہ لومڑی نے بیچاری ہرن کا شکار کیوں کیا کیونکہ وہ اس بھرم میں مبتلا ہے کہ بھیڑئے کے سوا کے سو اکسی کو شکار کرنے کا حق ہی نہیں ہے ۔ ایسا ہرگز نہیں کہ کسی خاندان کے فرد کو اس لئے سیاست کرنے سے روکا جائے کیونکہ اس کا باپ یا بھائی یا دادا یا کوئی اور سیاست کر رہا ہو یا کرچکا ہولیکن اس کیلئے لازمی ہے کہ اسے نہ صرف اپنے بل بوتے پر عوام کا منڈیٹ حاصل ہو بلکہ وہ اپنے مد مقابلوں سے کئی گنا زیاہ باصلاحیت بھی ہو۔ صاف ظاہر ہے کہ جموں کشمیر میں خاندانی سیاست کو فروغ دینے والے ــ’’خدا جب حسن دیتا ہے نذاکت آ ہی جاتی ہے‘‘کے محاورے کے مصداق اہل کشمیر کو جانوروں کا ریوڑ سمجھ کر اُن کے سروں پر شیخ خاندان اور مفتی خاندان کے ایسے لاڈلوں کو سوار کرتے ہیں جنہیں اپنی اوقات تو دور کی بات دن اور رات میں فرق کرنا بھی نہیں آتا۔ در اصل یہ نئی دلی کی پالیسی رہی ہے کہ جموں کشمیر کے سیاسی تنازعہ کے ہوتے ہوئے اس کے کمزور موقف کی وکالت کیلئے چند خاندانوں کو خرید لینا بے حد ضروری ہے ۔ اس سے ڈر اس بات کا ہے کہ اگر بنیادی سطح پر عوام کے اندر سے کوئی سیاسی قیادت ابھرے گی تو وہ نہ صرف نئی دلی سے ہر چیز کا حساب لے گی بلکہ کشمیر مسئلہ کو لیکر دلی کے روایتی موقف سے ہٹ کر کوئی حقیقت پسندانہ لائن اختیار کرے گی۔ لہذا نئی دلی کی آشیرواد سے یہ چند خاندان صحیح عوامی آواز کو ابھرنے کا موقعہ ہی نہیں دیتے ہیں۔ مین اسٹریم تو مین اسٹریم اب مزاحمتی قیادت کے اندر بھی خاندانی اجارہ داری کو قائم کرنے کی روایت چلی ہے اور کئی صف اول کے مزاحمتی لیڈروں نے اپنے منے اور لاڈلے نو نہالوں کو تحریک کی دکانوں کی چابیاں پرچون مال سمیت حوالے کرنے کا من بنا لیا ہے اور ایسا کرنے کیلئے پاکستانیوں کی آشیرواد حاصل کرنے کی کوششیں بھی شد و مد سے جاری ہے ۔ بھلا جب سیاستدان اپنے اہل و عیال اور اقربا کا اس قدرر خیال رکھیں تو یتیموں اور مسکینوں پر راج کرنے اور انہیں اپنے حقوقوں سے محروم رکھنے کیلئے بیوروکریسی کس طرح پیچھے رہ سکتی ہے ۔ نہ صرف ایسے پیچیدہ قوائد و ضوابط کھڑے کئے گئے ہیں بلکہ ہر لحاظ سے اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ کمشنر کا بیٹا کمشنر، ڈاکٹر کا بیٹا ڈاکٹر، پولیس افسر کا بیٹا پولیس افسر اور کسی بیورکریٹ کا بیٹا بیوروکریٹ ہی بن جائے چاہے اس میں کچھ کرنے کی صلاحیت موجود ہوںیا نہ ہوں۔ چند معاملات کو چھوڑ کر جیسے کہ یہ آسمان سے ہی طے شدہ بات ہے کہ غریب کے بیٹے کو نہ صرف مرتے دم تک غریب ہی رہنا ہے بلکہ اس کی کئی پیڑیوں کو بھی اپنی خاندانی اوقات سے با ہر نہیں آنا ہے۔ ایسے میں یہ فیصلہ عام کشمیریوں کو کرنا ہے کہ وہ خاندانی کنبہ پروری اور اقتدار کے خلاف منظم جد و جہد کریں تاکہ ریاست کے اندر تمام لوگوں کو علاقائی، لسانی یا کسی اور وابستگی سے بالا تر رہ کر یکساں ترقی کے مواقع ملیں اور انہیں اپنے جو ہر دکھانے کا پورا موقع مل سکے ۔ عوامی طاقت سے زیادہ کسی چیز میں کوئی طاقت نہیں ہوتی۔ لوگ چاہیں تو نا ممکن کو ممکن بنا کر تاریخ رقم کر سکتے ہیں ۔ ایسا کرنے کیلئے ضروری نہیں کہ انہیں نئی دلی کی آشیرواد حاصل ہو ۔ کشمیریوں کے سیاسی اور دیگر مسائل اس قدر سنگیں ہیں کہ چند خاندانوں کی بالا دستی اور انہیں سیا ہ و سفید کا مالک بنانے سے ہر گز مسائل حل نہیں ہونگے ۔ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا کشمیری شیخ خاندان اور مفتی خاندان کی جی حضوری اور فرمانبرداری میں ہی عافیت سمجھیں گے یا اپنے کھوئے ہوئے وقار اور عزت و توقیر کی بحالی کیلئے ایک منظم سیاسی تحریک کا آغاز کریں گے تاکہ کشمیریوں کی آنے والی نسلیں بھی ایک ایسے سورج کے طلوع ہونے کی امید اپنے اندر جگا سکیں جس کی روشنی سے ہر ایک کے دل یکساں طور منور ہوں۔ صرف ہوائی محل بنانے ، دکانوں کی نکڑوں پر بحث و مباحثے کرنے اور ہر کسی کو غدار کہنے اور اپنے سوا سبھوں کو بیوقوف سمجھ کر خود کا استحصال کروانے سے زمینی حقائق ہر گز نہیں بدل سکتے ۔ یہ امید رکھنا کہ محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ یا دیگر خاندان کبھی اپنا احتساب کرنے کی زحمت گوارا کریں گے احمقوں کی دنیا میں رہنے کی بات ہوگی کیونکہ ان سب لوگوں کے نذدیک سیاست عبادت نہیں بلکہ بازآباد کاری کا دوسرا نام ہے۔ گیند اب ریاستی عوام کے کورٹ میں ہے اور انہیں ایک دوسرے پر دوش دینے اور اپنی تقدیر کو کوسنے سے ہٹ کر کچھ کرنا ہوگا۔ 