حکومت ہند ایران کو ادائیگی کا بحران حل کرنے میں مصروف

نئی دہلی//ایران پر امریکی پابندیوں کے پیش نظر مرکزی حکومت ہندوستانی برآمد کنندگان کی ادائیگی کے بحران کو حل کرنے میں مصروف ہے اور اس کے ساتھ ہی خام تیل درآمد کرنے کے دیگر متبادلات تلاش کیے جا رہے ہیں۔  وزارت تجارت کے ذرائع نے منگل کو بتایا کہ ایران پر امریکی پابندی لگنے اور امریکہ اور چین کی منڈیوں میں تحفظاتی اقدامات لاگو ہونے سے عالمی معیشت کے تازہ بحران کی طرف بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ اسی کے مد نظر مرکزی حکومت نے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔   ہندوستان دنیا میں خام تیل کا تیسرا سب بڑا درآمد کنندہ ملک ہے اور اس میں ایران کی سپلائی کا بڑا حصہ ہے ۔ امریکی پابندیوں کے بعد ہندوستانی کاروباریوں کے سامنے ایران کے ذریعے سامان کی خرید و فروخت تقریبا ناممکن ہو گئی ہے ۔ نئے سودے نہیں ہو رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ ادائیگی کا بحران ہے ۔ تاہم، ہندوستان اور ایران باہمی تجارت جاری رکھنے کے لئے مسلسل بات چیت کر رہے ہیں۔ ایران کے ساتھ پرانے معاہدے نمٹانے کیلئے نومبر تک کا وقت مقرر کیا گیا ہے ۔   ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے لیے مقامی کرنسیوں کے استعمال کے امکانات تلاش کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اشیاء کے لین دین پر بھی غور ہو رہا ہے ۔ متعلقہ حکام کو امید ہے کہ وقت رہتے ہی ادائیگی کے بحران کا حل نکال لیا جائے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت حسب سابق جاری رہے گی۔ دونوں ممالک کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ ایران سے خام تیل کی درآمد پر انحصار بھی کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ خام تیل برآمد کرنے والے دیگرممالک سے بات چیت کی جا رہی ہے ۔ اس سلسلے میں سعودی عرب کے ساتھ خاص طور پر بات چیت چل رہی ہے اور مثبت نتائج کی توقع ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودي نے کل سعودی عرب کے وزیر توانائی سلطان احمد سے ملاقات کی اور خام تیل کی درآمد بڑھانے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا۔ میٹنگ میں روس اور دیگر ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے ۔ مرکز وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور تیل اور قدرتی گیس کے وزیر دھرمیندر پردھان نے بھی میٹنگ میں حصہ لیا۔یو این آئی ۔