حضرت علی المرتضٰی ؑ۔۔۔ جامع الصفات تابندہ ہستی

جامع الصفات حضرت علی المرتضٰی علیہ السلام دین اسلام کی وہ تاریخ ساز شخصیت ہیں جن کی ہستی میں گوناگوں کمالات وجمالات بیک وقت جمع ہیں۔ آپ ؑ کے بارے میں بہترین یہی ہے کہ اس ہستی ي معظم ومحترم کو تمام گوشوں کو اجاگر کیا جائے مگر ہم اس کے برعکس دیکھتے ہیں کہ ایک گروہ نے حضرت علی ؑ کو صرف اور صرف دنیائے اعجاز وکرامات کا سر خیل جانا اور ان کے زمینی اور زمانی روپ کو یکسر نظر انداز کردیا۔ اس طرح کی طبیعت کے حامل افراد آں جناب ؑ کو صرف اور صرف سیرِ افلاک میں محو ایک ایسے ماورائی وجود کے طور دیکھنے کے قائل ہیں کہ جو اگر بھول کر بھی آسمان ِمعجزہ سے اُترکر حقیقی دنیا کے عام معمولات میں مصروف ہوجائے تو وہ علی ؑ ان کا مطلوبہ علی  ؑنہیں رہتے۔ یہ اس حضرت علی ؑ کی مدح سر ائی نہیں کر تے جو حقیقت کے فرش ِ خاک پر کچھ اس طرح آرام فرما ہوا کہ زبان ِ رسالت مآب میں ابو تراب کہلائے ، جواپنی اور اپنی دنیاوی زندگی کی مادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے یہودیوں کی زمینوں کو بھی سیراب کر دے۔در اصل ان کے دیو مالائی مزاج کو ارضی وافلاکی زندگی کی خصوصیات سے بھر پور حضرت علی ؑ کا ابو ترابی اور عملی ہیولا نہیں بھاتا ہے۔عکس العمل اس کے کچھ کج فہم اذہان میں جناب علی ؑ کا نورانی اور مظہرالعجائب والے پہلو نے ایک عجیب قسم کا رد عمل پیدا کردیا ہے جو بالآخر مبتذل خیالات پر منتج ہواہے۔ یہ مبتذل خیالات والے شان مرتضیٰ ؑ کیا جانیں۔ صوفیت سے شغف رکھنے والے حضرات کے نزدیک حضرت علی ؑ فقر و فاقہ میں گزر بسر کرنے والے ایک ایسے ولی  ٔخدا ہیں جو دنیاوی امور سے کوئی رغبت و میلان نہیں رکھتے اور ایک گروہ کے مطابق حضرت علی ؑ ایک ایسے مہم جو کا نام نامی ہے جو ہر وقت شمشیر بکف آمادہ بہ پیکار نظر آتے ہیں اور صرف اپنے دشمنوں کے سر قلم کرنا ان کا مشغلہ ہے۔ ان کی قہر آلود شخصیت سے ہر سو لرزہ طاری ہے۔ اس بات میں شک و تردد کی کوئی گنجائش ہی نہیں کہ اسلام میں صرف فی سبیل اللہ جہاد و قتال کی نا قابل ِ انکار اہمیت ہے نیز فاتح ِخیبر اور شیر خدا ؑ سے بڑھ کر کوئی مجاہد کون ہو سکتا ؟ 
  جہاد کی تشویق کے ساتھ ساتھ حضرت ِ علی ؑ ہمیشہ میدان ِ جنگ میں پیش پیش رہے۔ کبھی بھی میدان ِ رزم سے راہِ فرار اختیار نہیں کی اور یوں کرا ر کا خطاب انہیں ملا۔یہی وجہ ہے کہ شیر جبار ؑ کی شجاعت و بہادری کے قصص زبان زدِ عام و خاص ہیں اور یقینا شجاعت آپؑ کی جلالی شخصیت کا ایک تابناک اور جاذبِ نظر پہلو ہے۔ خاص طور سے دین اسلام ترویج و تطبیق کے سلسلے میں آپ ؑ کی جانبازی اور فدا کاری اپنی مثال آپ ہے۔دین ِ اسلام کو غالب کرنے کے لئے خدائے ذوالجلال نے اسداللہ الغالب کا انتخاب بطور خاص کیا، ذوالفقار ِ حیدری نے بھی اس انتخاب کی ہر مشکل مرحلے میں لاج رکھی ۔بجا کہا ہے کسی شاعر نے کہا ؎
گر نہ بودی دست ِحیدر ذوالفقار
کی بود اللہ اکبر آشکار
 جوانمردی حضرت ِ علی ؑ کی حیات ِ ثمر بخش کاایک ایسا گوشہ ہے جو ہر کس و ناکس پر واضح اور آشکارا ہے لیکن اس گوشے کے جلو میں چند ایک مخفی گوشے ضرورموجود ہیںجنہیں ہرگزہر گزنظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ باعث ِ استعجاب امر یہ ہے کہ یہ مخفی گوشے بظاہر نمایاں پہلو سے مجموعہ ٔ اضدا ہیںمگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو ان ہی متضاد صفات سے حیدرِ کرار کی صفتِ شجاعت جہاں بھر کی دلیری میں نمایاں و ممتاز ہے۔   پرصغیر کے مایہ ناز عالم دین، عظیم مفکر اور صاحبِ طرز ادیب و مصنف علامہ مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہ نے اپنے گوہر بار قلم سے ان صفات کا تذکرہ ایک خوبصورت پیرائے میں کیا ہے۔ چنانچہ نہج البلاغہ کے ایک حاشیے میں لکھتے ہیں ’’دنیا میں ایسے انسان خال خال ہی نظر آتے ہیں کہ جن میں ایک آدھ صفت کمال کے علاوہ کوئی اور بھی فضیلت نمایاں ہو ، چہ جائے کی تمام متضاد صفتیں کسی کے دامن میں جمع ہو جائیں کیونکہ ہر طبیعت میں ہر کمال کے پھلنے پھولنے اور صفت کے اُبھرنے کی صلاحیت نہیں ہوا کرتی بلکہ ہر فضیلت ایک طبیعت ِخاص اور ہر کمال ایک مزاج ِ مخصو ص رکھتا ہے ، جو انہی اوصاف و کمالات سے ساز گار ہو سکتا ہے ، جو اس سے یکسانیت و ہم رنگی رکھتے ہوں اور جہاں ہم آہنگی کے بجائے تضاد کی سی صورت ہو، وہاں پر طبیعی تقاضے روک بن کر کسی اور فضیلت کو ابھرنے نہیں دیا کر تے مثلاً جودو سخا کا تقاضا یہ ہے کہ انسان میں رحمدلی و خدا ترسی کا ولولہ ہو، کسی کو فقر و افلاس میں دیکھے تو اس کا دل کڑھنے لگے اور دوسروں کے دکھ درد سے اس کے احساسات ٹرپ اٹھیں اور شجاعت و نبرد آزمائی کا تقاضا یہ ہے کہ طبیعت میں نرمی و رحمدلی کے بجائے خون ریزی و سفاکی کا جذبہ ہو، ہر گھری لڑنے الجھنے کے لئے تیار اور مرنے مارنے کے لئے آمادہ نظر آئے اور ان دونوں تقاضوں میں اتنا بعد ہے کہ کرم کی تبسم ریزیوں میں شجاع کے کڑے تیوروں کو سمویا نہیں جا سکتا۔ اور نہ حاتم سے شجاعت ِ رستم کی اُمید اور نہ رستم سے سخاوتِ حاتم کی توقع کی جاسکتی ہے ، مگر علی ابن ابی طالب ؑ کی طبیعت ہر فضیلت سے پوری مناسبت اور ہر کما ل سے پورا لگاؤ رکھتی تھی اور کوئی صفت ِحسن و کمال ایسی نہ تھی جس سے ان کا دامن خالی رہا ہواور کوئی خلعت ِخوبی و جمال ایسا نہ تھا، جو ان کے قدو قامت پر راست نہ آیا ہو اور سخاوت و شجاعت کے متضاد تقاضے بھی ان میں پہلو بہ پہلو نظر آتے تھے، اگر وہ داد و دہش میں ابرِ باراں کی طرح برستے تھے تو پہاڑ کی طرح جم کر لڑتے اور دادِ شجاعت بھی دیتے تھے، چنانچہ ان کے جودو کرم کی یہ حالت تھی کہ فقرو افلاس کے زمانے میں بھی جو دن بھر کی مزدوری سے کماتے تھے، اس کا بیشتر حصہ ناداروں اور فاقہ کشوں میں بانٹ دیتے تھے اور کبھی کسی سائل کو اپنے گھر سے ناکام واپس نہ جانے دیتے تھے۔یہاں تک کہ اگر میدانِ جنگ میں دشمن نے تلوار مانگ لی تو آپؑ نے اپنے زورِ بازو پر بھروسہ کرے ہوئے تلوار اس کے آگے پھینک دی۔بلکہ رزم حق و باطق میں بھی حضرت علی ؑنے کرم نوازی کے جوہر دکھائے۔ چنانچہ ایک جنگ میں دشمن سے برسر پیکار تھے۔ مقابلے میں ایک جری و قوی دشمن حیدرکرار ؑ کو زیر کرنے کی بھر پور کوشش کے سلسلے میں لگاتار وار پہ وار کرتا جارہا تھا۔ ایک مرتبہ حیدر کرارؑکے وار کی تاب نہ لا سکا اس کے ہاتھ سے تلوارچھوٹ گئی۔ اپنی موت کو سامنے پاکر اس کے لرزتے ہونٹوں سے بلاناغہ ملتمسانہ صدا نکل گئی :اے علی !اپنی تلوار مجھے دے دیجئے۔ شیرِ جبار نے بلا تامل ذوالفقار اپنے دشمن کو دے دی۔ آپؑ کی اس قدربے جگری اور کرم نوازی سے حق مخالف اس سپاہی کے ذہن میں یہ خیال گونج اٹھاکہ یداللہٰی بے تیغ بھی فنا کے گھاٹ اتارنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ لہٰذااس نے خود سپردگی کی راہ اختیار کرکے کلمہ حق زبان پر جاری کیا   ؎   
کافر ہے تو تلوار پر کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی      
 علامہ اقبال
تیغِ مروت سے اپنی باطل پرست زندگی سے نجات اور حق پر مبنی ایک نئی زندگی سے مستفید ہونے والے اس شخص کے دل میں یہ تڑپ بڑھتی گئی۔ کہ حضرت علی ؑکی اس قدر کرم نوازی کے پیچھے کیا راز پوشیدہ ہے جو  انہوںنے ایک دشمن کے ہاتھ میں تلوار دے کر اپنی جان کو بلاوجہ خطرے میں ڈال دیا۔ بالآخر اس نے قائد متقیان سے یہ استفسار ایک روز کرہی ڈالاکہ مجھے اس راز سے آگاہ کردیجئے کہ کیونکر آپؑ نے جنگی اور عسکری حکمت عملی کے منافی اپنے دشمن کو اپنا ہتھیار مرحمت فرمایا؟ تو انہوںنے اس شخص سے جواباً ًفرمایا: کہ جب تک تم میرے ساتھ ہتھیار بند لگاتار لڑرہے تھے تب تک تم میرے دشمن تھے اور میری یہی کوشش تھی کہ تمہیں ٹھکانے لگادوں لیکن جب تیرے ہاتھ سے تیری تلوار چھوٹ گئی اور تونے ذوالفقار کی صورت میں زندگی کی بھیک مانگی اور تم جنگ آزما سے سائل بن گئے، تو میری سخاوت میری شجاعت پر غالب آگئی۔جذبۂ ترحم کی خنکی نے شعلۂ غضب کو ٹھنڈا کردیااور میر ی سخاوت کبھی بھی اس بات کی متحمل نہیں ہوسکتی ہے کہ درِعلی ؑپر آکر کوئی سائل خالی ہاتھ لوٹ جائے۔ چاہے مانگنے والا علی ؑکا کی جان کا بھی ضرورت مند کیوں نہ ہو۔مفتی جعفر حسین ایک اور جگہ رقمطراز ہیں: شجاعوں کی من چلی طبیعتیں سوچ بچار کی عادی نہیں ہوا کرتیں اور نہ مصلحت بینی و مآل اندیشی سے انھیں کوئی لگاؤ رہتا ہے ، مگر آپؑ میں شجاعت کے ساتھ ساتھ سوجھ بوجھ کا مادہ بھی بدرجۂ اتم پایا جاتا تھا، چنانچہ امام شافعی ؒکا قول ہے : میں اس ہستی کے بارے میں کیا کہوں ، جن میں تین صفتیں ایسی تین صفتوں کے ساتھ جمع تھیں جو کسی بشر میں جمع نہیں ہوئیں ، فقر کے ساتھ سخاوت، شجاعت کے ساتھ تدبر و رائے اور علم کے ساتھ عملی کارگزاریاں۔‘‘  (نہج البلاغہ مترجم مفتی جعفر حسین ص۶۶ ،۷۶)