حکومت ٹیچر ریزرویشن بل پارلیمنٹ کی کمیٹی کے پاس بھیجے :اپوزیشن

نئی دہلی//اپوزیشن پارٹیوں نے مرکزی تعلیمی اداروں(ٹیچروں کے کیڈر میں ریزرویشن)بل ،2019 کو لانے میں حکومت پر جلدبازی کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ خامیوں کی وجہ سے اسے مستقل کمیٹی میں بھیجا جانا چاہئے ۔ لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے بل پر بحث کی شروعات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بل کی اصل روح کی حمایت کرتے ہیں،لیکن وہ اسے آرڈنینس کے راستے لانے کی مخالفت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ پیچیدہ معاملہ ہے ۔الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف حکومت اور یوجی سی سپریم کورٹ گئے تھے ،لیکن سپریم کورٹ نے بھی محکمے کو اکائی اماننے کے حق میں فیصلہ دیاتھا۔اس سلسلے میں نظر ثانی پٹیشن بھی خارج ہوچکی ہے ۔اس لئے ،حکومت کو جلد بازی میں بل پاس کرانے کی جگہ اسے پارلیمنٹ کی مستحکم کمیٹی کے پاس بھیجنا چاہئے جہاں اس کا پورا جائزہ لیا جائے گا۔ مسٹر چودھری نے الزام لگایا کہ حکومت ووٹ بینک کے لئے الیکشن کے اعلان سے ٹھیک پہلے 200پوائنٹ والے روسٹر سسٹم کو دوبارہ نافذ کرنے کے لئے آرڈنینس لے کر آئی تھی۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے دفترمیں جتنے بل لائے گئے ہیں ان میں 40فیصد آرڈنینس کے راستے لائے گئے ہیں،یعنی بل سے پہلے آرڈنینس لایا گیاہے تاکہ ایوان پر طے مدت میں جلد بازی میں اسے پاس کرنے کا دباؤ ہو۔ انہوں نے ملک میں اعلی تعلیم کی موجودہ حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے 200سب سے بہترین یونیورسٹیوں میں ایک بھی ہندوستانی نہیں ہے ۔تعلیم حاصل کر کے پاس ہونے والے طلبہ میں عملی صلاحیتوں اور علم کا فقدان ہوتا ہے اور وہ روزگار کے لائق نہیں ہوتے ۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ حال میں ریگولیٹری فریم اعلی تعلیم کی ترقی میں رکاوٹ ہے ۔اعلی تعلیمی اداروں میں ٹیچروں کے 35فیصد عہدے خالی ہیں۔صرف 10فیصد ادارے ہی تصدیق شدہ ہیں اور تصدیق شدہ اداروں میں بھی صرف 10فیصد کو ہی ‘اے پلس’ رینکنگ حاصل ہے ۔ دروڑ منیتر کشگم کے اے راجہ نے کہا کہ ریزرویشن کے انتظام سے کمزور طبقے کے لوگوں کو انصاف ملتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئین ساز اسمبلی میں ریزرویشن پر بحث 1951میں ہوئی تھی لیکن ان کے لیڈر ایم کرونا نیدھی نے اس سے پہلے ہی ریزرویشن کی بات کی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ریزرویشن کی بات 1880سے چلی آرہی ہے جب طبقوں کی تقسیم کرکے مدراس میں کمزور طبقے کے طلبہ کو خاص ترجیح دینے کی بات کی گئی تھی۔ مسٹر راجہ نے کہا کہ حکومت کو پہلے یہ بتانا چاہئے کہ اسے اس کے لئے آرڈنینس لانے کی ضرورت کیوں ہوئی۔یہ ادھورا بل ہے اور اس میں خامیاں ہیں اس لئے بل کو سلیکٹ کمیٹی کو بھیجاجانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ریزرویشن کے سلسلے میں سازش چل رہی ہے اس لئے شاید حکومت نے بل لانے سے پہلے اپوزیشن پارٹیوں کو اس کی کاپیاں بھی مہیا نہیں کرائی ہیں۔ ترنمول کانگریس کی پرتیما منڈل نے کہا کہ اس طرح کے معاملے میں سیاست نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی حکومت کو من مانی کرنی چاہئے ۔اسے یقینی بنانا چاہئے کہ یونیورسٹی کے احاطوں میں امتیازی سلوک نہ ہو۔ شیو سینا کے ونایک بی راؤت نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے حق کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں طلبہ کی کم تعداد کی وجہ سے کئی اسکول بند کئے جارہے ہیں۔ملک کے دیگر مقامات پر 20 سے کم طلبہ کی تعداد والے اسکول بند کئے جارہے ہیں۔انہوں نے اس ناانصافی بتایا ہے اور کہا کہ اس بل سے ٹیچروں کے سات ہزار عہدوں پر بھرتی کا راستہ کھلے گا۔ جنتا دل یو کے راجیو رنجن سنگھ نے بل کی حمایت کی اور کہا کہ حکومت کا تعلیم کے شعبہ میں یہ انقلابی قدم ہے ۔اس سے تقرریوں کی شروعات ہوگی اور روزگار کے مواقع کھلیں گے ۔بیجو جنتا دل کے بھرت ہری مہتاب نے کہا کہ بل لانے سے پہلے اس کے لئے آرڈنینس لایا گیاتھا۔انہوں نے کہا کہ جب سے یہ آرڈنینس لایاگیاتھا اس کے بعد سے اب تک کتنی تقرریاں ہوئیں حکومت کو اس کا جواب دینا چاہئے ۔