حق کی بات کہنے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا:ستیہ پال ملک

 سرینگر//سابق ریاست جموں کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے کہا ہے کہ حق کی بات کرنے کی پاداش میں اگر عہدہ بھی چھین لیاجائے تو بھی وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر کے سابق گورنر گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ وہ کسانوں کے مسائل اٹھانے پر اپنا عہدہ کھونے سے نہیں ڈرتے۔ ملک نے یہاں ایک غیر رسمی بات چیت کے دوران نامہ نگاروں کو بتایا،’’میں بنیادی طور پر ایک کسان ہوں۔ میری سیاسی تربیت (سابق وزیر اعظم) چودھری چرن سنگھ سے ہوئی اور اُنہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ کو کسانوں کے لیے کچھ چھوڑنا ہے تو چھوڑ دیں، لیکن ان کے لیے لڑیں اور آواز اٹھائیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ وہ کسانوں کے مسائل اٹھانے پر اپنا عہدہ کھونے سے نہیں ڈرتے۔ملک نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے پاس رہنے کے لیے گھر بھی نہیں ہے۔اس لیے میں ان (مرکز) سے لڑ سکتا ہوں۔میگھالیہ کے گورنر نے قبل ازیں تین متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک سے نمٹنے پر مرکز اور وزیر اعظم نریندر مودی کی تنقید کی تھی۔انہوں نے فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت کی قانونی ضمانت کے لیے بھی تنقید کی تھی۔ایک سوال کے جواب میں ملک نے کہا کہ تجارت کی شرائط ملک میں کسانوں کے حق میں نہیں ہیں۔ملک سے یہ بھی پوچھا گیا کہ سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے گزشتہ ماہ ان کی طرف سے لگائے گئے اس الزام کی تحقیقات شروع کی تھی کہ جب وہ جموں و کشمیر کے گورنر تھے تو انہیں دو فائلوں کوہری جھنڈی دکھانے کے لیے رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔ جموں و کشمیر کے گورنر کے طور پر انہوںنے جن فائلوں پر دستخط کیے ہیں، وہ سی بی آئی کی جانچ کے تحت ہوں گے۔  ملک نے جواب میں کہا، ’’مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے،سی بی آئی نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا، میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا۔ اگر وہ مجھ سے پوچھیں گے تو میں بتاؤں گا، کیونکہ میرے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے‘‘۔ اگست 2019 میں سابق ریاست کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں  جموں و کشمیر اور لداخ  میں تقسیم کرنے سے پہلے ملک جموں و کشمیر کے آخری گورنر تھے۔