خاتون پرنسل اور ٹیچر ہلاک

۔  2021میں ابتک 28شہریوں کو ہلاک کیا گیا، 5کا تعلق اقلیتی فرقے سے

 
سرینگر//شہر سرینگر کے سنگم عید گاہ علاقے میں اسلحہ برداروں نے گورنمنٹ ہائر سکنڈری سکول میں داخل ہو کر یہاں تعینات 2سکول اساتذہ پر فائرنگ کر کے ہلاک کردیا۔مہلوکین میں خاتون سکول پرنسپل بھی شامل ہے۔گزشتہ72گھنٹوں کے دوران 5عام شہری ہلاکتیں ہوئیں جبکہ گزشتہ6 دنوں میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد7 تک پہنچ گئی ہے، جن میں اقلیتوں فرقے سے وابستہ4 افراد بھی شامل ہیں۔امسال ابتک وادی میں 28شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں جن میں 5افراد کا تعلق اقلیتی فرقے سے ہے۔

واقعہ کیسے ہوا؟

منگل کی شاممعروف دوا فروش مکھن لال بندرو ، بہاری گول گپے فروخت کرنے والے مزدور اور حاجن میں سومو سٹینڈ صدر کی ہلاکتوں کے تیسرے روز شہر سرینگر کے عید گاہ سنگم علاقے میں اسلحہ برداروں نے ایک سکھ اور کشمیری ہندو ٹیچر کو اسکول احاطے میں ہی ابدی نیندسلا دیا۔پولیس بیان کے مطابق صبح ساڑھے 11بجے پولیس کو اطلاع ملی کہ سنگم عید گاہ میںایک سرکاری سکول کے عملے پر فائرنگ کی گئی چنانچہ ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ، آئی جی پی وجے کمار، آئی جی سی آر پی ایف مس چارو سنہا اور دیگر سینئر پولیس و فورسز افسران یہاں پہنچ گئے۔بیان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دہشت گردوں نے گورنمنٹ بائز ہائر سکنڈری سکول سنگم کی ایک پرنسپل اور ایک ٹیچر پر فائرنگ کی ہے۔انکی شناخت سپندر کور( پرنسپل) ساکن رینگی پورہ بیروہ حال آلوچی باغ اور دیپک چاند( ٹیچر) ساکن باغ مہتاب حال جموں کے بطور ہوئی۔اس واقعہ میں دونوں کو گہری چوٹیں آئیں اور انہیں اسپتال لیجایا گیا لیکن دونوں زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھے۔پولیس نے کیس رجسٹر کر کے تحقیقات شروع کی ہت اور واقعہ کے بارے میں ہر ایک پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے۔دریں اثناء ان ہلاکتوں کے بعد وادی میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ ہلاکتیں معروف کمسٹ مکھن لا ل بندرو کی ہلاکت کے تیسرے روز بعد ہوئی ہے ۔خیال رہے کہ وادی کشمیر میں صرف3روز کے دوران5عام شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔اس واقعے کے بعد پولیس اور فوج کے اعلیٰ افسران نے جائے واردات پر پہنچے اور حالات کا جائزہ لیا ۔ شہری ہلاکتوں کے بعدوادی میں سیکورٹی ہائی الرٹ کی گئی ہے ۔ 
28ہلاکتیں
دریں اثناء انسپکٹر جنرل پولیس کے بیان کے مطابق’’سال 2021 کے دوران اب تک 28 شہری دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں‘‘۔ 28 میں سے 5 افراد مقامی ہندو/سکھ برادری اور 2 غیر مقامی ہندو مزدور ہیں۔ تمام تنظیموں خصوصاً ان کی قیادتوں کی بڑی تعداد میں ہلاکت ، ان کے معاون ڈھانچے کی تباہی اور امن و امان کی مسلسل اور موثر دیکھ بھال کی وجہ سے ، دہشت گردوں کے ہینڈلرز نے مایوس ہو کر اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور غیر مسلح پولیس اہلکاروں ، معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ خواتین سمیت اقلیتی برادری کے سیاستدان اور اب معصوم شہری۔ ایسے تمام معاملات میں دہشت گرد پستول استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ کارروائیاں نئے بھرتی ہونے والے دہشت گردوں یا وہ لوگ کرتے ہیں جو دہشت گرد کے درجے میں شامل ہونے والے ہیں۔ کچھ معاملات میں ، OGWs براہ راست ملوث پائے گئے ہیں۔ پولیس سخت محنت کر رہی ہے اور ہم ایسے تمام پارٹ ٹائم/ہائبرڈ دہشت گردوں کی شناخت کر رہے ہیں اور ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔ ہمیں کئی سراغ ملے ہیں اور ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ ہم سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر آپریشن بھی شروع کر رہے ہیں۔ ہم عام لوگوں خصوصا ً اقلیتی برادریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ گھبرائیں نہیں، ہم امن اور محفوظ ماحول کو برقرار رکھتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
 
 

فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کی کوشش

 مقامی مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش : دلباغ سنگھ

یو این آئی
 
سرینگر//جموں وکشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ کا کہناہے کہ وادی کشمیر میں عام شہریوں کی ہلاکتیں مقامی مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی یہ کارروائیاں فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کیلئے انجام دی جا رہی ہیں تاکہ کشمیر کی دیرینہ آپسی بھائی چارے کی روایت کو ٹھیس پہنچائی جائے ۔ان کا ساتھ ہی کہنا تھا کہ سرینگر پولیس کو پہلے ہونے والی شہری ہلاکتوں کے بارے میں کافی سراغ مل گئے ہیں اور مرتکبین کو بہت جلد بے نقاب کیا جائے گا۔موصوف پولیس سربراہ  بائز ہائر سکنڈری اسکول عیدگاہ کے باہر نامہ نگاروں سے بات چیت کررہے تھے۔ سنگھ نے بتایا کہ پچھلے کچھ دنوں سے عام شہریوں ،جو عوام کی خدمت کر رہے ہیں، کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ دہشت کا ماحول قائم کیا جاسکے ۔انہوں نے کہا’’عام شہریوں کی ہلاکتوں کی ان کارروائیوں کو فرقہ وارنہ فساد کا رنگ دینے کیلئے انجام دیا جا رہا ہے تاکہ یہاں کے دیرینہ آپسی بھائی چارے کو ٹھیس پہنچائی جائے ‘‘۔ان کا کہنا تھا’’ یہ ایک سازش ہے جس کے تحت یہاں کے بھائی چارے کی روایت کو ختم کرنے اور مقامی مسلمانوں کو بد نام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ‘‘۔ پولیس سربراہ نے کہا ’’پاکستان میں بیٹھی ایجنسیوں کے اشاروں پر یہ کا رر وائیاں انجام دی جا رہی ہیں تاہم ہم سب مل کر ان کو ناکام بنا دیں گے‘‘ ۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا’’اسکول کا عملہ صدمے میں ہے اور ہم نے ان کے ساتھ بات کی‘‘۔قابل ذکر ہے کہ دو اساتذہ کی ہلاکت کا یہ واقعہ معروف کمسٹ مکھن لال بندرو کی نامعلوم اسلحہ برداروں کے ہاتھوں ہلاکت کے ایک روز بعد پیش آیا ۔ مکھن لال بندرو کو منگل کی شام اپنی دکان اقبال پارک کے باہر ابدی نیند سلا دیا گیا۔ اسی شام سرینگر کے لال بازار علاقے میں بہار کے پانی پوری بیچنے والے ایک شہری اور حاجن کے ایک سومو اسٹینڈ صدر کو بھی ہلاک کر دیا گیا تھا۔
 
 

منوج سنہا بندرو کے گھر گئے

وحشیانہ شہری ہلاکتوں کی مذمت

نیوز ڈیسک
 
سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے جمعرات کو اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے 2 اساتذہ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد حملے کے مجرموں کو مناسب جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اور ان کے سرپرست جموں وکشمیر میں امن خراب کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ منوج سنہا نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پرایک ٹویٹ میں کہا’’میں اپنے دو اساتذہ سپندر کور اور دیپک چند کے دہشت گردوں کے ہاتھوں وحشیانہ قتل کی شدید مذمت کرتا ہوں،معصوم لوگوں پر گھناؤنے دہشت گردانہ حملوں کے مجرموں کو مناسب جواب دیا جائے گا ‘‘۔انہوں نے آگے لکھا’’ دہشت گرد اور ان کے سرپرست جموں وکشمیر کے امن ، ترقی اور خوشحالی میں خلل ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوں گے، سوگوار خاندان ، دوستوں اور ساتھیوں سے میری گہری تعزیت‘‘۔دریں اثناء لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اندرا نگر سرینگر میں بندرو میڈیکیٹ کے گھر گئے اور اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔وہ کچھ دیر تک اہل خانہ کیساتھ رہے اور ان کی ڈھارس بندھائی۔ اس موقعہ پر انہوں نے کہا کہ حکومت قاتلوں کو سزا دینے کی کوئی کسر نہیں چھوڑے گی جنہوں نے کشمیری عوام کے ہمدرد کو ابدی نیند سلادیا جس نے 1990سے لیکر آج تک کشمیر میں زندگی بخش ادویات کو ہمیشہ میسر رکھا جب لوگ یہاں آنے اور قیام کرنے سے ڈرتے تھے۔
 
 
 

’ہلاکتیں بہیمانہ و انسانیت سوز ‘

ڈاکٹر فاروق ،عمر ، محبوبہ، سجاد ، بخاری، تاریگامی

بلال فرقانی
 
سرینگر// نیشنل کانفرنس صدرڈاکٹر فاروق عبداللہ اور نائب صدر عمر عبداللہ نے ٹیچروں کی ہلاکت کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے اہل خانہ کیساتھ دلی تعزیت کا اظہار کیا۔عمر نے ٹویٹ میں کہا’’ سرینگر سے ایک اور صدمے کی خبر آرہی ہے،ایک اور ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ، اس وقت عیدگاہ کے سرکاری سکول میں دو ٹیچروں کا قتل، دہشت گردی کی انسانیت سوز کارروائی کیلئے مذمت کے الفاظ کافی نہیں ہیں،لیکن میری دونوں مہلوکین کیلئے دعا ہے‘‘۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا’’ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال انتہائی پریشان کن ہے ،جہاں اب  اقلیتی فرقہ تازہ ٹارگٹ ہے‘‘۔ان کا مزید کہنا تھاکہ حکومت ہند کے نیا کشمیر بنانے کے دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں‘‘۔محبوبہ کا کہنا ہے’’ کشمیر بھاجپا کیلئے دودھ دینے والی گائے ہے، جسے وہ سیاسی مقاصد حا صل کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں‘‘۔ ان (حکومت ہند) کا واحد مقصدکشمیر کو اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے استعمال کرنا ہے۔اپنی پارٹی صدر سید الطاف بخاری نے کہا کہ یہ بزدلی اور غیر انسانیت کا مظاہرہ ہے۔ حکومت کو انسانیت کے خلاف اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وہ اذیت اور درد جس سے متاثرین کے خاندان اب گزر رہے ہوں گے، ناقابل بیان ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس بے ہودہ تشدد کی کوئی انتہا نہیں ہے کیونکہ یہاں تک کہ خواتین کو بھی نہیں بخشا جا رہا ہے۔ ان سفاکانہ ہلاکتوںکا کوئی جواز نہیں دیاجاسکتا۔سی پی آئی ایم رہنما محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ دو سکول اساتذہ کا قتل اور48گھنٹوں سے بھی کم وقت میں تین شہریوں کی  الگ الگ واقعات میں گولیاں مار کر ہلاکت انتہائی بدقسمتی اور افسوسناک ہے اور اس طرح کے وحشیانہ واقعات کی ایک مہذب معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس طرح کے وحشیانہ قتل معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں اور کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہو سکتے۔ سیاسی ، سماجی ، مذہبی اور دیگر تنظیموں سمیت پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ آگے آئیں اور ایک آواز میں ایسے وحشیانہ واقعات کی مذمت کریں۔ بے گناہوں کا خون بہانا ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔پیپلز کانفرنس چیئر مین سجاد لون نے اپنے ٹیوٹ میں کہا کہ ایک اور بزدلانہ کارروائی ہوئی ہے، دو ٹیچروں تو ہلاک کیا گیا‘‘۔ انہوں نے مزید کہا’’یہ بات ذہن نشین کرنی چاہیے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے،مسلمانوں کو بھی ہلاک کیا جارہا ہے، میرے اپنے کنبے میں ہلاکت ہوئی ہے،یہایک اور دیوانگی کا عمل ہے‘‘
 
 

سیکورٹی ایجنسیاں کہاں ہیں :اشوک کول

یو این آئی
 
سرینگر// بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسلحہ برداروں کے ہاتھوں شہری ہلاکتوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بد قسمتی سے سیکورٹی ایجنسیاں کشمیر میں ایسے واقعات کی روک تھام کرنے میں ناکام ہوئی ہیں۔ جنرل سکریٹری ( آرگنائزیشنز) اشوک کول نے ایک بیان میں کہا’’بدقسمتی سے سیکورٹی ایجنسیاں وادی خاص کر سرینگر میں ایسے واقعات کو روکنے میں ناکام ہوئی ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ یہ واضح طور پر سیکورٹی خامی ہے کیونکہ وادی میں گذشتہ پانچ دنوں کے دوران سات شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ان کا بیان میں سوالیہ انداز میں کہنا تھا’’ہماری پولیس اور ایجنسیاں عام شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کیوں ناکام ہوئی ہیں‘‘۔جنرل سکریٹری نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے سیکورٹی بند وبست کو مزید مستحکم کریں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سرینگر پر سیکورٹی خطرہ منڈلا رہا ہے جو وادی میں اس سے پہلے نہیں تھا۔
 
 

اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہماری قومی ذمہ داری: نقوی

ارشاد احمد
 
بڈگام//مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کا کہنا ہے کہ اقلیتی فرقے سے وابستہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔   نقوی نے سیاحتی مقام دودھ پتھری کے دورے کے دوران نامہ نگاروں کیساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ سرینگر میں اقلیتی فرقے سے وابستہ2 اساتذہ کی ہلاکت انتہائی افسوس ناک ہے۔ انہوںنے کہاکہ اقلیتی فرقوں کو تحفظ فراہم کرنا ہماری قومی ذمہ داری ہے جو لوگ بھی اقلیتی فرقے سے وابستہ شہریوں کی ہلاکت میں ملوث ہیں ان کو چوہے کی بل سے نکال کر حساب کتاب لیا جائے گا۔ان کا کہنا تھاکہ جو لوگ  دہشت گردی کے راستے پر چل کر اس طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔موصوف وزیر نے کہا کہ آزدی کے بعد جو ترقی جموں وکشمیر میں ہونی چاہئے تھی وہ نہیں ہوئی ہے تاہم ہم لوگوں کی بات سنتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ ترقی کے بارے میں حکومت کیا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔
 
 

بے گناہوں کی ہلاکتیں غیر اسلامی فعل:مفتی اعظم 

نیوز ڈیسک
 
سرینگر//جموںکشمیر کے مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام نے وادی میں عام شہریوں کے بے گناہ قتل پر اپنے صدمے اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ ایک مخصوص فرقے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مذہب بے گناہ شہریوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا اور یہ  ہمیںکہیں نہیں لے جا سکتا ۔مفتی ناصر الاسلام  نے گزشتہ چند دنوں میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام غیر مسلح شخص پر حملے کی ممانعت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی مسلم برادری دکھ اور صدمے کی اس گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی کشمیر کے فرقہ وارانہ تانے بانے کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو کہ کئی دہائیوں سے برقرار ہے۔