حضرتبل سے لالچوک کے بس کرایہ میں یکطرفہ اضافہ | ٹرانسپورٹروں پر مسافروں کو دو دو ہاتھوںسے لوٹنے کاالزام

سرینگر //حضرت بل سے لالچوک تک مسافر گاڑیوں میں سفر کرنے والے لوگوں کو دو دو ہاتھ سے لوٹا جارہا ہے۔ حضرت بل سے لالچوک تک کے راستے جانے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ ایک طرف مسافر گاڑیوں میں اوور لوڈنگ سے لوگوں کی جانوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے تو دوسری جانب اضافی کرایہ وصول کیا جاتاہے۔ ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں نے بتایا کہ حضرت بل سے رعناواری تک مسافر گاڑیوںکا کوئی مقرر ہ کرایہ نہیں ہے اور کنڈیکٹر اپنی مرضی سے کرایہ وصول کرتاہے ۔ سعیدہ کدل سے تعلق رکھنے والے ایک شہری مشتاق احمد نے بتایا ’’ کورونا وائرس سے قبل سعیدہ کدل سے حضرت بل تک 3کلو میٹر کے سفرکیلئے صرف 6روپے کرایہ تھا جس کو بس مالکان نے اپنے مرضی سے 13روپے کردیا ہے‘‘۔مشتاق احمد نے بتایا ’’ حکومت نے مسافر گاڑیوں کے مالکان کو ہدایت دی تھی کہ وہ صرف 50فیصد سواریاں اٹھانے کی صورت میں مسافروں سے اضافی کرایہ وصول کر سکتے ہیںلیکن گاڑیوں میں 100فیصد سواریاں بھرنے کے علاوہ اورلوڈنگ بھی کرتے ہیں‘‘۔سعیدہ کدل کے رہنے والے ایک نوجوان رئیس احمد کاکہنا ہے کہ ’’ سعیدہ کدل سے لالچوک تک کا کرایہ کورونا کے پھیلائو سے قبل صرف 9روپے تھا لیکن لاک ڈائون ختم ہونے کے بعد بس کرایہ میں 5روپے کا اضافہ کیا گیا ہے‘‘۔ رئیس احمد نے کہاکہ مسافروں کو دو طریقوں سے لوٹا جارہا ہے، ایک طرف مسافر گاڑی میں ساتھ بٹھا کر جان سے کھیلا جاتا ہے اور دوسری جانب 100فیصد اضافہ کرایا وصول کیا جاتا ہے‘‘۔لوگوں نے ٹرانسپورٹ حکام سے اپیل کی کہ وہ معاملہ کا جائزہ لیکر عوام کو راحت پہنچائیں۔