حکومت افسپا کے وعدوں سے بھی مُکر گئی :ڈاکٹر فاروق

کنگن// نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف مخلوط حکومت وادی میں حالات ناسازگار ہونے کے بارے میںپریشانی کا اظہار کررہی ہے وہیں دوسری طرف ریاست میں پنچایتی انتخابات کا چنائو کرانے کے بارے میںبڑے بڑے دعوے کئے جارہے ہیں ۔وسطی ضلع گاندربل کے گنڈ علاقے میں نیشنل کانفرنس کے ایک دیرینہ رکن اور سابق بلاک صدر کی وفات پرتعزیت کرنے کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ مخلوط حکومت اننت ناگ میں پارلیمانی چنائو میں نہیں کراسکی جوکہ ریاست کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیتو اب وہ کس طرح پوری ریاست میں پنچایتی چنائو کراسکتی ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ زیڈ مور ٹنل کے کام میں سرعت لائے تاکہ ضلع گاندربل کے لوگوں کو موسم سرما میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔اس سے قبل ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایم ایل اے کنگن میاں الطاف احمد اور عمر عبداللہ کے سیاسی صلح کار تنویر صادق کے ہمراہ مرحوم شیخ محمد یوسف کے گھر جاکر تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کی ڈھارس بنداھائی ۔واضح رہے کہ شیخ محمد یوسف گذشتہ ماہ مختصر عدالت کے بعد وفات پاگئے تھے ۔مرحوم نیشنل کانفرنس کے ایک دیرینا رکن اور سابق بلاک پرصدر ہونے کے علاوہ نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکٹری مرحوم شیخ نظیر احمد کے قریبی ساتھی بھی تھے ۔ریاست خصوصاً وادی میں حالات بدلنے کی اُمید ظاہر کرتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہلاکتوں اور خون خرابے کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہئے کیونکہ ایسے حالات میں ریاست کے خوشگوار اور ترقی پذیر مستقبل کیلئے سم قاتل ہیں۔ کشمیری قوم امن چاہتے ہے، ترقی چاہتے ہیں، عزت و وقار کی زندگی گزارنے کے خواہاں رہے ہیں، اس مقصد کیلئے کشمیریوں نے عظیم مالی اور جانی قربانیاں دیں ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں۔۔ شوپیان میں پیش آئے تازہ سانحات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات میں کمسن طلباء و طالبات جان بحق ہوئے ہیں، مجھے اُمید ہے کہ قصور وار اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کی طرف سے افسپا نہ ہٹانے کے ریمارکس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے  نیشنل کانفرنس صدرنے کہا کہ اگرچہ ایجنڈا آف الائنس میں پی ڈی پی نے افسپا ہٹانے کا وعدہ بھی کیا تھا لیکن کل محبوبہ مفتی نے اس وعدے کو بھی بالائے طاق رکھ کر افسپا کو جاری رکھنے پر مہر ثبت کردی۔ پی ڈی پی اپنا اقتدار بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے اور اس جماعت سے افسپا ہٹانے کی اُمید بھی نہیں رکھنی چاہئے کیونکہ یہ کالا قانون اس جماعت کی دین ہے۔حالات کو پنچایتی انتخابات کیلئے غیر موزون قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگر پی ڈی پی سرکار گذشتہ 2سال سے اننت ناگ پارلیمانی نشست کے ضمنی انتخابات منعقد کرانے سے قاصر ہے تو پھر پنچایتی انتخابات کا انعقاد ہونا کیسے ممکن ہے؟ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ایسے حالات پنچایتی انتخابات کا انعقاد کروانا بہت سارے سوالات کھڑا کرتے ہیں اور ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ان انتخابات میں دھاندلی کرکے جمہوریت کی دھجیاں اُڑا دی جائیں گی۔