حضرت شیخ نجم الدینؒ کا یوم شہادت

سرینگر//انجمن حمایت الاسلام کے صدر مولانا خورشید احمد قانونگو نے حضرت شیخ نجم الدین احمد الکبریٰؒ کے 825ویں یوم شہادت پر انہیں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس دن چنگیز خان کے مظالم کو قوتِ صدیقی سے للکار کر حضرت امام حسینؓ کی عزیمت کا راستہ اختیار کرکے اپنے جری و بہادر خلفاء کے ساتھ جام شہادت نوش فرمایا اور آنے والی نسلوں کیلئے یہ پیغام بطور وراثت چھوڑا کہ اسلام اور وطن کی حفاظت کیلئے مسندِ علم ، خانقاہی نظام و دیگر روحانی و علمی مشغولیات کسی ظالم کو منہ توڑ جواب دینے کیلئے حائل نہیں ہوجاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ نجم الدینؒ کا حلقہ ارادت پورے خراسان ، افغانستان ، روس سے تمام آزاد شدہ اسلامی ممالک، ترکی، ہندوستان بلکہ پورے عرب و عجم پر چھایا ہوا تھا، یہی وجہ ہے کہ مشہور سلفی تحریک کے موجد علامہ شیخ ابن تیمیہؒ نے حضرت سید عبدالقادر جیلانیؒ ، حضرت شیخ نجم الدین احمد الکبریؒ کی گراں قدر خدمات اور تزکیہ نفس کی تحریک بشکل سلسلہ قادریہ و کبرویہ بہ سر چشم قبول کیا۔ حضرت نجم الدینؒ علم ،تقویٰ و تزکیہ نفس کے پیکرِ نمونہ و علمی و عملی کردار کے نجمِ ہدایت تھے جس کی شعاعوں کے فیضان سے عالم اسلام منور ہوا اور آنجنابؒ کے خلفاء بالخصوص حضرت سلطان بہائوالدین ولد،ؒ ان کے فرزند مولانا رومؒ ، حضرت نجم الدین رازیؒ ، حضرت شیخ علیل غزنویؒ ، حضرت سیف الدین باخرزیؒ ، حضرت عین الزمان گیلیؒ نے اس علمی ، روحانی ، تصنیف و تالیف، اخلاقی تربیت ، تبلیغی اصلاحی و سماجی تحریک کو اطرف و اکناف میں پہنچایا اور بالواسطہ حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ ، حضرت علامہ فخر الدین رازیؒ، حضرت شاہ ہمدانؒ، مخدومی حضرت شیخ یحییٰ منیریؒ ، حضرت سید اشرف جہانگیر سمنانی، حضرت سید علاو الدین سمنانی، پورے ایران، ہندوستان بالخصوص وادی کشمیر کو روحانی طور سیراب کیا۔ پھر اس تحریک کوحضرت شیخ العالمؒ ، حضرت شیخ یعقوب صرفیؒ، حضرت سلطان العارفینؒ، حضرت شیخ اکمل الدین بدخشیؒ نے راسخ عقیدہ کے تحت زندہ رکھا اور اس تحریک کے تحت کشمیر میں توحید ،قرآن و سنت و دیگر روحانی تعلیمات کی بنیادوں کو مضبوط کیا، توہم پرستی ، طلسماتی مکرو فریب کو حقیقی تصوف سے جواب دے کر عمارتِ اسلام کو آنچ آنے نہیں دی۔ واضح رہے اقوام اسلام پر جتنی آفتیں آئی ہیں، وہ خاصکر مسلکی اختلافات ، انتقام اور اپنی مسلکی فکر دوسرے پر تھوپنے کی کوشش میںہمیشہ دشمنان اسلام نے موقع اور فائدہ اٹھایا مگر حق پر مبنی جماعتوں نے ہمیشہ حق پسندی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ چند تنگ نظر علماء آج بھی ان کوششوںمیں مبتلا نظرآتے ہیں اور ایک دوسرے پر تقصیر بازی اور مناظرہ ایک دوسرے کے ساتھ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں جو ہمارے لئے سم قاتل ہے جس سے اجتناب کرنے کی ضرورت ہے۔ آج اس مبارک دن پر کشمیر کی خانقاہوں و مرکزی تبلیغی مقامات پر آنجنابؒ کی خدمات پر مبلغین روشنی ڈالیں گے ۔ اس سلسلہ میں قبل از نماز جمعہ خانقاہ اکملیہ حول میں بھی اسکی روشنی میں مفصل بیان ہوگا۔