حضرت شیخ نور الدین نورانی ؒ کا عرس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

سرینگر// شیخ العالم حضرت شیخ نورالدین نورانی ؒکا سالانہ عرس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا جس دوران فرزندان توحید نے اُن کی زیارت گاہ پر حاضری دی اور روح پرور مجالس میں شرکت کی۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی تقریب اُن کے آستانِ عالیہ چرار شریف میں منعقد ہوئی جس میں عقیدتمندوں کی بڑی تعداد نے حاضری دی۔ کووڈ19کے پیش نظر شب خوانی کی مجلس آراستہ نہ ہوسکی تاہم صبح سویرے ہی ختمات المعظمات، درود و اذکار کی مجلس آراستہ ہوئی۔ اس موقع پرعلما اور مقامی میرواعظ نے شیخ العالم کی سیرت اور کلام پر روشنی ڈالی۔ انجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے اوقاف کے سربراہ میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کی طرف سے حضرت شیخ نو رالدین نورانیؒکے عرس پاک پر شیخ العالم کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے انہیں شریعت و طریقت اور حقیقت و معرفت کاپیکر قرار دیا ہے۔بیان میں کہا گیاکہ شیخ العالمؒ بنیادی لحاظ سے ایک اعلیٰ پایہ کے دینی ور وحانی پیشوا اورایک عظیم مصلح اورمربی تھے جنہوں نے قرآن حکیم کی ابدی اور لافانی تعلیمات کو ہماری اپنی مادری زبان (کشمیری) میں پیش کرنے کی ایک انتہائی کامیاب اور مخلصانہ کوشش کی ۔ یہی وجہ ہے کہ صدیاں گزرنے کے باوجود انکے کلام کی معنویت، افادیت، اہمیت،چاشنی اور بانکپن میں کوئی کمی نہیں آئی اور جنہیں آج بھی کشمیری عوام خاص طور پرمبلغین پورے جوش و عقیدت کے ساتھ مجالس میں پڑھتے اور پڑھاتے آرہے ہیں۔انجمن نے کہا کہ حضرت شیخ نور الدینؒ کا عرس منانے کا حق تب ہی ادا ہو سکتا ہے جب کشمیری عوام آج کے سنگین اور تباہ کن حالات کے تناظر میں انکے دکھائے ہوئے راستے کی حقیقی معنوں میں عملی طور پر پیرو ی کرے۔ادھرجمعیت ہمدانیہ کے سربراہ مولانا ہمدانی نے اپنے پیغام میں کہا کہ خطہ کشمیر کے اِس بلند پایہ ولی کامل نے اسلام کی تبلیغ واشاعت میں جو کارنامے انجام دئے وہ تاریخ اسلام میں ایک سنہری باب ہے اور حضرت علمدار کشمیرؒ نے اپنی مادری زبان کشمیری میں قرآن اور حدیث کی تعلیم کو بیان کرکے اہل کشمیر پر بڑا احسان کیا۔ اس دوران مولانا شوکت حسین کینگ، مولانا خورشید احمد قانونگو نے بھی شیخ العالم حضرت شیخ نور الدین نورانیؒ کے اسلامی کارناموں اور روحانی و عملی کمالات کو یاد کیا ۔