خاتون ون ڈے ورلڈ کپ کے پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی

دبئی//اگرچہ میزبان ٹیم نیوزی لینڈ نے اومیکرون کے پیش نظر دو طرفہ سیریز کے میچوں کو منتقل کیا ہے ، لیکن خواتین کا ون ڈے ورلڈ کپ شیڈول کے مطابق آگے بڑھے گا۔ اومیکرون کے بڑھتے ہوئے انفیکشن کی وجہ سے اتوار کو ملک میں نئی پابندیاں لگائی گئیں۔ اس مقابلے کی چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈریا نیلسن نے ٹورنامنٹ کے آغاز سے 35 دن پہلے اس بات کی تصدیق کی۔ نیلسن نے جمعہ کو آئی سی سی کے ذریعہ منعقدہ ایک ورچوئل میڈیا راونڈ ٹیبل میں کہا، "جیسا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں، ہم نے گزشتہ 12 مہینوں میں متعدد ہنگامی منصوبوں پرغورکیا۔ فی الحال ہمارا خیال چھ مقامات کے ساتھ اس شیڈول کو برقرارکھنے کا ہے ۔ انہوں نے کہا، "ہم ان مقامات کے درمیان سفر کے دوران جتنا ممکن ہوسکے اتنے ہنگامی اقدامات تلاش کر رہے ہیں۔ نیوزی لینڈ میں (ملٹی ٹیم کرکٹ ٹورنامنٹ کی میزبانی میں) ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہمارے میدان برصغیر ہند یایوکے میدانوں سے بہت مختلف ہیں۔ ہمارے پاس گراس بینک اور چھوٹے اسٹیڈیم ہیں، جن میں ہوٹل نہیں ہیں۔ اس لیے یہ حالیہ منعقدہ کرکٹ سے ایک بہت ہی الگ ماحول ہے ۔" آٹھ ٹیموں پر مشتمل یہ ٹورنامنٹ ماؤنٹ مونگنوئی، ہیملٹن، ویلنگٹن، آکلینڈ، ڈیونیڈن اور کرائسٹ چرچ میں کھیلا جائے گا۔ جب کہ اس وقت نیوزی لینڈ میں تمام میچز (ملکی اور بین الاقوامی) بند دروازوں کے پیچھے کھیلے جا رہے ہیں، خواتین ورلڈ کپ کی آرگنائزنگ کمیٹی نے تماشائیوں کے لیے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں۔ شمالی اور جنوبی دونوں جزیروں پر کورونا کے کیسز سامنے آنے کے بعد نیوزی لینڈ میں اتوار رات گئے نئی پابندیاں نافذ کی گئیں۔ فی الحال صورتحال لاک ڈاؤن تک نہیں پہنچی ہے لیکن کسی بھی تقریب میں صرف 100 افراد کو ہی آنے کی اجازت ہے ۔ ملک میں داخل ہونے والے تمام افراد کو لازمی طور پر 10 دن تک حکومت کے زیر انتظام قرنطینہ اور تنہائی کی سہولیات میں رہنا ضروری ہے ۔ 26 جنوری کو، ہندوستان نیوزی لینڈ پہنچنے والی پہلی شرکت کرنے والی ٹیم بنی۔ نیلسن نے مزید کہا، "ایونٹ کے لحاظ سے کھلاڑیوں کے لیے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے کیونکہ ہم اسے محفوظ ٹورنامنٹ بنانے کے لئے آئی سی سی کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کر رہے تھے ۔ بنیادی طوریہ تبدیلیاں اسٹیڈیم کے اندر موجود تماشائیوں سے متعلق ہیں۔" انہوں نے کہا، "نیوزی لینڈ میں اس وقت صرف 100 لوگوں کو ایک تقریب میں شرکت کی اجازت ہے ۔ فی الحال ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ ہم ان تمام اسٹیڈیم میں 100 لوگوں کے کتنے گروپس کو جگہ دے سکتے ہیں۔ آخر کار ہمارا پیغام ایک ہی ہے ۔ ہم ان کھلاڑیوں کے لیے پرفارم کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم تیار کرنا چاہتے ہیں۔"یواین آئی