حکومت انتخابات کرانے کیلئے تیار:جتیندر سنگھ اپوزیش اراکین اسمبلی چنائوکے مطالبے پر یک زبان

عظمیٰ نیوز سروس

نئی دہلی//مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے منگل کو لوک سبھا میں کہا کہ جب بھی الیکشن کمیشن اس معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ کرے گا، حکومت جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے۔جموں و کشمیر ریزرویشن(ترمیمی)بل اور جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن (ترمیمی)بل پر بحث میں مداخلت کرتے ہوئے، وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ “جب بھی الیکشن کمیشن اس کا اعلان کرتا ہے(جموں کشمیرمیں اسمبلی انتخابات کیلئے تیار ہیں۔”انہوں نے یہ بات اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں قبل از وقت اسمبلی انتخابات کرانے کے مطالبے کے جواب میں کہی۔

سنگھ نے مزید کہا “کمیشن کے پاس اپنی ضروریات کے مطابق ان پٹ جمع کرنے کا اپنا طریقہ کار ہے اور یہ حتمی فیصلہ کرے گا۔ آئیے ہم سب کمیشن کی حکمت پر بھروسہ کریں اور اس کے کام کاج میں مداخلت کرتے ہوئے دکھائی نہیں دکھائی دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کو زمینی سطح تک پہنچنا چاہیے اور مستقبل میں ہم وہ کریں گے جو جموں و کشمیر کے لوگوں کے بہترین مفاد میں ہو گا۔سنگھ نے مسئلہ کشمیر کے لئے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو ذمہ دار ٹھہرایا۔انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کو آئین کے آرٹیکل 370 کی دفعات کو منسوخ کرنے کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکر گزار ہونا چاہئے جس نے سابقہ ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت فراہم کی تھی۔سنگھ نے کہا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ترقی کو یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔نیشنل کانفرنس صدر فاروق عبداللہ نے بی جے پی زیرقیادت مرکز سے جاننا چاہا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس لیڈر منیش تیواری نے بھی انتخابات کے بارے میں جاننے کی کوشش کی کہ جموں و کشمیر میں ریاست کا درجہ کب بحال کیا جائے گا۔انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ ایسے وقت میں جب ٹریژری بنچ یہ دعوی کر رہے ہیں کہ جموں و کشمیر میں حالات معمول پر آ گئے ہیں، “انتخابات” کیوں نہیں کرائے جا رہے ہیں۔ تیواری نے مزید کہا کہ حکومت کو ان قانون سازی کے ساتھ آنے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے سے متعلق آئین(ترمیمی)ایکٹ سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔وزیر داخلہ امیت شاہ، جو بحث کے دوران موجود تھے، نے کہا کہ وہ اپوزیشن اراکین کی طرف سے اٹھائے گئے تمام مسائل پر تفصیلی جواب دیں گے۔بی جے پی کے جمیانگ سیرنگ نامگیال نے کہا کہ جموں و کشمیر میں امن انتخابات سے زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں حالات بہتر ہوئے ہیں اور سرمایہ کاری آنا شروع ہو گئی ہے۔نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ حسنین مسعودی نے بھی جموں و کشمیر میں قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو ملک کو سچ بتانا چاہئے اور جموں و کشمیر میں حالات معمول پر آنے کا بھرم نہیں پھیلانا چاہئے۔مسعودی نے یہ بھی دعوی کیا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔این سی پی کی سپریا سولے نے بھی قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت کو مختلف ریاستوں کے لوگوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے ریزرویشن پر ایک جامع بل لانا چاہیے۔جنتا دل یونائیٹڈ کے کوشلندر کمار نے بھی جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔