خاتون کی پراسرار موت، لواحقین کا احتجاج

راجوری //راجوری ضلع ہیڈ کوارٹر سے کوٹرنکہ سب ڈویژنل ہیڈ کوارٹر جانے والی مرکزی سڑک چار گھنٹوں سے زائد وقت تک گاڑیوں کی آمدورفت کے لئے بند رہی کیونکہ حال ہی میں پراسرار طور پر ہلاک ہونے والی ایک خاتون کے والدین اور کنبہ کے افراد نے پولیس پرکیس کی تحقیقات کے حوالے سے سست روی کا الزام عائد کرتے ہوئے احتجاج کیا۔خاتون کی شناخت سفینہ کوثر اہلیہ محمد عمران ساکن پلماکے طور پر ہوئی جو7 جنوری کو جموں و کشمیر کے باہر ایک اسپتال میں علاج کے دوران فوت ہوگئی تھی۔ پراسرار حالت میں اس کی طبیعت خراب ہونے پر اسے موت سے تین دن پہلے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔جمعرات کے روزلواحقین، والدین اور دیگر رشتہ داروں نے راجوری کوٹرنکہ روڈ کو مندر گالا میں بلاک کیا اور وہ متوفی کیلئے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے پولیس کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ متوفی گھریلو تشدد کا شکارہوئی اور اس کی موت پراسرارحالات میں ہوئی لیکن پولیس نے ابھی تک اس کے شوہر اور سسرالیوںکے خلاف قانونی چارہ جوئی کا مقدمہ چلاکر خلاف ٹھوس کاروائی شروع نہیں کی ہے۔مظاہرین نے کہا"ہم متاثرہ کے لئے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں اور ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں"۔ایس ایس پی راجوری چندن کوہلی بعد میں موقع پرپہنچ گئے اور احتجاج کو پرسکون کیا اور مظاہرین کو مطلع کیا کہ راجوری پولیس اسٹیشن میں پہلے سے ایک ایف آئی آر درج ہے اور اس معاملے کی تحقیقات جاری ہے جس میں کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے معاملے کی تیزرفتاری سے تحقیقات کے لئے ایس آئی ٹی بھی تشکیل دی ہے اور اس کیس کی قانونی کارروائی پوری رفتار سے جاری ہے۔ ایس ایس پی کی یقین دہانی پر مظاہرین نے احتجاج ختم کردیا۔