حفظانِ صحت امور ایک لمحہ ٔ فکریہ !

صحت دنیا کی ان چند بیش قیمت نعمتوں میں شمار ہوتی ہے کہ جب تک یہ قائم ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی،مگر جونہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑدیتی ہے،ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے کہ یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی۔جب ہم مختلف پیچیدہ امراض اور مہلک بیماریوں کو دیکھتے ہیں تواحساس ہوتاہے کہ ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم اوربہت بڑااحسان ہے،لیکن اس کے باوجود اکثرافراد اس نعمت عظمیٰ کی قدر نہیں کرتے۔بے شک حفظانِ صحت میں خوراک کا بھی بڑا عملِ دخل ہے اورریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، متوازن خوراک اور معتدل غذاسے انسان کی صحت برقرار رہتی ہے، وہ مناسب طور پر نشوونما پاتا ہے اور محنت کی قابلیت بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس بارے میں قرآن نے صرف تین جملوں میں طب ِقدیم اور طب ِجدید کو سمیٹ لیا ہے،یعنی’’کھاؤ، پیو اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو۔‘‘ یہ تینوں وہ مسلمہ اصول ہیں جن میں کسی کا بھی اختلاف نہیں۔ کھانا پینا زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اور نہ اپنے فرائض منصبی سے بہ طریقِ احسن عہدہ برآ ہوسکتا ہے، البتہ اس میں اعتدال سے کام لینا صحت کے لیے ضروری ہے۔ نہ کھانےیا ضرورت سے کم کھانے سے جسمِ انسانی بیمار پڑ جاتا ہے، جبکہ ضرورت سے زیادہ کھانے سے معدےپر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ پڑتا ہے اور معدے کی خرابی تمام امراض کی جڑ ہے۔درحقیقت ہمار ا مذہب اسلام، دین ِ فطرت ہے جوپوری انسانیت کی ہرشعبے میں مکمل رہنمائی کرتا ہے، اس کی پاکیزہ تعلیمات جہاں عقائد وعبادات ،معاشرت ومعاملات اور اخلاق وآداب کے تمام پہلوؤں کاجامع ہیں،وہیں حفظان صحت اور تندرستی کے معاملے میں بھی اس کی معتدل ہدایات موجود ہیں،جن پر عمل پیرا ہوکر ہم نہ صرف صحت مند زندگی گزار سکتےہیں بلکہ بہت سی مہلک بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں، اس لئے ہم پر لازم ہےکہ ہر مضر صحت امور سے اجتناب کریں، جس میں زیادہ کھانا یا زیادہ سونا، یا کم کھانایا کم سونا، یا حد سے زیادہ فارغ رہنا، غم اورذہنی پریشانی کا شکار ہوجانا،یا اپنی آپ کو کسی بھی عمل میں اتنا منہمک کرنا جس میں جسم کی حرکت نہ ہواور جسم میں موٹاپا آئے، راتوں کا جاگنا، دن کا سونا یہ سارے امور صحت کے لیے نقصان دہ اور باعث ِ وبال ِجان ہوتے ہیں۔ اس طرح کے دیگر مضرامور سے اجتناب کر کے ہمیں اپنے آپ کو منظم ومرتب کرنے کی ضرورت ہے۔سونے کے وقت سوئے، کھانے کے وقت کھائے، کام کے وقت کام کرے، ہلکی پھلکی ورزش، چہل قدمی اور دھوپ کا حاصل کرنا یہ سارے قابل التفات امور ہیں ۔ ایک توانا اورقوی تر انسان، ضعیف اور کمزور انسان کے مقابلہ میں زیادہ بہتر اور اچھا ہوتا ہے۔ظاہر ہے کہہوا کی کثافت، فضاء اور پانی کی آلودگی میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے، جس کی وجہ سے انسانی وجود کو شدیدخطرات لاحق ہوگئے ہیںاور کئی صورتوںمیں مختلف اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں،جس پر ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی آلود گی سے بچنے کے لئےانسانی زندگی میں صبح کی سیر کو اہمیت کافی بڑھ چکی ہے کیونکہ انسانی زندگی کا انحصار ہوا اور غذا دونوں چیزوں پر ہےجبکہ ہوا غذا سے زیادہ اہم ہے کیونکہ بغیر غذا کے انسان کچھ وقت زندہ رہ سکتا ہے لیکن بغیر ہوا کے چند لمحے بھی جینا محال ہے۔اس لیے ہمیں ہوا کی اہمیت سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔کھلی اور صاف ہوا میں رہنے سے صرف زندگی ہی قائم نہیں رہتی بلکہ جسمانی نشوونما بھی ٹھیک رہتی ہے۔اسی طرحنیند بھی حفظانِ صحت کے لیے ضروری ہے، ایک صحت مند انسان کے لیے دن رات میں آٹھ گھنٹےکی نیند ضروری ہوتی ہے، محنت اور دن بھر کام کاج کرنے سے جسمانی قوتیں تھک جاتی ہیں اور آرام کی طالب ہوتی ہیں ۔ انسا ن کو اپنے صحت کی برقراری کے لئے اس فطری ضرورت کا بھی پورا لحاظ رکھنا لازم ہوتا ہے،نیزگھر اور ماحول کی صفائی اور مزاج کی نفاست پسندی کا بھی صحت میں بڑادخل ہے،اس لئے اپنے گھر بار، صحن ،اور گلی کوچوں کو صاف ستھرا رکھنا بھی ہمارے لئے ضروری ہے۔ صحت مند رہنے کے بے شمار اصول ہیں،جبکہ آج جدید سائنس نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ صحت مند رہنے کے جو اصول اور طریقے اسلام نے بتائے ہیں وہ اصول اور طریقےتا قیامت آنے والے انسان کے لیے مشعل راہ ہیں۔لیکن افسو س صد افسوس ! جب ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو زیادہ تر لوگ نہ حفظانِ صحت کے امور پر چلتے ہیں اور نہ ہی اسلامی ہدایات پر عمل کرتے ہیں،جس کے نتیجے میں نہ ہماری صحت تندرست رہتی ہے اور نہ ہی ہمارا ماحول صاف و پاک رہتا ہے،خصوصاً ہماری نوجوان نسل حفظان ِ صحت کے مضر امورات سے بچنے سے بالکل عاری نظر آرہی ہےاور کسی بھی صحتمند اورکامیاب اصول سے ہم آہنگ ہونےکے لئے اپنے اندازِ فکر بدلنے کی ضرورت محسوس کرتی ہے،جو کہ ایک لمحۂ فکریہ ہے۔