حیاتِ رحیم۔علم ِمعرفت سے لبریز!

زیر تبصرہ کتاب ’’ حیات رحیم‘‘ دراصل کشمیر کے  ایک صاحب نسبت بزرگ، روحانی پیشوا ، وقت کے ولی کامل اور مرد حق حضرت شاہ عبدالرحیم قلندر، صفاپوری کشمیری قدس اللہ سرہ العلی کی چار ابواب پر مشتمل حیات و خدمات، نجی کوائف و حالات، قلندرانہ زندگی کے معمولات ، رشد و ہدایت، کشف و کرامات اور تعلیمات عالیہ پر مبنی معتبر مستند سوانح حیات ہے، جس میں قدرتی طور پر ایک صدی قبل کشمیر کی تہذیب و ثقافت اور سیاسی ابتری و زبوں حالی کی بھی نقاب کشائی کی گئی ہے اور جسے پڑھ کر بلا مبالغہ اُس دور کی غربت و مفلسی بے بسی اور بے کسی کی جو تصویر کشمیر کے نامور فرزند علامہ اقبالؒ نے کئی دہائیاں قبل اپنے ان اشعار میں کیا ہے ایک طویل زمانہ گزرنے کے باوجود آج بھی جموںوکشمیر کی صورتحال کی اس سے بہتر عکاسی ممکن نہیں ہے ۔اقبال نے کہا تھا ؎
پنجہ ظلم وجہالت نے برا حال کیا
بن کے مقراض ہمیں بے پر و بال کیا
توڑ اس دست جفاکیش کو یارب جس نے
روح آزادی کشمیر پامال کیا
 ’’حیات رحیم ‘‘ کے مصنف اور مولف خود حضرت شاہ عبدالرحیم قلندر کے مسترشدخاص اور کشمیر کے ہردلعزیز اور انقلابی شاعر پیرزادہ غلام احمد مہجور ہیں جنہوں نے آج سے کم و بیش ایک صدی پیشتر وسائل اور سہولیات کی کمی اور فقدان کے باوجود انتہائی غیر معمولی حالات میں اس تصنیف لطیف کو مرتب اور شائع کرکے اہل کشمیرخاص طور پر حضرت شیخ قلندر ؒ کے مریدین ، معتقدین اور منتسبین کیلئے پیش فرمایا تھا ۔اس اہم تاریخی، روحانی اور عرفانی کتاب کی اہمیت، افادیت اور ضرورت کا اندازہ دانائے راز شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کے اس مکتوب گرامی سے لگایا جاسکتا ہے جسے شاعر مشرق نے مطالعے کے بعدشاعر کشمیر کو ارسال فرمایا تھا ،اس تاریخی نوعیت کے حامل مختصر اور دستاویزی مکتوب گرامی کو کتاب کے اس ایڈیشن کے آغاز میں ہی تبرکاً و تیمنناً شامل کیا گیا ہے۔
دراصل دین اسلام جو دوسرے الفاظ میں دین انسانیت ہے ۔حضرت حق جل مجدہٗ نے روز اول سے ہی ہر دور میں انسانیت کی ہدایت اورصلاح و فلاح کیلئے کتاب اللہ کے ساتھ ساتھ رجال اللہ کا بھی اہتمام فرمایا۔ چنانچہ حضرت نبی آخر الزماں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دین اسلام کی تکمیل کے بعد اس نبویؐ مشن کو صحابہ کرامؓ، تابعین، تبع تابعین کے بعد اولیائے اسلام ، بزرگان دین اور علمائے حق آگے بڑھاتے رہے ہیں۔ 
خطہ کشمیر ، الحمد للہ روز اول سے اس لحاظ سے منفرد مقام اور اہمیت کا حامل رہا ہے جہاں دین اسلام کی آمد کے ساتھ ہی ہر دور اور ہر صدی میں ایک سے بڑھ کر ایک اہل اللہ پیدا ہوتے رہے، جنہو ں نے اپنے نفس گرم، محنت و ریاضت اور مشقت و مجاہدہ کے ذریعےدین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے ساتھ ساتھ تصوف اور سلوک کے میدان میں بھی نمایاں  خدمات انجام دیئے ہیں اور حضرت شاہ عبدالرحیم صاحبؒ اسی سلسلے زریں کی ایک روشن کڑی ہیں۔پورے سوسال کے بعد جب یہ کتاب پوری شان ، بان اور آن کے ساتھ دوبارہ منظر عام پر لائی گئی ہے تو کتاب کے آغاز میں نہ صرف جموںوکشمیر بلکہ برصغیر کے ہمارے نامور عالم دین، اہل علم و قلم ،دیدہ ور مصنف اورتاریخ و ادبیات محترم مولانا شوکت حسین کینگ صاحب نے کتا ب کے حوالے سے جو مفصل مدلل اور مسلسل مقدمہ قلمبند فرمایا ہے، میں سمجھتا ہوں وہ حرفِ آخر ہے، جس میں ۣ’’حیات رحیم ‘‘کے تمام مندرجات کا ایک جامع احاطہ کرکے تصوف اور سلوک کے تئیں اشکالات اور شبہات کو بھی دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس سے قبل شاعر کشمیر کےعلمی و ادبی جانشین خاندانی روایات کے حامل محترم پیرزادہ ابدال مہجور نے بین الاقوامی معیار کے مطابق کتاب کو کمپیوٹرازڈ کراکے شائع کرنے کے علاوہ جوفکرانگیز بلکہ درد انگیز حرف آغاز قلمبند کیا ہے ،اُسے پڑھ کر تو مجھ جیسے شقی القلب کی آنکھیں بھی بار بار نم ہو گئیں۔ 
کتاب پر مشہور نقاد ، سرکردہ ادیب اور بزرگ مفکرجناب محمد یوسف ٹینگ کا تجزیاتی مطالعہ خاصے کی چیز ہے۔ جناب ڈاکٹر شاداب ارشد کے قلم سے مہجور و نالہ مہجور میری دیدگاہ سے مفصل تشریح و تبصرہ اور منشور بانہالی کے تاثرات بھی شامل ہیں۔ 
بلا شبہ حیات رحیم اپنے موضوع پر گرانقدر تصنیف اور سرمئہ بصیرت تو ہے ہی لیکن مجموعی طور پر 294 صفحات پر مشتمل اس ضخیم کتاب میںجو تاریخی اور معلوماتی تحریریں اور حقائق جمع ہو گئے ہیں ان سے کتاب کی اہمیت مزید دوچند ہو گئی ہے۔ملت کشمیر خاص طور پر ایسے دور میں جبکہ روحانی، انسانی اور اخلاقی قدریں مادیت کے غلبہ اور شدید کشمکش کی وجہ سے شکست سے ریخت سے دوچار ہیں تصوف و سلوک میں دلچسپی رکھنے والے حضرات کیلئے’’ حیات رحیم‘‘ ایک نعمت غیر مترقبہ ہے ۔
تصوف کیا ہے؟ اس مرحلے پر یاد آرہا ہے کہ مورخ اسلام اور ممتاز سیرت نگار علامہ سید سلیمان ندوی ؒنے حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒسے ایک مرحلے پرپوچھا کہ حضرت تصوف کیا ہے؟ فرمایا اپنے آپ کو مٹا دینے کا دوسرا نام تصوف ہے ؟
حضرت دین میں اسکا ثبوت کیا ہے؟ فرمایا تم چند دن میرے پاس رہو شرط یہ ہے کہ زبان نہیں کھولنی ہے ۔ میںنے ہاں کردی ۔ ابھی دو دن نہیں گزرے تھے کہ حضرت کی صحبت اور توجہات کا یہ عالم تھا کہ میرے سارے اشکالات دور ہو گئے اور میں نے اپنے آپ کو بیعت کیلئے پیش کردیا اور جب واپس لکھنو آگئے تو ندوۃ العلما کے اہم اساتذہ اور لوگوں نے کہا کہ یہ کیا کر آئے، وہ بوریا نشین سا بندہ ہے، آپ نے ان کے ساتھ نسبت قائم کرلی۔ آپ تو خود عالمی شخصیت کے مالک ہیں ۔ آپ نے کہا کہ آپ لوگ تو مجھے علامہ کہہ رہے ہیں ۔ مجھے حضرت تھانوی ؒ کے پاس جاکر اپنی جہالت کا اندازہ ہوا،دراصل اپنے کو مٹا دینے کا نام ہی تصوف ہے ۔   ؎
مٹادے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانا خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے
اور بقول مولانا روم ؒ  ؎
تصوف بجز خدمت خلق نیست
بہ تسبیح و سجادہ و دلق نیست
پیرزادہ ـغلا م احمد مہجور مرحوم نے پوری زندگی اپنے پیر مرشد حضرت شاہ عبدالرحیم قلندر صفاپوری سے فیو ض و برکات اٹھانے کی کوشش کی اور اُسی کے نتیجے میں حیات رحیم منظر عام پر آسکا۔شاعر کشمیر پیرزادہ غلام احمد مہجور کی زندگی کی کئی جہات ہیں۔ انہوں نے جہاں اپنی انقلابی شاعری سے اہل کشمیر کو مالا مال کیا ہے وہیں مرحوم نے کشمیر کی اولین تعلیم گاہ نصرۃ الاسلام میں بحیثیت استاد اپنی خدمات انجام دی ہیں اور انجمن کے 1905  کےسالانہ جلسے میں آپ نے جو فارسی نظم پیش کرکے سامعین سے داد تحسین حاصل کی ہے وہ بھی حیات رحیم کی زینت ہے۔
حیات رحیم میں حضرت شاہ عبدالرحیم ؒ کی آخری آرام گاہ ، رہائشی مکان، کلاہ مبارک ،جائے نماز، ذاتی عصااور حضرت سے جڑی دیگر تاریخی مقامات کی کئی یادگارتصاویر بھی شامل کی گئیں ہیں۔کتاب کے محاسن اور خوبیوں پر مختصر سے وقت میں مفصل تبصرہ تو ممکن نہیں ہے تاہم یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ کمپیوٹر کتابت کے بعد پروف ریڈنگ کے حوالے سے کئی سنگین کوتاہیاں ہو گئی ہیں مثلاً قرآن حکیم کی آیت کریمہ ’’وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ‘‘ کی جگہ’’ وَلَقَدْ كَرَمْنَا بَنِي آدَمَ‘‘ اور اسی طرح حدیث پاک’’ کُلُّھُمْ اِخْوَۃٌ‘‘ کی جگہ’’ کُلُّھُمْ اِخْوَۃُ‘‘، قلت کی جگہ قلعت، سماعت کی جگہ سمات وغیرہ وغیرہ کئی فحش غلطیاں رہ گئی ہیں ،توقع ہے کہ آئندہ ایڈیشن میں اسکی اصلاح کر دی جائیگی۔ گوکہ انٹرنیٹ اور جدید سہولیات کے تناظر میں اب کتابوں خاص طور پر دینی ، علمی ، تحقیقی اور اصلاحی کتابوں کے پڑھنے کا رجحان کم سے کم ہوتا جارہا ہے تاہم یقین ہے کہ ’’ حیات رحیم‘‘ کو ہماری نئی نسل خاص طور پر دین و تصوف کے ساتھ دلچسپی رکھنے والے افراد اور شخصیات ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔ انشا ء اللہ
کتاب کی قیمت650 ہے ۔ ناشر جموںوکشمیر مہجور فائونڈیشن ہے اور کتاب کے ملنے کا پتہ ہے ۔ میزبان پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرس بٹہ مالو سرینگر
�������