حکومت کشمیر میں پیلٹ گن کا استعمال فوری طور بند کرے: ہیومن رائٹس واچ

سرینگر// انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے حکام سے کہا ہے کہ وہ جموں وکشمیر میں ہجوم کو قابو کرنے کے لئے پیلٹ گن کے استعمال سے اجتناب کرے۔تنظیم کا یہ بیان سری نگر میں محرم کے دوران  عزداروں کے جلوس پر سیکورٹی فورسز کی طرف سے پیلٹ گن کے استعمال کے بعد آیا ہے جس میں درجنوں عزادار زخمی ہوئے اور دسویں جماعت کا ایک طالب علم لگ بھگ بینائی سے محروم ہوگیا ہے۔ہیومن رائٹس واچ جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر میناکشی گنگولی نے اپنے ایک بیان میں کہا ،’’ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی طرف سے کشمیر میں بار بار شارٹ گن کے استعمال کے نتیجے میں مظاہرین اور راہگیروں کو شدید چوٹیں آتی ہیں‘‘۔انہوں نے کہا  حکام کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ ہجوم یہاں تک کہ پرتشدد مظاہروں کے خلاف اس ہتھیار کا استعمال کرنا، جس سے شدید چوٹیں لگتی ہیں، بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔موصوفہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ لیڈران، جو یہ دعوے کر رہے ہیں کہ ان کی پالیسیوں سے کشمیر میں لوگوں کی زندگیاں بہتر ہو رہی ہیں، سیکورٹی فورسز کی طرف سے لوگوں کو مارنے، بینائی سے محروم کرنے اور زخمی کرنے کو نظرانداز نہیں کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ ہجوم کو کنٹرول کرنے کی حکمت عملی پر نظر ثانی کر کے اس کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق تشکیل دیں۔موصوفہ نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران، جب سے حکام نے ہجوم پر قابو پانے کے لئے پیلٹ ’غیر مہلک‘ ہتھیار کے بطور استعمال کرنا شروع کیا، شارٹ گنوں کے ذریعے چلائے جانے والے چھروں سے کشمیر میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کئی آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوئے ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے،’’ حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ پیلٹ گن کا استعمال صرف وقت ضرورت ہی کرتے ہیں اور پرتشدد مظاہروں کے خلاف ہی کرتے ہیں تاہم بین الاقوامی قانون کے مطابق پرتشدد مظاہرین پر بھی پلٹ کے استعمال کی اجازت نہیں ہے‘‘۔موصوفہ نے بیان میں کہا ہے کہ کشمیر میں سیکورٹی فورسز کی طرف سے پلٹ کے استعمال سے لوگ زخمی ہی نہیں ہوئے ہیں بلکہ اموات بھی واقع ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا،’’اگرچہ کشمیر میں پیلٹ کے استعمال سے ہوئی اموات کا کوئی معیاری ڈاٹا ہمارے پاس موجود نہیں ہے لیکن وزارت امور داخلہ نے فروری 2018 میں پارلیمنٹ میں انکشاف کیا کہ سال 2015 سے 2017 تک کشمیر میں 17 افراد کی موت پیلٹ سے واقع ہوئی‘‘۔بیان میں کہا گیا کہ انڈیا سپنڈ کی ویب سائٹ کے مطابق کشمیر میں جولائی 2016 سے فروری 2019 تک پیلٹ کے استعمال سے 139 افراد بینائی سے محروم ہوئے ہیں۔بیان کے مطابق جموں وکشمیر کی اس کی وقت وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جنوری 2018 میں اسمبلی میں کہا تھا کہ جولائی 2016 سے فروری 2017 تک کشمیر میں پیلٹ کے استعمال سے 6 ہزار 2 سو 21 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 782 افراد کی آنکھیں زخمی ہوئی ہیں۔اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے دفتر برائے حقوق بشر نے کشمیر میں شارٹ گن جس کے ذریعے دھات کے چھرے فائر کئے جاتے ہیں، کو کشمیر میں استعمال کیا جانے والا خطرناک ترین ہتھیار قرار دیتے ہوئے ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لئے اس کے استعمال کی فوری روک کا مطالبہ کیا ہے۔