حق و باطل کی رزم گاہ میں

  جس طریقے سے کوئی انسان اپنے بارے میں خواب دیکھتا ہے اور اُن کو شرمندہ ٔ تعبیر کرنے میں دن رات محنت اور کوششیں کرتا ہے، اُسی طرح عالمی سیاسیات کے حوالے سے اقوام عالم بھی اپنے اپنے خواب دیکھتے ہیں جن کی تعبیر میں متعلقین کسی بھی حد تک جا تے ہیں۔ مسلم امت کے لیے بھی دنیا میں ایک حقیقی خواب پورا کرنے کی ہدایات قرآن و حدیث میں موجود ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی سطح پر دو مختلف قسم کے خواب دیکھے جاتے ہیں: ایک حق کے بول بالاکا خواب ،دوسرے طاغوت کے دبدبے کا خواب۔ فطری اصول یا قانون قدرت یہ ہے کہ جس کی محنت زیادہ تیر بہدف اور مو ثر ہو گی وہی اپنے خواب کو حقیقت میں بدل سکتا ہے اوروہ فریق جس کے اندر خلفشار ، بے ذوقی او ر بے جہتی ہو ،وہ بس سنہرے خواب ہی دیکھتا رہ جاتاہے ۔ اس کو کسی غیبی طاقت کا کتنا بھی یقین ہو، اگر وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو کے عملی میدان میں نہ اُتر ے ، غیبی طاقت سے وہ کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتا ۔ یہ ایک اٹل قانون قدرت ہے جس کو سمجھنے میں ہمیں نہ کوئی دقت ہونی چاہے اور نہ دل ملول ہونا چاہے۔ شکست خوردہ قوم کو اگر دل گرفتہ ہونا بھی چاہیے تو اپنی عدم کار کردگی پر، اپنے خلفشار پر ، اپنے اندر صلاحیتیوں کے فقدان پر، حصولِ تعلیم میں پہلو تہی پر، اللہ کے وضع کردہ رہنما اصولوں کو پس پشت ڈالنے پر ۔ اس آفاقی اصول کی کسوٹی پر دیکھئے تو لگتا ہے کہ امریکہ اور یورپ پسپا ہونے جار ہے ہیں ۔ اس بات کا ادراک وہاں کی ذہنی قیادت یعنی دانشورطبقے کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کو بھی ہے۔ اس یقینی پسپائی کی وجہ اس چیز کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے کہ وہاں پر سماجی روابط کا فقدان ہے ، لوگ اپنی انفرادی زندگی کو لے کر بد مست ہو گئے ہیں ، مادیت کا غلبہ ہے ، جرائم کی شرح میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ، اخلاقی نظام کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ امریکہ و یورپ کی اس پسائی کا انتظار بہت سی قوموں اور ملکوں کو بھی ہے، جو آنے والے وقتوں میں دنیا کی’جاگیرداری اور ساہوکاری‘ کے خواب دیکھ رہے ہیں، اور اس کے لئے اپنے اپنے لائحہ عمل بھی مرتب کر رہی ہیں۔
حال ہی میں عالمی سیاست میں ایک اہم واقع رونما ہوا، جس کی طرف میڈیا میں کوئی خاص توجہ نہیںدی گئی کہ 23؍ ملکی یورپی اتحاد (European Union ) نے ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے مشترکہ طور یورپی آرمی (European Army ) کے قیام کا اہم اتحاد قائم کر دیا۔ برسلز میں ایک خاص میٹنگ کے دوران اس بات کا اعلان کیا گیا کہ نئے عسکری اتحاد سے منسلک تمام ممالک دفاعی اخراجات اورمنصوبہ بندی کی خاطر ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں گے اور یہ ممالک الگ الگ دفاعی اخراجات کے بجائے ایک ساتھ اپنے اپنے دفاعی نظام کو بامِِ عروج تک پہنچائیں گے،اس کے لئے علیٰحدہ طور سرحدوںکی حفاظت کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ایک ساتھ ایک دوسرے کی حفاظت کا انتظام کرنا ہوگا۔اِن ملکوں نے اپنے دفاعی اخراجات کا بیس فیصد حصہ فوجی اعانت میں لگانے کی حامی بھر لی ہے۔ اس کے علاوہ ہر کوئی ملک اپنے بجٹ کا پانچواں حصہ یورپی اتحاد کے تعاون کے لئے صرف کرے گا۔ علاوہ ازیں اب ہر کوئی ملک الگ الگ منصوبوں پر کام نہیں کرے گابلکہ منصوبے ایک ساتھ مرتب ہوں گے اور کام بھی ایک ساتھ کیا جائے گا۔ اس میٹنگ میں یورپی دفاعی چندے (European Defense Fund) کے کام کاج کا بھی جائزہ لیا گیا۔مذکورہ تقریب میں موجود مختلف ملکوں کے مندوبین نے اس معاہدے کے بارے میں اپنے اپنے تاثرات پیش کئے۔ یورپی اتحاد کے ایک اعلیٰ نمائندے کا کہنا تھاکہ’’ یہ یورپی دفاعی میدان میںیہ ایک جذباتی اور تاریخی لمحہ ہے‘‘۔ جرمنی کے وزیر دفاع نے اس معاہدے کو ’’یورپی اتحاد میں ایک سنگ میل کی حیثیت‘‘ سے تعبیر کیا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی تھنک ٹینک کے اداروں نے اس معاہدے کے بارے میں اپنی اپنی مثبت آراء پیش کیں۔ روم کے ادارے برائے بین الاقوامی معاملات کے ڈائیریکٹر نے اِس کوــ’’ طاقت ور کھیل بدلنے والے معاہدیــ‘‘ سے تعبیر کیا۔ اٹلی کا ماننا تھا کہ اس معاہدے نے ’’مستقبل میںیورپی طاقتوں کے ایک مضبوط اتحاد کی بنیادڈالی‘‘۔ واشنگٹن پوسٹ نے اس معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ’’ اس ڈیل سے یورپی ممالک اپنے دفاعی معاملات کو وہی نہج دے سکتے ہیں، جیسے کہ یہ ممالک اس سے پہلے اقتصادی و تجارتی معاملات میں ایک اعلیٰ حیثیت رکھتے تھے‘‘۔ کوا ٹز کا کہنا تھا ’’یہ ایک ذریعہ ہے جس سے یورپی اتحاد ایک زبردست اتحادی آرمی تشکیل دے سکتی ہے‘‘۔ 
اس نئے دفاعی اتحاد کو دو مختلف صورتو ں کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک، اس اتحاد کا نیٹو (NATO) کے ساتھ ممکنہ تفریق و تعاون۔ دوسرا، جرمنی کا سفارتی اور خطے میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ۔2004میںنیٹو معاہدے کے مطابق جملہ ممالک نے اپنے جی ڈی پی کا دو فیصد حصہ قومی دفائی اخراجات پر خرچ کرنے کی حامی بھر لی تھی لیکن اس کے بالمقابل اسٹوکلم بین الاقوامی تحقیقی ادارے برائے امن  (Stockholm International Peace Research Institute')  کی پچھلے سال کی رپوٹ کے مطابق نیٹو ممالک کے 28 فریقیں میں سے صرف 4پنے جی ڈی پی کا ۴ فیصد سے زیادہ دفاعی اخراجات میں خرچ کرتے ہیں۔ اس کی شکایت امریکہ کے دونوں صدور(موجودہ اور سابقہ) نے کی تھی کہ جملہ ارکان ممالک اپنے وعدے پر پورے نہیں اترتے۔ مارچ2016 میں امریکی صدر نے یہ کہا تھا کہ ’’نیٹو ہماری قسمت سے کھیل رہا ہے اور ہاں ہم یورپ کی دفاع کررہے ہیں، لیکن ہمیں بہت زیادہ اس پر خرچہ ہو رہا ہے‘‘۔ اپنے مطلوبہ اخراجات سے جی چرانے میں بھی کچھ ممبر ممالک اپنی طرف سے حق بجانب ہیں۔ نیٹو تو کام کر رہا ہے، لیکن اس کی کمان امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ امریکہ کو جہاں جہاں سوجھنے کا من کر رہا ہے ، وہاں وہ اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے میں نیٹو کا استعمال کررہا ہے۔ باقی ملکوں کو اس نیٹو اتحاد سے کوئی خاص فائدہ نہیںپہنچ رہا ہے۔ نیٹو کے ہوتے ہوئے جس میں یورپی اتحاد کے کئی ممالک موجود ہیں، ایک الگ دفاعی بلاک قائم کرنا اس بات کی نشان دہی کر رہا ہے کہ یورپ میں ایک الگ ملٹری بلاک قائم ہونے کا مقصد نیٹو سے راہ فراری اختیار کرنا ہے اور اپنا ایک الگ بلاک قائم کرنا ہے جو آنے والے وقت میں کارگر ثابت ہو مگرجس کا امریکہ سے کوئی دور کا تعلق نہ ہو۔
رہی بات خطے میں جرمنی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی، تو وہ اپنے ہی کچھ الگ خواب دیکھ رہا ہے۔ اس’ خواب‘ کی جانکاری ایک خفیہ دستاویز نے دی ہے ، جس کوDer Spiegel نامی ایک میگزین نے رواں مہینے کی ۴ تاریخ کو شائع کر لیا ہے ۔ اس دستاویز کے مطابق جرمن آرمی اس سوال پر بڑی گہرائی سے کام کر رہی ہے کہ’’ یورپ و امریکہ کی پسپائی کے بعد کس طرح سے کام کرنا ہے؟‘‘۔  102صفحات پر مشتمل اس دستاویز کا عنوان Strategic Perspective 2040ہے۔ اس دستاویز کے تناظر میں ایک خاتون تجزیہ کار انٹینیو کالیبسنو (Antonia Colibasanu) کا کہنا ہے کہ ’’اس خفیہ دستاویز کے شائع ہو جانے کا مطلب دنیا کو یہ انتباہ دینا ہے کہ جرمنی ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھا ہے۔ 70 ؍سالوں سے جرمنی امریکہ کے زیرِ سایہ چل رہا تھا اور کبھی اس نے امریکہ کی مخالفت نہیں کی ہے،لیکن جرمنی کے لئے اب یہ وقت ختم ہو چکا ہے‘‘ ۔ اِدھر جر منی میں اندرون ملک سیاسی انتشار کو کلیسائی دنیا بھی پسند نہیں کررہی ہے۔ بات بالکل واضح ہے کہ جرمنی اپنے منصوبے ترتیب دے رہی ہے جو کہ بہت ہی خطرناک ہیں۔ یورپی اتحاد کے حالیہ قائم کردہ بلاک میں بھی جرمنی کی ’چمچہ گری ‘کرنے کا صاف اشارہ مل رہا ہے، بالکل اُسی طرح جس طرح عالمی سیاسیات میں اِ س وقت امریکہ کر رہا ہے۔ عالمی سیاست کے اس نشیب و فراز کے فریم ورک مین صدر ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ دنوں القدس کو اسرائیل کا ’’جائز‘‘ حصہ جتلاکر یروشلم میں امر یکی سفارت خانہ کی منتقلی ہے ۔ یہ ایک روسمی نکارروائی ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ طاغوتی نظام کے مکمل احیاء کے لئے اپنا دجالی کردار ادا کرنے میں تمام تکلفات بر طرف کر کے اپنے ایک منخوس اور انتہائی فسادی خواب کو شر مندہ ٔ تعبیر کر نے جارہاہے ۔ اس کا لب لباب مسلمانوں کی سامان حرب وضرب سے بیخ کنی اور اسلام کے لئے زمین تنگ کرنا ہے ۔ یہ دجالی خواب امت مسلمہ سے موثر توڑ کا متقاضی ہے جوزبانی جمع خرچ سے ہو نہیں سکتا بلکہ اس کے لئے ہمیں اپنے آپ کو سرتا پاا وور ہال کر ناہوگا ۔ کیاہم اس کے لئے تیار ہیں؟ ۔
رابطہ 9622939998
 
 
 
 ڈہامہ، کپواڑہ