خالی گھونسلہ کے باسی اورتصویر کا دوسرا رُخ حقیقت جانے بغیر کسی انسان کو حقیر نہ سمجھو

قاضی سلیم الرشید
اخبارات اور سوشل میڈیا پر آئے دن ریاست اور ملک سے باہر کام کرنے والے شہریوں کے بارے میں مختلف قسم کی کہانیاں شائع ہوتی رہتی ہیں اور ان کےباہری ملکوں میں حصول روزگار کو کچھ مختلف انداز سے پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اپنے وطن سے دور دیار غیر میں روزگار کمانے کو مجبوری سے زیادہ ان کی عیاشی گردانی جاتی ہے۔ اپنے وطن میں اعلی۱ سے اعلیٰ تعلیمافتہ اور قابل ہونےکے باوجود ان کے حق پر شب خون مارا جاتا رہا ہے۔ نسبتاً اچھا میرٹ ہونے کے باوجود انہیں ملازمت میں نہیں لیا جاتا ہے بلکہ اس کے برعکس اپنے رشتہ داروں یا رشوت دینے والوں کو کم میرٹ کے باوجود نوکریاں دلائی جاتی ہیں ۔ نا انصافی کا یہ کھیل ہم سالہا سال سے دیکھتے آئے ہیں۔

کلاس فورتھ سے لیکر ڈاکٹری، انجینئری حتیٰ کہ اعلی۱ ایڈمنسٹریٹو سروسز میں بھی دھاندلیاں کرکے اپنوں کو ہی تعینات کیا جاتا رہا ہے۔ اب اگر اندرون ملک روزگار ملنا مشکل بنایا گیا ہے تو ایک ہنر مند اور تعلیم یافتہ نوجوان کے لئے اس کے سوا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ بیرون ملک روزگار کی تلاش میں نکل پڑے۔ یہاں کے دانشور اور قلمکار ہمارے ان تعلیم یافتہ سکالروں، ڈاکٹروں، انجینئروں اور سائنسدانوں کی اس کسمپرسی اور نا انصافی کو اُجاگر کرنے کے برعکس ایسے واقعات کے تلاش میں لگے رہتے ہیں، جنہیں منظرعام پر لاکر ان مظلوم بیروزگار نوجوانوں کا ملک سے باہر روزگار حاصل کرنا سماجی طور معیوب اور قابل نفرت بنایا جاتا ہے۔ اگرچہ کبھی کبھار ایسےناپسندیدہ واقعات بھی سامنے آتے ہیں، جہاں مجبوری کے بجائے عیاشی کی بو آتی ہو۔ بعض اوقات والدین اور عزیزوں کے علاوہ سماج کی تئیں ذمہ داریوں سے مجرمانہ غفلت برتنے کا ارتکاب بھی ہوتا رہتا ہو۔ لیکن اس صورتحال کو عام بناکر ہر ایک پر یکساں طور چسپاں نہیں کیا جاسکتا ہے۔

بیرون ملک روزگار کمانے والے ڈاکٹر، انجینئر،سائنسدان وغیرہ کو ایک ہی ترازو میں تولنا نا انصافی ہوگی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ یہ نام نہاد دانشوروں، قلمکاروں کی ہی مجرمانہ حرکتیں ہیں جو ہماری اس نئی پود کو جایز اورحلال روزگار کمانے کی راہ میں خود ساختہ اخلاقی اور سماجی روکاوٹیں کھڑا کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ حال ہی میں یہاں کے ایک موقر انگریزی رونامہ میں اسی قسم کا ایک مضمون بعنوان (خالی گھونسلہ کے باسی) Natives of an empty nest چھپا تھا جس میں صاحب مضمون نے ایک عمر رسیدہ جوڑے کا منظر نامہ پیش کیا تھا۔ کینسر کی جان لیوا بیماری میں مبتلا یہ آسودہ حال عمر رسیدہ جوڑہ اپنے علاج کی خاطر کس قدر بے سر و سامانی کی زندگی گزار رہا ہے جبکہ ان کا اکلوتا بیٹا جس سے انہوں نے اپنی انتھک محنت اور امیدوں کے ساتھ ایک بڑا ڈاکٹر بنایا تھا ،بڑھاپے اور مہلک بیماری کی حالت میں اپنے ان والدین کو اکیلا بے یار و مددگار چھوڑ کر خود بیرون ملک سبز چراگاہ (Green Pasture) میں زندگی کے مزے لے رہا ہے۔ عمر بھر پال پوس کر ڈاکٹر بنا کر یہ بد قسمت والدین آج دوسروں کے سہارے کا محتاج ہوئے ہیں حتیٰ کہ ہسپتال جانے کے لئے انہیں کسی ایسے انجانے شخص کی مدد لینی پڑی ہے، جس سے صاحب تحریر نے ایک صاحب دل جوان جتلا کر اس بوڑھے جوڑے کے ساتھ بیٹا جیسا سلوک کرنے کی بات رکھی ہے۔

صاحب مضمون نے سادہ مگر کرب ناک انداز میں اس واقعہ کو قلمبند کیا ہے۔ واقعہ کا ایک ہی پہلو اُجاگر کرکے صاحب مضمون نے ڈاکٹر بیٹے کو مجرم ٹھہرا یا جبکہ دوسرے پہلو کو بالکل نظرانداز کیا۔ کن حالات میں یہ بدقسمت بیٹا اپنے والدین کو یہاں چھوڑ کر پرایا دیش جانے پہ مجبور ہوا ہے، شاید صاحب مضمون کو خود ان حالات کا سامنا نہ پڑا ہو یا یوں کہنا زیادہ صیح ہوگا کہ اللہ ان پر مہربان رہا ہے کہ انہیں اس جیسی صورتحال سے محفوظ رکھا ہے، جس کا سامنا اس بوڑھے والدین کے اکلوتے بیٹے اور اس جیسے سینکڑوں اکلوتے لالوں اور لاڈلوں کو کرنا پڑ رہاہے۔ یہاں اپنے ملک میں ایک پڑھا لکھا نوجوان تب تک کوئی سرکاری نوکری حاصل نہیں کرسکتا ہے جب تک نہ وہ کوئی سفارش رکھتا ہو یا ایک بھاری رقم رشوت دینے کی پوزیشن میں ہو۔ ڈاکٹری کی اعلیٰ تعلیم دلا کر کیوں کر والدین نے اپنے بیٹے کو باہر جانے کی اجازت دی ہوگی۔

تب تو نہ والدین ہی بوڑھے ہوتے اور نہ ہی بیٹے نے اس قسم کے حالات کا اندازہ لگایا ہوتا۔ والدین اور بیٹے کے باہمی مشورہ سے ہی بیٹے کو باہر بھیجنے کا فیصلہ ہوا ہوگا۔ ڈاکٹر بیٹے کے باہر جانے کے فیصلہ میں والدین کی رضامندی ضرور شامل رہی ہوگی۔ بیرون ملک نوکری کرنا، وہاں سیٹل (settle) ہونا ان سب میں والدین کی رضامندی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتاہے بلکہ گمان رکھنا چاہیے کہ ان کی رضامندی اس میں ضرور شامل رہی ہوگی۔میرا خود کا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ ابتدا’’ ہم جیسے والدین جن کا اکلوتا بیٹا یا جن کے کئی بیٹے بیٹیاں باہری ملکوں میں روزگار کے سلسلے میں گئے ہوئے ہیں، ان کے وہاں جاب (Job) کرنے اور اما بعد سیٹل (settle) ہونے میں ابتداً والدین کا بھر پور ساتھ رہتا ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ بعد میں یہی والدین سن پیری کو پہنچ کر بوڑھاپے کے مشکلات سے دوچار ہو کر اپنے ان سہاروں کی ضرورت محسوس کرنے لگتے ہیں اور انہیں واپس بلاتے ہیں۔ جبکہ یہ بچے اب بہت سے گھریلو معلومات میں وہاں پھنس چکے ہوتے ہیں۔ مثلاً ان کی نوکری/روزگار کے تقاضے،بچوں کی پڑھائی کے معاملات وغیرہ وغیرہ۔ خود والدین نے ہی اپنی مرضی سے ان کا باہری ملکوں میں جانے میں اہم رول ادا کیا ہوا ہوتا ہے۔ یہاں ان والدین کو خود غرض یا hypocrites کہنا اگرچہ اچھا نہی لگتا ہے لیکن حقیقت حال اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ صاحب مضمون اس پہلو کو دھیان میں کیوں نہ رکھ سکے کہ بیٹے کے باہر’’سبز چراگاہ‘‘ میں جانے کمانے کا خواب سجانے میں کلیدی رول آج کے ان بوڑھے اور بیمار والدین کا ہی رہا ہوگا، جنہوں نے اپنے اس اکلوتے بیٹے کو ڈاکٹر بنا کر ڈالر/ریال کمانے کی لالچ میں باہر بھیجا ہوا ہوتا ہے۔

تب تو خوشیاں ہی خوشیاں منائی ہونگی کہ بیٹا اب ڈالر کما کر لائے گا۔ انہیں اپنی ریٹائرمنٹ اور اما بعد کی زندگی کا کیوں خیال نہ رہا تھا؟ آج یہ سن پیری کو پہنچ کر اپنے لخت جگر کو کیوں کر مورد الزام ٹھہرارہے ہیں؟ کیوں کر آج یہ اپنے لاڈلے اولاد کو اس کے اپنے لاڈلوں کی تعلیم و تربیت میں مشکلات پیدا کررہے ہیں اور اس کے بال بچوں کی گزر رہی خوشگوار زندگیاں اپنے بوڑھاپے کی نذر کرنا چاہتے ہیں؟
موجودہ دور میں جبکہ بیروزگاری اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے،ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان یاس اور نا امیدی کے دلدل میں پھنس چکے ہیں اور زبردست ڈپریشن کا شکار ہوئے ہیں۔ ڈرگس کا استعمال کرکے اپنے غم کو مٹاتے ہیں۔ہر طرف مایوسی ہی مایوسی چھائی ہوئی ہے۔

اندرون ملک درکنار بیرون ملک میں بھی اب روزگار کے مواقع مسدود ہوکے رہ گئے ہیں۔ مظہر خود حال ہی میں سعودی عرب سے لوٹ کر آیا ہوں۔ وہاں اب عجمی لوگوں کو نکال باہر کیا جارہا ہے اور مشکل سے کوئی نئی تقرری عمل میں لائی جارہی ہے۔ بر صغیر ہند و پاک، بنگلہ دیش، افغانستان کے ساتھ ساتھ بیشتر افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ خلیجی ریاستوں خصوصاً سعودی عرب میں نوکریوں کے بارے میں کافی امیدیں لگائے رہتے تھے لیکن شہزادہ سلمان کی ’’پہلے سعودی‘‘ (First Saudi) کی پالیسی نے وہاں سب کچھ بدل کے رکھ دیا ہے۔ اور ہر سطح پر نوکریوں میں مقامی لوگوں کو ترجیح دینے کے قوانین نافذ کئے گئے ہیں۔ عجمی لوگوں کے لئے اب مشکل سے ہی وہاں روزگار کے مواقع باقی رہے ہیں۔ان حالات میں اگر کوئی خدا کا بندہ وہاں روزگار پانے میں کامیاب ہورہا ہے تو اس سے غنیمت ہی سمجھنا چاہیے۔

اس پس منظر میں اِکا دُکا واقعات کو اخباروں میں شائع کرانا کہاں کی دانشمندی ہے؟ اس سے تو ہماری نوجوان نسل کو روزگار کے ممکنہ وسائل جو کم زیادہ اب بھی باہری ممالک میں دستیاب ہیں سے بدظن اور بد دل ہی کیا جاسکتا ہے۔ اور ایسا کرنا یقیناً کوئی قومی خدمت تو نہیں کہلائی جا سکتی ہے۔بلکہ اسے ملک و قوم کی تئیں مجرمانہ سوچ ہی کہا جاسکتا ہے۔ ہر کوئی تو اپنی ریاست یا ملک میں روزگار حاصل کر نہیں سکتا ہے،ہر کوئی تعلیم یافتہ نوجوان ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتا ہی اور نا ہی ہر کوئی آئی اے ایس، کے اے ایس یا کے پی ایس کے امتحانات پاس کرسکتا ہے۔ حکومتوں کی غلط اور غیر دانشمندانہ پالسیوں کی وجہ سے یہاں بیکاری اور بیروزگاری اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔

عام تعلیمافتہ نوجوان تو درکنار انتھک محنت و مشقت سے بنا ہوا ڈاکٹر یا انجینئر بھی اپنی ریاست اور ملک میں بیروزگار بیٹھا ہوا ہے حتیٰ کہ چند معلوم واقعات کے وقوع پذیر ہونے نیز ملازمت کے سخت گیر اور متعصب قوانین کی عملداری کے پس منظر میں قابل فخر سمجھنے والی کے اے ایس،کے پی ایس حتیٰ کہ آئی اے ایس اور آئی پی ایس جیسی نوکریاں بھی اپنی کشش کھو چکی ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ اب ان مانی جانی سروسز میں بھی رشوت، اقربا پروری اور تعصب نے اپنی جگہ بنائی ہے۔ بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرکے، مختلف مقابلہ جاتی امتحانات پاس کر کے بھی یہاں کا عام غریب نوجوان نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ نتیجتاً وہ باہری ملکوں کا رخ کرنے کے لئے مجبور ہوتا ہے۔

اب اگر باہر جانے میں بھی فضول قسم کی سماجی یا اخلاقی اڑچنیں پیدا کی جارہی ہوں۔ باہری ممالک میں روزگار کمانے والے کو سو قسم کی اُلجھنوں میں پھنسایا جارہا ہو، سماجی اور اخلاقی طور بدگمانیاں پیدا کی جارہی ہوں تو ان بیروزگاروں کے پاس ڈیپریشن حتیٰ کہ خودکشی کے سوا اور کیا چارہ رہ جاتا ہے۔

آخیر پر میں یہاں کے دانشوروں، قلمکاروں اور عوامی رابطہ سے تعلق رکھنے والے اصحاب سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اپنے قلم کو قوم کے نوجوان کی حوصلہ شکنی کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کے لئے استعمال میں لائیں۔ سماج میں اِکا دُکا واقعات کو پورے سماج کی عکاسی کرانے سے جو غلط فہمیاں پیدا ہونے کا احتمال بن رہا ہے، اس سے قوم و سماج کی تئیں کوئی خدمت نہیں سمجھی جاسکتی ہے۔ بلکہ نئی نسل کو مزید ڈپریشن اور ناامیدی کی طرف دھکیلنے کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔لِلہٰ ان تحریروں اور تقریروں سے باز آ جائے۔ اللہ اس لٹی پٹی قوم کو راہزنوں کے بجائے راہبروں کی رہبری نصیب کرے۔ آ مین
(رابطہ۔7889324408 )
[email protected]