حکومت نے تمام حدیں پار کیں

سرینگر //مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں تہاڑ جیل میں مقید حریت رہنماؤں کے جوڈیشل ریمانڈ میں 17اکتوبر تک توسیع دینے، نیز این آئی اے کی جانب سے 60طلاب کو تحقیقات کے نام پر دہلی طلب کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے تمام حدیں پار کی ہیں، جس کے خلاف قیادت بڑی سنجیدگی کے ساتھ غوروخوض کرنے کے لئے تمام متعلقین سے صلاح مشورہ کرنے کے بعد ایک حکمت عملی مرتب کرے گی۔ قائدین نے الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، شاہد الاسلام، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، نعیم احمدخان اور فاروق احمد ڈار کی گرفتاری کو طول دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حریت کے سامنے یہاں کی حکومت سیاسی میدان میں بُری طرح ہار چکی ہے اور اب حکومت تحقیقاتی ایجنسی کو بطور جنگی ہتھیار استعمال میں لاکر بے بنیاد اور فرضی کیسوں کو بنیاد بناکر تہاڑ جیل میں بند حریت رہنماؤں کو سیاسی انتقام گیری کا نشانہ بنارہی ہے۔ بیان میں اسلامک اسٹیڈیز کے پی ایچ ڈی اسکالر کو نئی دہلی طلب کرنے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔انہوں نے کہا کہ تشدد میں ملوث حکومتی فورسز کو سزا دینے کے بجائے یہاں کی حکومت نے مظلوم طلاب کو ہی نشانہ بناکر ایک بار پھر اپنی فسطائی ذہنیت کا مظاہرہ کیا۔ قائدین نے کہا کہ NIAکے ذریعہ یہاں کی سیاسی قیادت، تاجر برادری، یونیورسٹی پروفیسروں، طالب علموں، ڈاکٹروں، اسکالروں، وکلاء اور عام شہریوں کو حراساں کرنے اور انہیں تنگ طلب کرنا بربریت اور سفاکیت کا ننگا ناچ ہے۔ مزاحمتی قائدین نے حزب المجاہدین کے معروف عسکری کمانڈر عبدالقیوم نجار کی ہلاکت پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ موصوف نے اپنی قوم کو جبری فوجی قبضے سے آزاد کرانے کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کی۔ انہوں نے ترال میں حالیہ گرینیڈ دھماکے میں زخمی ہوئے نوجوان کی شہادت پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے اسے شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔مزاحمتی قیادت نے جنوبی کشمیر کے علاقوں میں چوٹیاں کاٹنے کے واقعات پر اپنی گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام اور خاص طور مسجد کمیٹیوں اور محلہ کمیٹیوں سے اپیل کی کہ وہ آپسی اتحاد کے ذریعے ان شر پسندوں اور غیر اخلاقی عمل میں ملوث افراد کی نشاندہی کرنے میں اپنا کردار ادا کرے اور اس غیر اخلاقی عمل میں ملوثین کو عوام کی عدالت میں پیش کریں۔ مزاحمتی قیادت نے عبدالحمید ڈار آلوسہ کو پبلک سیفٹی ایکٹ لگانے اور انہیں کوٹ بلوال جیل منتقل کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔