خالدبشیر کا عہد ساز کارنامہ

 مسلم حلقوں میں تو یہ عقیدہ عام ہے کہ لکھنے کی روایت حضرت ادریس ؐنے قائم کی تھی۔درحقیقت کتاب اور انسانی شعور کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایسی کتابیں بھی منصہ شہود پر آئی ہیں جن کی اشاعت کے بعد خیالات کی دُنیا تہہ و بالا ہوگئی۔اُنیسویں صدی کے وسط میں جب چالز ڈاروِن نے ’’اوریجن آف سیپی شیز‘‘ لکھی تو وجودِ آدم سے متعلق صدیوں پر محیط فکری روایات کو متزلزل کردیا۔ بعدازاں کارل مارکس نے ’’داس کیپٹل‘‘ لکھ ڈالی تو پوری دنیا میں سرمایہ اور محنت کے درمیان جنگ چھڑگئی جو ہنوذ جاری ہے۔علامہ اقبال بھی ان کے بارے میں کہہ گئے کہ ’’نیست پیغمبر ولیکن دربغل دارد کتاب‘‘۔ پھر سگمنڈ فرائڈ نے تعبیر ِخواب منظر عام پر لائی تو حِسیات اور شعور سے متعلق انسانی فکر نے ترقی کے نئے منازل طے کئے اور توہمات یا مافوق الفطرت قوتوں کے ساتھ شعور کو نتھی کرنے والوں کی چھٹی ہوگئی۔ اسی طرح آرتھر ڈی گوبینو نے 1400صفحات پر مشتمل جو کتاب لکھی اُس نے دنیا میں استعمار اور استبداد کو فطری ضرورت قرار دیا اور دنیا میں انقلابات کی لہرکے باوجود آمر قوتوں نے قبضہ گیری کے نئے طور سیکھ لئے۔ماضی بعید کی طرف جائیے تو غزالی کی کتابوں نے اجتہاد کے دروازے پر جو تالے چڑھائے وہ آج بھی نہیں کھل پارہے ہیں۔غرض تاریخ ہو، عقائد ہوں یا دوسرے فکری دھارے، کتابیں انقلاب کا باعث ہوتی ہیں۔ 
خالد بشیر کی کتاب ’’کشمیر، ایکسپوزنگ دی مِتھ بی ہائنڈ دی نریٹیو‘‘ کو اسی پس منظر میں دیکھنا پڑے گا۔ صدیوں سے کشمیر کی تاریخ نویسی جس اساس پر کھڑی تھی، خالد بشیر نے اسے منطقی بنیادوں پر چیلنج کرکے ایک نیا بیانیہ تشکیل دیاہے۔ 387صفحات کی یہ کتاب کشمیر ی تاریخ نویسی میں بلاشبہ ایک بہت بڑاشفٹ ہے۔کشمیریوں کی کئی نسلیں اس عقیدے کے ساتھ ماضی کا مطالعہ کرتی رہی ہیں کہ کشمیر کی پانچ ہزار سالہ رُوداد نہ صرف مرقوم ہے بلکہ مسلمہ بھی، اور یہ کہ کشمیر کا جغرافیائی وجود ایک ہند وریشی کی کرشمہ سازی کا نتیجہ ہے، اور یہ کہ ہندو ہی کشمیرکے اصل باشندے تھے ۔خالد بشیر کی کتاب کلہن کی راج ترنگنی کا پوسٹ مارٹم کرکے یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ منظوم قصہ گوئی کوئی مسلمہ تاریخ نہیں ہے۔ انہوں نے خود راج ترنگنی اور نلمت پُران کے مستند حوالوں سے کلہن کا یہ اعتراف کھنگالا ہے کہ اپنے عہد سے چار ہزار سال پہلے کے حالات و واقعات کلہن نے  محض ایک سال کے عرصے میںرقم کئے تھے۔انہوں نے راج ترنگنی اور نلمت پران کا باریک بین مطالعہ کرکے یہ انکشاف کیا ہے کہ کلہن کشمیری زبان سے اس قدربیزار تھے کہ وہ اس میں بات کرنا یا لکھنا ہیچ اور عبث مانتے تھے۔ اسی طرح خالد بشیر نے کشپ ریشی کی تھیور ی کو جدید ارضیائی تحقیق کی روشنی میں رد کردیا ہے۔ کھادنیار میں کسی دیو کے ذریعہ پہاڑ توڑنے کا واقعہ حقائق کی روشنی میں ڈال کر اس کتاب نے صدیوں پرانے فکری سلسلہ کو توڑ دیا ہے۔ 
یہ کتاب نہ صرف قدیم تاریخی بنیادوں کو چیلنج کرتی ہے، بلکہ پنڈتوں کی ہجرت اور کشمیر کی سیاسی و معاشی ہیت میں نئی دلی کی جانبدارانہ پالیسی جیسے عصری واقعات کا بھی تقابلی تجزیہ کرکے تاریخ نویسی کی ایک نئی اور بولڈ روایت کی نقیب ہے۔شائد یہی وجہ ہے کہ چترلیکھا زتشی جیسی عالمی شہرت یافتہ مؤرخہ خالد کی کتاب کو ’’خطرناک‘‘ کہنے پر مجبور ہوگئیں۔یہ کتاب اُن سبھی بنیادوں کو دیومالائی ثابت کرتی ہے جن پر آج تک کشمیری تاریخ کی عمارت کھڑی تھی۔کتاب کے سبھی ابواب کا تجزیہ اس مختصر کالم میں ممکن نہیں ہے، لیکن اس کتاب کے اثرات اور اس کی اہمیت کے بارے میں حساس حلقوں کو متوجہ کرنا ضروری ہے۔ 
کشمیرمیں مقامی تاریخ نویسی کی روایت پر مستشرقین اور انڈین ایلیٹ کا غلبہ رہا ہے۔ گومستشرقین نے قابل قدر کام کیا ہے، بھارتی مورخین نے نہ صرف یہ کہ راج ترنگنی کی بنیاد پر قدیم تاریخ کی بنا رکھی بلکہ 1947کے حوالے سے حکومت ہند کے ہی Received Truths کے پیرائے میں کشمیریوں کی تاریخ لکھی۔لیکن مقامی مؤرخین تین دھاروں میں تقسیم تھے۔ اول تو کشمیر کی تاریخ یونیورسٹی اساتذہ نے لکھی۔ یہ لوگ درحقیقت سرکاری ملازم تھے،  ان کی تحقیق روایت پسندی کے ہی تابع رہی اور ان کا لہجہ حد درجہ محتاط تھا۔ اس کے باوجود ڈاکٹر اشرف وانی، ڈاکٹر عبدالاحد اور پروفیسر اسحاق خان نے اسلام، شیوازم اور تصوف کے دقیق موضوعات کو جدید اسلوب میں سامنے لایا۔ دوسرا طبقہ ثقافتی مؤرخین کا تھا، جنہوں نے کشمیر کی روایات اور تاریخ کو شاعری اور تنقید کے ذریعہ محفوظ کیا۔ ان میں محمد یوسف ٹینگ کا کام قابل تحسین ہے۔شعرا ٔ اور افسانہ نگاروں میں اخترمحی الدین، عبدالاحد آزاد اور رحمٰن راہی قابل ذکر ہیں۔لیکن یہ طبقہ بھی ارباب اختیار کے وضع کردہ لہجے سے باہر نہیں نکل پایا۔ تیسرا طبقہ نجی طرز کا تھا، اس میں غیرجانبدار عام شہریوں اور دانشوروں نے کشمیر کی تاریخ کے گم گشتہ پہلوؤں کو ظہور پذیر کیا۔ ان میں پی جی رسول، غلام رسول سولنہ، عاشق حسین وغیرہ شامل ہیں۔گو کہ نجی کاوشوں کا لہجہ بے باک تھا، لیکن ان کاوشوں کے طفیل جو تاریخ رقم ہوئی اس پر موجودہ حالات کا غلبہ تھا۔ فکری سطح پر کشمیر کی قدیم تہذیبی حقیقت کو سامنے لانے کا گراں قدر کام بلاشبہ پہلی مرتبہ خالد بشیر نے ہی کیا ہے۔ 
خالد بشیر کی کتاب کا اُردو ترجمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ کیوںکہ قوم کے اجتماعی شعور کو اپنی اصل سے متعلق جن مبہم اور دیومالائی افکار سے بوجھل کیا جارہا ہے، خالد صاحب کی کتاب اس سے گلو خلاصی کی مناسب شروعات ہوسکتی ہے۔ 
 ماخذ: ہفت روزہ ’’ جہلم‘‘ سری نگر