حمزہ شہباز پنجاب کے 21ویں وزیراعلیٰ بن گئے

نیوز ڈیسک
اسلام آباد // پاکستان میںنو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے عہدے کا حلف اٹھا لیا، اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے حلف لیا۔وزیر اعلیٰ کی تقریب حلف برداری میں مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کیدیگر رہنما بھی شریک ہوئے، اس سلسلے میں گورنر ہاؤس میں سیکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے۔حلف برداری کی تقریب جب جاری تھی تو گورنر پنجاب عمر چیمہ نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ گورنر ہاؤس میں ہونے والی ‘غنڈہ گردی’ کا نوٹس لیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ‘غیر آئینی طریقے سے جعلی وزیراعلیٰ کا ڈراما رچایا جارہا ہے’۔خیال رہے گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے اسپیکر قومی اسمبلی کو حمزہ شہباز سے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر حلف لینے کا حکم جاری کیا تھا۔دوسری جانب چیف سیکریٹری پنجاب کی جانب سے حمزہ شہباز کے عہدے کا چارج سنبھالنے کا اعلامیہ بھی جاری ہوچکا ہے۔نوٹیفکیشن میں چیف سیکریٹری نے کہا ہے کہ سردار عثمان بزدار اب وزیر اعلیٰ پنجاب نہیں ہیں، عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ کا آفس استعمال کرنے سے فوری طور پر روک دیا گیا۔علاوہ ازیں حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیر اعلی پنجاب اپنے آفس کا چارج سنبھال لیا۔حمزہ شہباز تقریب حلف برداری کے بعد اپنے دفتر ایٹ کلب پہنچے جہاں انہیں پنجاب پولیس کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔حمزہ شہباز 16 اپریل کو 197 ووٹس کے ساتھ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے، تاہم گورنر پنجاب عمر سرفرازچیمہ نے ان سے حلف لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدارنے وزیر اعظم کو استعفیٰ دیا تھا جس کے بعد استعفیٰ منظور نہیں کیا جاسکتا اور یہ غیر آئینی تھا۔علاوہ ازیں گورنر پنجاب نے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے پنجاب اسمبلی کے سیکریٹری کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ان کے سامنے پیش کی جانے والی لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات اور ’حقائق‘ نے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کی صداقت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔عمر سرفراز چیمہ نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ’میں نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کو خط لکھتے ہوئے سیکریٹری کی رپورٹ پر ان کا بیانیہ طلب کیا ہے، لاہور ہائی کورٹ کی ہدایات اور دیگر حقائق کے بعد حلف برداری کی تقریب منعقد کروانے کے حوالے سے میرا ذہن تذبذب کا شکار ہے‘۔حمزہ شہباز کی جانب سے حلف اٹھانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا، تاہم دو بار عدالتی فیصلوں کے باوجود بھی حمزہ شہباز سے حلف نہیں لیا گیا تھا۔21 اپریل کو لاہور ہائی کورٹ نے عارف علوی کو ہدایت جاری کی تھی کہ گورنر پنجاب موجود نہیں تو حمزہ شہباز کی حلف برداری کے لیے نمائندے اور جگہ کا تعین کیا ۔گورنر پنجاب اور صدر مملکت کی جانب سے عدالتی احکامات پر عمل درآمد میں ناکامی پر حمزہ شہباز نے ایک بار پھر لاہور ہائی کورٹ سے مداخلت کی استدعا کی تھی۔تیسری درخواست میں ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے شہریوں اور حمزہ شہباز کے بنیادی حقوق کے لیے ہائی کورٹ معاملے میں مداخلت کرے اور صوبے کو آئینی طریقے سے چلانے کے لیے حلف لینے کا حکم دیا جائے۔علاوہ ازیں گزشتہ روز عدالت نے حکم دیا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہفتہ صبح 11بج کر30 بجے پنجاب کے نومنتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہباز سے حلف لیں گے۔