حیدرپورہ ہلاکتیں | عدالتی تحقیقات کی جائے: حکیم

سرینگر//پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ سربراہ حکیم محمد یاسین نے کہا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی طرف سے حیدرپورہ جھڑپ کے بارے میں مجسٹریٹ انکوائری کا اعلان اگرچہ اچھی بات ہے تاہم اس واقعے کے بارے میں جانچ کو غیر جانبدارانہ اور شفاف بنانے کیلئے مذکورہ دلخراش واقعہ کی عدالتی تحقیقات لازمی ہے ۔ایک بیان میں حکیم یاسین نے حیدرپورہ جھڑپ کے بارے میں اصلی حقائق جاننے اور قصور واروں کو کڑی سے کڑی سزا دینے کیلئے ہائی کورٹ جج کے ذریعے عدالتی تحقیقات کروانے کی مانگ کرتے ہوئے مارے گئے عام شہریوں کی لاشوں کو فوری طور ان کے گھر والوں کے سپرد کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ ان کی تجہیز وتکفین کی جا سکے۔انہوں نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ جموں وکشمیر میں جھڑپوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ بند کروائیں کیونکہ اس وجہ سے عام لوگوں میں خوف و دہشت اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔حکیم یاسین نے کشمیر کی تمام سماجی وسیاسی تنظیموں سے پر زور اپیل کی ہے کہ وہ انفرادی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھ کر متحد طور کشمیر میں جاری خون خرابے کو بند کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اب تک معصوم انسانوں کا کافی خون بہہ چکا ہے اور اب اس سلسلہ کو بند کیا جانا چاہیے۔۔
 

پروفیسرسوز کا ایل جی کے نام مکتوب | ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا گیا

سر ینگر / /سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا ہے کہ’’میں نے یونین ٹریٹری کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو لکھئے ہوئے خط میں مطالبہ کیا کہ مقامی لوگوں کی صحیح رائے کے مطابق حالیہ حیدر پورہ تصادم ، جس میں بے گناہ لوگوں کو قتل کیا گیا ہے،کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا‘‘۔پروفیسر سوز نے کہاکہ ’’میں نے اس بارے میں افسوس کا اظہار کیا کہ مقامی ایڈمنسٹریشن نے ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا اور معصوم شہریوں یعنی الطاف احمد بٹ، ڈاکٹر مدثر گل اور عامر احمد کو قتل کیا گیا،میں نے لیفٹیننٹ گورنر کو پوری معلومات فراہم کی اور بتایا کہ اس قتل و غارت کو روکا جا سکتا تھا، اگر انتظامیہ نے عوامی مفاد کو زیر نظر رکھا ہوتا‘‘۔انہوںنے کہاکہ ’’میں نے لیفٹیننٹ گورنر کو اعلیٰ سطحی تحقیقات کے علاوہ ان نعشوں کو قرابت داروں کو سپرد کرنے کی پر زور وکالت کی۔‘
 
 
 

مجسٹریل تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے | مہلوک تاجر الطاف بٹ کے بھائی کامطالبہ 

سرینگر//بلال فرقانی// مہلوک تاجر الطاف احمدبٹ کے بھائی عبدالمجیدبٹ نے کہاکہ ہم مجسٹریل تحقیقات کا حکم دینے پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے شکرگزارہیں۔ انہوںنے کہا’’امید ہے کہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے، میرے بھائی کے بچے اپنے والد کی آخری جھلک دیکھنا چاہتے ہیں‘‘۔ عبدالمجید بٹ نے کہا کہ وہ پر امید ہیں کہ ایل جی کی نگرانی میں سچائی سامنے آئے گی۔
 
 
 

احتجاجی لواحقین کوپولیس نے |  رات کے دوران زبردستی ہٹایا

 سرینگر//بلال فرقانی// تین روز قبل حیدر پورہ میں مارے گئے 2 شہریوں کے لواحقین کو پولیس نے پریس انکلیو  میں دھرنا دینے والے احتجاجی مقام سے رات کے دوران زبردستی ہٹا یا۔ مہلوکین الطاف احمدبٹ اور ڈاکٹرمدثر گل کے اہل خانہ نے بدھ کی شام تک احتجاج جاری رکھا جسکے بعد پولیس نے مظاہرین کو زبردستی یہاں سے ہٹا کر احتیاطی طور پرحراست میں لیاتاہم بعد میں رہا کر دیا گیا۔دنوں شہریوں کے لواحقین نے مناسب تدفین کیلئے لاشیں واپس کرنے کے مطالبے کولیکر احتجاجی دھرنا دیا ہواتھااور وہ بدھ کی صبح سے ہی دھرنے پر تھے اورشام کے وقت انہوں نے کینڈل لائٹ احتجاج بھی کیا۔تاہم، پولیس نے آدھی رات کے قریب مظاہرین کو زبردستی وہاں سے ہٹا دیا۔  پولیس اہلکاروں کی آمد سے قبل ہی علاقے کو بجلی کی سپلائی منقطع کر دی گئی اور پولیس نے متعدد مظاہرین کو گاڑیوں میں بھر کر حراست میں لے لیا۔تاہم  بعد میں انہیںرہا کر دیا گیا۔