حقوق جنگلات کی پنچایتی کمیٹیاں

 حال ہی میں مرکز کی طرف سے جموں و کشمیر میں جو حقوق جنگلات قانون مجریہ 2006 نافذ کیا گیا ہے، اسکو لے کر لاکھوں کی تعداد میں جنگلات میں رہنے والے لوگوں کو امید کی جو ایک چھوٹی سی شمع نظر آئی تھی وہ روشن ہونے سے پہلے ہی بجھ گئی۔
 حقوق جنگلات قانون کیا ہے؟
 ماحول کا توازن برقرار رکھنے کے لئے حکومت ہند نے وقتاً فوقتاً جنگلات کے تحفظ کے لئے مختلف قوانین بنائے۔ان قوانین سے صدیوں یا پھر دہائیوں سے جنگلات میں بسر کرنے والے قبائلیوں یا دوسرے لوگ جو جنگلات کی زمینوں میں رہتے آ رہے ہیں، کے حقوق سلب ہورہے تھے ۔ اسی لئے ان لوگوں کی حکومت سے ڈیمانڈ تھی کہ انکے حقوق کو محفوظ بنانے کے لئے کوئی قانون معرض وجود میں آنا چاہیے تاکہ انکے حقوق کو آئینی تحفظ مل سکے ۔ اسی مطالبے کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت ہند کی طرف سے 2006 میں حقوق جنگلات قانون پاس کیا گیا۔یہ قانون کانگریس حکومت نے بنایا تھا ۔ اس قانون کے تحت جو لوگ جنگلات یا جنگلات کی زمینوں میں رہ رہے ہیں ،ان کا پورا حق ہے کہ وہ وہاں رہیں، جنگلات کی زمین سے اپنے مویشیوں کو گھاس کھلائیں۔ البتہ جنگلات کے درختوں کو کاٹ نہیں سکتے۔ملک بھر میں یہ تب سے لاگو تھا لیکن جموں و کشمیر کی گذشتہ حکومتوں نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جسکی وجہ سے یہ تعطل کا شکار رہا۔ 
 یہ قانون جموں و کشمیر کے لوگوں کی دیرینہ کاوشوں اور جدوجہد کے بعد نومبر 2020 میں یہاں آیالیکن ابھی نافذ بھی نہیں ہوا کہ سیاست کی نذر ہوتا جا رہا ہے۔اس قانون کی رو سے پنچایتی سطح پر جو حقوق جنگلات کمیٹیاں بن رہی ہیں، ان میں زیادہ تر پنچایتوں میں سرپنچ حضرات اور وہی پرانے بوسیدہ چولھا کھڈپنچ قسم کے لوگ نظام کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں ۔جموںوکشمیر کی زیادہ تر پنچایتوں میں سرپنچ حضرات اپنی من مانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس قانون کے تحت گاؤں یا پنچایتی سطح پر حقوق جنگلات کمیٹیاں بنانے کا سو فی صد اختیار متعلقہ پنچایت کی گرام سبھا کے پاس ہوتا ہے۔حلقہ پنچایت کے تمام بالغ افراد کو گرام سبھا کہا جاتا ہے۔اب اس قانون کے تناظر میں ہونا تو یہ چاہئے کہ گاؤں یا پنچایت کے لوگ بیٹھیں اور پھر اتفاق رائے سے یا کسی امیدوار یا چیئر مین پر اعتراض کی صورت میں ہاتھ اٹھا کر ووٹنگ کے ذریعے اسکا ممبر بنائیں۔لیکن یہاں معاملہ الٹ چل رہا ہے۔ سرپنچ حضرات اپنی مرضی سے پنچایت کے عوام کو بتائے بغیر کمیٹیاں تشکیل دے رہے ہیں ۔
سرپنچوں کی اس چو دھراہٹ سے نہ صرف جنگلات کی زمینوں پر رہنے والے باسی اس اہم ترین قانون سے بے خبر ہیں بلکہ اس سے یہ کمیٹی،جو کہ آئینی طور پر غیر سیاسی حیثیت رکھتی ہے ،سیاسی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ جموں و کشمیر کی بیشتر پنچایتوں میں تو سرپنچ حضرات اپنی ہی لابی کے سارے بندے اسکے ممبر بنا رہے ہیں ۔ اب اسکا نقصان یہ بھی ہو رہا ہے کہ گاؤں یا پنچایت میں جن لوگوں نے متعلقہ سرپنچوں کے خلاف الیکشن لڑے تھے یا ووٹ نہیں دیئے تھے، ا نہیں اس نئی پیش رفت کے حوالے سے کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی۔اوپر سے ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ چونکہ اس کمیٹی کو بنانے کے لئے بڑا کم وقت ملا تو زیادہ تر سرپنچوں نے اپنی پنچایتوں کے لوگوں کو کمیٹی کے ممبران کے نام بتائے بغیر آگے لسٹ دے دی ہیں۔ دوسرا اس میں ایک اہم عنصر اقرباء پروری کا بھی ہے۔ سرپنچ حضرات اپنے خواص و رشتہ داروں کو اس کمیٹی کا حصہ بنا رہے ہیں۔اگر سچ کہا جائے تو حالت یہ ہے کہ زیادہ تر پنچایتوں میں پنچایت کے 85 فیصد عوام اسطرح کی کمیٹیوں بارے لاعلم ہیں۔
 یہ ذہن نشین کرنا بہت ضروری ہے کہ جموں و کشمیر میں گاؤں، دیہات کی سیاست بھی کچھ الگ ہی طرح کی ہوتی ہے ۔ہمارے جموں و کشمیر میں بدقسمتی سے چونکہ لڑ کھڑاتی جمہوریت ہے۔یہاں ابھی وہی پرانا نظام ہے جس میں گاؤں کے سرپنچ اور وڈھیرے دوسروں کو دبا کے رکھتے ہیں۔ اسکو بدلنے میں وقت درکار ہے وہ بھی بشرطیکہ جمہوری نظام لگا تار چلتا رہے۔بہت سارے لوگ جو انتقامی ہوتے ہیں اور گرام سبھا کی عدم موجودگی میں کمیٹیوں کے ممبران بن رہے ہیں، سادہ لوح عوام کو ڈراتے دھمکاتے پھر رہے ہیں کہ دیکھو اب میں جنگلات کمیٹی کا ممبر ہوں اور تم جنگلات کی زمین میں رہ رہے ہو، تمہیں یہاں سے نکالوں گا، تمہیں اب سنبھال لوں گا وغیرہ۔ جنگلات میں رہنے والی اکثریت تو بیچارے پہلے سے ہی پسے ہوئے اور ان پڑھ ہوتے ہیں، انکو کچھ خاص جانکاری نہیں ہے تو ان کے نرغے میں پھنستے جا رہے ہیں۔
 ایک طرف جہاں اس ایکٹ کا مطلب یہ باور کروانا ہے کہ آپ لوگ جو جنگلات کی زمینوں پر دہائیوں سے رہ رہے ہو آپکو کوئی نہیں نکال سکتا بلکہ آپ عزت کے ساتھ رہئے، یہ آپکا حق ہے وہیں یہاں پر شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔بتایاجارہاتھا کہ اس ایکٹ کے نفاذ سے ڈرے ہوئے لوگوں کا یہ ڈر ختم ہو جائے گا کہ انہیں جنگلات کی زمینوں سے کوئی نکال دے گا ۔ یہ بھی کہاجارہا تھا کہ اس قانون کے نفاذ کے بعد جموں و کشمیر کے لاکھوں لوگوں کو جنگلات کے تحفظ کرنے اور وہاں رہنے کا آئینی سہارا مل جائے گا لیکن شروع ہی میںجس طرح بے ضابطگیاں دیکھی جا رہی ہیں ،وہ افسوسناک ہیں۔
 عزت مآب جناب لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر منوج سنہا صاحب سے گزارش ہے کہ جنگلات قانون کمیٹیاں بنانے کے لئے تاریخوں میں توثیق کی جائے اور ہر اس پنچایت کی کمیٹی کو کالعدم قرار دیا جائے جو گرام سبھا کے بجائے سرپنچوں نے بنائی ہے ۔ گرام سبھا بلانے سے پہلے ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا اشتہارات کے ذریعے لوگوں میں اس بارے آگاہی ازحد ضروری ہے ۔ ہر گاؤں یا پنچایت میں گرام سبھا والے دن یعنی کمیٹی بننے والے دن بیک ٹو ولیج طرز جیسا حکومتی وفد بھی وہاں موجود ہونا چاہیے اور یہ سب آن کیمرہ ہونا اہمیت کا حامل ہے تاکہ جو کمیٹی بنے، اس میں کوئی دھاندلی نہ ہواور وہ پوری گرام سبھا کے سامنے بنے۔اس طرح سے یہ کمیٹیاں غیر سیاسی بھی ہوں گی ورنہ ابھی شروع سے ہی بے ضابطگیاں بڑے لیول پر اتھل پتھل کا پیش خیمہ ہیں ۔
(کالم نگار کا تعلق پونچھ سے ہے اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں ریسرچ سکالر ہیں)
ای میل۔[email protected]