خاتونِ خاندانی

 چہرے پر کھیلتی ہے مستی بھری جوانی
گویا چمن میں آئی پھولوں کی کوئی رانی
 
ہونٹوں پر ہے تبسم، ہلکا سا ہے ترنم
نغمات میں ہے پنہاں الفت کی ایک کہانی
 
بل کھارہی ہیں دونوں جانب سے ناگنیں سی
زلفیں ہیں یا ہوا میں آفاتِ ناگہانی
 
کیا چال ڈھال اسکی، گائوں کی یہ پری ہے
مزدور کی ہے بیٹی یا حورِ آسمانی
 
مغرب کے فیشنوں سے رغبت نہیں ہے اسکو
یہ زیبِ کاشمیری، خاتونِ خاندانی
 
انصاف کی نظر سے فیروزؔ اسکو دیکھو
اس پیکرِ وفا کا کوئی نہیں ہے ثانی
 
 بجہامہ اُوڑی کشمیر
9622695632