حق تو یہ ہےکہ حق ادا نہ ہوا میری بات

 سید مصطفیٰ احمد ۔بڈگام

میں وادی کشمیر کے معروف اخبار کشمیر عظمیٰ کے مالک و مدیر کا تہیہ دل سے مشکور و ممنون ہوں،جو گذشتہ دو سال سے میرے مضامین کو اپنے اس موقراخبار میں جگہ دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو حفاظت میں رکھے اور اجر عظیم عطا فرمائے۔
قارئین ِکرام ! سبھی بچوں طرح، میرا بچپن بھی کھیل کود تک محدود تھا، پھرجب اسکول گیاتو قابل اساتذہ کی کمی نے رہی سہی قصر پوری کردی۔ اُن کی لاعلمی نے ہمارے مستقبل کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں۔ گھر میں بھی پڑھائی کا ماحول نہ تھا، والدین اَن پڑھ تھے، اُن کی زندگی صرف مزدوری اور گھر کے چولھے تک محدود تھی۔ والد صاحب کو ہر روز ایک ہی فکر دامن گیر ہوتی تھی کہ کیسے میری ماہانہ فیس ادا کرے اور مٹی کے مکان کی کچی دیواروں پر جعلی رنگ روغن چڑھا کر دنیا کی رسموں پر کھرا اُتریں۔ والد اتنا کماتے ہی نہیں تھے کہ وہ اُس زمانے کے مشہور اخبارات Greater Kashmir اور کشمیر عظمیٰ کے خریدنے کےاخراجات کو برداشت کرسکیں، لیکن میں شکر گزار ہوں اپنے بڑے مامو کا ،جس کے گھر میں، میں نے زندگی کے ابتدائی چودہ سال میں سات آٹھ سال گزارے اور جس کے گھر میں رہ کر ہی میری جان پہچان’’ کشمیر عظمیٰ ‘‘کے ساتھ ہوئی۔مامو نے اپنے گھر میں کشمیر عظمیٰ کی سہولت مہیا رکھی تھی۔ میرے بڑے ماما جی کتابوں سے بچپن ہی سے شغف رکھتے تھے۔ ان کے ذوق مطالعہ نے مجھ میں بھی کتب بینی کے علاوہ اخبار بینی کا گہرا شوق پیدا کیا۔ ہر روز دکاندار سے اخبار لانا میری ذمہ داری ہوتی تھی۔ پتہ نہیں کہ کن حسین لوگوں نے میرے ذہن میں یہ بات بٹھا دی تھی کہ نصابی کتابوں کے باہر بھی ایک بہت بڑی دنیا ہوتی ہے، جہاں اعلیٰ پایہ کے لوگ سانس لیتے ہیں۔ ان کے جینے اور ہمارے جینے میں جو فرق موجود تھا، اُس کا مشاہدہ کرنے کا موقع تب ملا جب ماہر قلمکاروں اور مصنفین کے مضامین کو میں نے غور و فکر کے ساتھ پڑھنا شروع کیا۔ پچاس فیصد اردو میری سمجھ میں نہیں آتی تھی لیکن لگاتار کوششیں کرنے کے نتیجے میں اس موقر اخبار نے میری زندگی میں ایک نکھار لایا۔ سارے قلمکار ماہر تھے لیکن کچھ قلمکاروں سے الگ قسم کا لگاؤ تھا۔ ان کی باتیں میرے معصوم ذہن پر نمایاں اثرات مرتب کرتی تھیں۔ لفظوں کا پیچ و خم ہماری زندگیوں میں بھی ایک امید کی کرن لے کر آتے تھے۔ اردو زبان کی چاشنی ہر لفظ سے مسلسل ٹپک رہی تھی۔ اس کی ایک زندہ مثال شہزادہ بسمل صاحب کی ہے۔انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اپنی کتابیں مجھے تحفے میں دیں گے، لیکن زندگی نے بے وفائی کی۔ اُن کے لکھے گئے کالم آج بھی ذہن کی وادیوں میں دُکھتی رگوں پر مرہم کا کام کرتے ہیں۔ اُن کی یادوں کو میں نے اپنے دل کے ایک محفوظ خانے میں اشکوں کے ساتھ سنبھال کرکے رکھاہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کچھ دُھندلی یادیں ہیں۔ ان دھندلی یادوں کے جھروکوں سے مجھے دانش کشمیری کی مزاحیہ باتیں اکثر یاد آتی ہیں۔ وہ دن یاد کرتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسو گرنے لگتے ہیں۔ دانش صاحب کی میٹھی اردو میری آنکھوں کے سامنے رقص کرتی رہتی ہیں۔ وہ دن یاد کرکے مجھے نغمہ نگار گلشن باورا کے الفاظ یاد آتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ لہروں کی طرح یادیں دل سے ٹکراتی ہیں، طوفان اٹھاتی ہیں، کی مصداق میرے ساتھ بھی یادیں یہی کھیل کھیلتی ہیں۔ سوموار کا بے صبری سے انتظار رہتا تھا، جب سوموار کو اخبار موصول ہوتا تھا تو پہلے میں دانش صاحب کی لکھائی جو sarcasm کی معراج کا عمدہ نمونہ تھی، کا مطالعہ کرتا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور ہم بھی اسکول سے نکل کر ہائر سیکنڈری پہنچے لیکن اس اخبار سے لگاؤ بنائے رکھا۔ اس کے بعد کالج اور پھر یونیورسٹی پہنچ کر ہم نے کبھی بھی کشمیر عظمیٰ سے دور ہونے یا رہنے کا سوچا بھی نہیں۔اس اخبار سے دور ہونے کا سوچتے بھی کیسے، جس اخبار نے ہماری زندگیوں پر نمایاں اثرات ڈالے ہوں۔ اب ایسا وقت بھی میری زندگی میں آیا، جب میں خود کچھ الفاظ کو قلم بند کرنے کی حالت میں تھا۔ اس جنون کا پھل لگ بھگ ۲۰۲۲ میں نکل کر آیا ،جب میں نے اردو میں لکھنا شروع کیا۔ میں نے پہلا مضمون افغانستان پر قلم بند کیا تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کس طرح میں نے افغانستان پر مضمون لکھتے ہوئے اپنی ناتجربہ کاری کی بھرپور نمائش کئی تھی۔ پہلے مضمون میں مجھ سے اتنی غلطیاں سرزد ہوئی تھیں کہ لگتا تھا کہ میرا مستقبل میں لکھنا بہت مشکل ہے لیکن میں شکرگزار ہوں اس اخبار کے ایڈیٹر صاحبان کا کہ کیسے اُن کے خلوص اور دوراندیشی کی وجہ سے آج لگ بھگ سو کے قریب میرے مضامین کشمیر عظمیٰ میں چھپ چکے ہیں اور قاریوں کے لئے باعث اطمینان ثابت ہوئے ہیں۔
اس سفر کے دوران قاریوں کی ایک لمبی قطار سے میرا رشتہ جڑ گیا۔ پہلے میں مصنفین کو فون کرکے اپنی بےتابی کا اظہار کیا کرتا تھا۔ مجھ سے رہا ہی نہیں جاتا تھا کہ کب میں کالم نویسوں سے بات کرکے خوشی محسوس کروں۔ پھر قدرت کا کمال دیکھیے۔ کشمیر عظمیٰ کا برسوں سے مطالعہ کرنے والے اب مجھ سے انتہائی شوق و ذوق کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ قاریوں کی باتوں کو میں اپنے انداز سے بیان کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ ایک قاری نے جذباتی انداز میں مجھ سے مخاطب ہوکر بولا کہ کیسے میری باتیں اس کے دل کو چھو لیتی ہیں۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ مصطفیٰ! تمہارے الفاظ کا تعین عام سہی لیکن مضمون سنجیدہ مزاج کے ہوتے ہیں۔ William Blake اور John Keats کی نظموں پر لکھے گئے دو مضامین ایک قاری کے دل کے بہت قریب تھے۔ اس کے علاوہ مرحوم پروفیسر رحمان راہی صاحب کے بارے میں قلم آزمائی کرنا اس قاری کے لئے باعث مسرت تھا۔ اسی طرح ایک قاری کے تاثرات نے میرے ذہن کی وسعتوں کو جلا بخشی۔ ایک مضمون کے اندر میں نے موقر اخبارات اور رسالوں کا ذکر کیا تھا۔ اس بابت مجھ سے ایک قاری نے پہلے مجھے خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا کہ کیسے میں نے اس کی پرانی یادوں کو تر و تازہ کیا۔ اس نے خوشی اور غم کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ مزید کہا کہ وہ بھی کیا دن تھے، جب معیاری اخبارات اور رسالوں کا پڑھنا عام سی بات تھی۔ میرے مضامین پر اس کی رائے نے مجھے کشمیر عظمیٰ کو خراج عقیدت پیش کرنے پر اُکسایا کہ کیسے اس اخبار نے ایک ناچیز کو گِنےچُنے لوگوں کے لئے باعث مسرت اور سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ کچھ مہینے پہلے Bill Bryson کی کتاب ” A Shory History of Nearly Everything ” کا تبصرہ اسی اخبار کی زینت بن کر آیا تھا۔ یہاں پر مجھے اپنے اسکول کے دن یادیں آئیں، خاص کر دسویں جماعت کی نصابی سائنس اور ریاضی کی کتابیں۔ اس وقت virtual image اور Constructions کے اصول میرے ذہن سے بالاتر تھے۔ ہمارے اساتذہ ان کٹھن اصطلاحات کو assume کرکے تہی دامنی کا شیوہ اختیار کرتے تھے۔ دس بارہ سال بیت جانے کے بعد جب مندرجہ بالا کتاب کا تبصرہ اس اخبار میں چھپ کر آیا، تو مشکل سوالات کا حل نکلنے کے علاوہ مجھے اپنے دوستوں نے فون کرکے اور میرے گھر آکر مبارکباد پیش کئے کہ واقعی Bill Bryson کی کتاب میں خزانے چھپے ہیں۔ کیسے اس مصنف نے کائنات کی چھوٹے چیزوں، جن کو ہم Quantum Particles کے نام سے جانتے ہیں، بڑی عرق ریزی کے ساتھ ہمارے سامنے رکھ کر پوری قوم پر احسان کیاہے۔ یہ میرے لئے فکر کی بات ہے کہ میں فزیکس کی باریکیوں پر قلم اُٹھا سکا اور اس کے بعد میں اس اخبار کا مشکور ہوں، جس نے اس کتاب پر لکھے گئے تبصرے کو جگہ فراہم کی۔
اخبارات کا معیار کیا بھی رہا ہو، لیکن کشمیر عظمیٰ کی عظمت میری زندگی میں ہمیشہ رہے گی۔ میری ان باتوں سے اختلاف کیا جاسکتاہے، کچھ لوگ میری باتوں سے اتفاق نہیں کرسکتے ہیں، یہ اُن کا حق ہے کہ وہ مجھ سے اختلافات رکھیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی بات کہنے کے دوران ہچکچاہٹ کا شکار ہوجائیں۔ فیض احمد فیض کے الفاظ میں کہ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے۔ اب اس کلام کے پیچھے کیا منشا رہا ہوگا، وہ سوال ِدیگر ہے لیکن فیض کی لکھی ہوئی یہ سطر میرے اس مضمون کا بنیادی ستون ہے۔ ہاں! اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ کیسے اخبارات اور رسالوں کو وہ لبادے اوڑھنے پڑے، جو ان کے شایان شان نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود جیسے کہ ہم تواریخ سے یہ سبق اخذ کر لیتے ہیں کہ کیسے ایک چیز کا اثر مختلف لوگوں پر مختلف اندازسے مرتب ہوتا ہے۔ سوچ اور زندگی کے متعلق نظریہ ہی ایک انسان کا کل سرمایہ ہے۔ جہلاء کے پاس ہنر بھی ہیں اور دولت بھی۔ ڈاکوئوں کی لچک دار تقریروں سے سامعین کی زندگیوں پر ابدی نقوش چھوڑ جاتے ہیں لیکن کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے کے مصداق جو ہوتا ہے وہ دِکھتا نہیں اور جو دِکھتا ہے وہ ہوتا نہیں۔ میں نے اس مضمون کو کسی بھی لالچ کے بغیر لکھا ہے۔ ایڈیٹر صاحب آزاد ہے کہ وہ اس کوشش پر نظرثانی کرے یا نہ کرے لیکن میں نے اپنے دل کی بات لکھ دی ہے۔ اس اخبار سے ہمارے گھر نہیں چلتے ہیں لیکن اس اخبار کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ ہے جو کاٹے بھی نہیں کاٹا جاسکتا ہے۔ ہماری نشوونما میں کشمیر عظمیٰ کا نمایاں رول ہیں۔ اللہ سے دعا گو ہوں کہ یہ اخبار قوم کی خدمت کرنے میں ہر وقت پیش پیش رہے۔ خامیاں لاکھ سہی مگر ترک نہ کرے رشتہ کے مصداق خامیوں کے باوجود کشمیر عظمیٰ ہمارے زندگیوں کے کونوں میں ایک محفوظ کونے میں سجتا رہے گا۔ زندگی کا کوئی بھی بھروسہ نہیں ہے۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے پہلے فہرست میں یہ حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔
(رابطہ۔7006031540)
[email protected]