’حق اظہار رائے پر پہرے نہیں لگائے جاسکتے‘

سرینگر//کشمیر ایڈیٹرس گلڈ نے اس بات کو دہرایا ہے کہ حق اظہار رائے پر پہرے نہیں لگائے جاسکتے ہیں، حتیٰ کہ اگر اسمبلی معطل بھی ہو۔گلڈ کی طویل میٹنگ کے دوران اس آئینی حق کو کمزور کرنے کی مختلف کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کے ای جی کے بیان کے مطابق جہاں اخبارات کو متواتر طور پر شائع شدہ مواد پر نوٹسیں موصول ہونے شروع ہوئی ہیں،وہی نامہ نگاروں اور رپورٹروں کو اپنے ذرائع منکشف کرنے کی رپورٹیں بھی موصول ہو رہی ہے،اور یہ طریقہ کار حتیٰ کہ ایمرجنسی کے دوران بھی پیش نہیں آیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں ایک رسالہ سے وابستہ صحافی آصف سلطان کو حراست میں لیا گیا،اور پولیس نے انہیں6روز تک مقید کرنے کے بعد با ضابطہ طور پر ایف آر درج کیا۔کشمیر ایڈیٹرس گلڈ کا کہنا ہے کہ پولیس آصف سلطان پر لگائے گئے الزامات کو منظر عام پر لائے۔بیان کے مطابق پولیس نے اپنے معمول کے بیان میں جس’’مجرمانہ مواد‘‘ کا ذکر کیا ہے  وہ غیر واضح ہے،اور اس کو بطور وجہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہے کہ ہر ایک صحافی کے لیپ ٹاپ میں’’مجرمانہ‘‘ مواد ہے،کیونکہ اعداد شمار کو جمع کرنا ہر ایک صحافی کی بنیادی سرگرمیوں میں شامل ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کیس میں کشمیر ایڈیٹرس گلڈ اس بات کو دہراتی ہے کہ صحافی کو ذرائع منکشف کرنے پر دبائو نہ ڈالا جائے،اور یہ طریقہ کار دنیا بھر کے جمہوری نظام میں غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔ بیان کے مطابق کشمیر ایڈیٹرس گلڈ نے میٹنگ کے دوران سماجی میڈیا کی وجہ سے ابھرنے والی صورتحال پر بھی مفصل تبادلہ خیال کیا،جس کے دوران اس بات کو زیر غور لایا گیا کہ سماجی میڈیا روزانہ کی معمولات زندگی کو تتر بتر کرنے کی طاقت ہے،جیسا کہ30اگست کو آرٹیکل35ائے کی سماعت سے متعلق ہوا۔تمام فریقین پر زور دیا گیا کہ وہ رسمی ذرائع ابلاغ(فارمل میڈیا) کو مستحکم کریں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ میڈیا ہی تھا ،نہ کی پولیس فورس،جنہوں سے سپریم کورٹ میں حقیقی صورتحال کی رپورٹنگ کر کے حالات کو سرد کیا۔ایڈیٹرس باڈی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں فرق کو محسوس نہیں کرتی،اور ہر ایک کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کی کوشش کرتی ہے،جس سے بحران میں اضافہ ہوگا۔بیان کے مطابق میڈیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کشمیر ایڈیٹرس گلڈ نے کہا کہ جموں کشمیر طویل مدت سے پریشان کن صورتحال سے گزر رہا ہے،اور جہاں معلومات باقاعدگی کے ساتھ آتے رہے ہیں،گفتگو کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو سیاسی تقسیم کے دوسرے محاز سے آنے والی تحریر پر حد سے زیادہ ردعمل ظاہر کرنے کے دوران یہ بات ذہن نشین کرنی چاہے۔گلڈ کے ممبران نے کہا کہ کشمیر میں سماجی،اقتصادی اور انسانی قیمتوں پر تعمیر شدہ پریشر کوکر جیسی صورتحال کم کرنے کیلئے یہ ضروری ہے۔اس دوران کشمیر ایڈیٹرس گلڈ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دن دہاڑے قتل کئے گئے سنیئر صحافی شجاعت بخاری کیس میں اب تک پولیس چارج شیٹ پیش کرنے میں ناکام ہوئی،اور اس حقیقت کے باوجود کہ پولیس نے دعویٰ کہ انہوں نے اس کیس کو حل کیا۔ ایڈیٹرس باڈی نے میڈیا کے کام سے متعلق حساس مسائل کی نگرانی کیلئے کئی کمیٹیوں کو ترتیب دیا