حسیب کے نصیب میںخسارہ دیکھئے

وہ تو بانوئے کشمیر کے لئے مرد مومن تھے ،خود کے لئے قطبین کا ملاپ کرنے والے اور تاریخ کا رخ موڑنے والے اہل سیاست   اور اب تو سابق وزیر خزانہ نے انہیں اس کا رہبر و رہنما گردانا ۔ہو کیوں نہیں اسے تو قطبین کے ملانے والا ایسا کیمیا بتایا جو فیوی کال سے بھی مظبوط ہو۔جبھی تو رام کے ساتھ مل کر قلم کنول کا باہمی  مادھو تراشا کہ دوات کے اندر کنول کے پھول اگتے رہے اور کچھ تو اس حد تک کہتے ہیں کہ ایسے میں دوات کی روشنائی کنول اگانے میں سوکھ گئی۔خیر ہم تو عام خام لوگ ہیں ،ہماری کیا بساط ،مرد مومن نے تو اسے اردلی ٔ خزانہ مقرر کیا کیونکہ اپنے یہاں اردلیوں کی کمی ہے۔ لوجی !سیاست میں رہبری پر عوام تو اعتماد نہیں رکھتے لیکن رہبر تعلیم، رہبر زراعت، رہبر جنگلات بنا کر  نام نہاد رہبروں کی نئی کھیپ تیار کی اوراپنے جوانوں کو ٹرخایا کہ تم سے ہی رہبری کا کام لینا ہے   ؎
ہماری رہزنی کا سب کو ملال ہے 
پر تیری رہبری کا سوال ہے
کاشمر میں سب کچھ ارزان ہے
 رہنما جو ڈھونڈیئے، قحط الرجال ہے 
 وہ تو حسیب ہے، اس لئے ہم نے سوچا تھا کہ رہبر خزانہ بن کر اقتصادایات کا حساب رکھے گا ۔ پائی پائی کا حساب دے گا، آنے آنے کا گوشوارہ پیش کرے گا۔چمڑی جائے گی پر دمڑی کا ہیر پھیر نہیں ہوگا۔ جبھی تو راجپورہ والوں نے آنکھوں پر بٹھا کر سیاسیات کی پالکی سجا کر اسمبلی بھیجا تھا کہ ہو نہ ہو معاشیات کا سارا بورا الٹ کر ان کے آنگن میں انڈیل دے گا۔بھلے ہی مودی سرکار بنک اکاونٹ میں پندرہ پندرہ لاکھ جمع نہ کروا پائے لیکن حسیب قلم کنول سرکار کے خزانے سے مالا مال کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرے گا۔یا پھر جو قلم دوات والوں نے دوہری کرنسی کا میٹھا منہ میں انڈیل دیا تھا ہو نہ ہو  ٹخلا بابو نوٹوں کے ساتھ قراقلی لگے نوٹوں کی مشترکہ بارش ہو ہی جائے گی۔مانا کہ اس کے بدلے اس نے دلی دربار کی ہاں میں ہاں ملا کر اپنے ملک کشمیر میں جی ایس ٹی کی سنہری چڑیا متعارف کردی یہ کہکر کہ ساری معاشی بیماری کا کارگر علاج یہی ہے، بس یہی ہے۔یعنی معاشی ٹانگ ٹوٹی ہو، اقتصادی سر درد ہو،پیسے کی کمی سے پیٹ میں مروڑ ہوں یا کرنسی کی بینائی میں کالا موتیا نے حملہ کیا ہو سب کا علاج یہ جی ایس ٹی کی ایک شیشی۔جی ایس ٹی ، جی ایس ٹی ، جی ایس ٹی۔ اب قلم دوات کا استعمال کر اس نے ملک کشمیر کی تاریخیات کو کچھ اس طرح مروڑ دیا کہ گریز سے گنڈ بل اور سونمرگ سے سورسیار تک کشمیری سیاست میں بوال آیا ۔خود قلم دوات والے اس مروڑ کا درد پیٹ کیا گلے میں محسوس کرنے لگے ۔جبھی تو مدنی کیا ویری کیا سب یک زبان بول پڑے کہ بھائی صاحب حج کرو بیان واپس لو نہیں تو ہمارا قلم کیا الم توڑا جائے گا ، دوات الٹ کر روشنائی ملک کشمیر کی زمین میں جذب ہو جائے گی، پھر ہم نعرہ کیسے لکھیں ، فتویٰ کیا جاری کریںگے   ؎
جو رکھ نہ سکا اپنی زبان پر قابو 
برخاست ہو گیا حسیب درابو
انجینئر ہو یا کنٹریکٹر،سن لو 
آخری سلام ہے حسیب درابو
پھر تو بانوئے کشمیر نے آئو دیکھا نہ تائو وزارت اقتصادیات پہلے اپنے کھاتے میں اور بعد میں بات بات پر اسکول کالج بند کرائو ،ملک کشمیر کا مسلہ تعلیمات و تعطیلات سے حل کرانے والے جوس پلائو کارِ کرتاکے کھاتے میں ڈالنے کا کھیل کھیل ہی دیا ۔ ایک تو سارا حساب اپنے گھر اور دوسرے کنول والوں کے ساتھ پریم پتر لکھنے والے ماہر اقتصادیات کا بڑھتا قد روک ہی دیا کہ کہیں وہ مستقبل میں کوئی نیا ناطہ نہ جوڑ دے اور پھر مفتیاں بیج بہاڑہ کا فتویٰ کسی کام کا نہ رہے،کہ اپنے ملک کشمیر میں ایسے کانڈ ہوتے رہے ہیں۔شیخ کیا بخشی کیا، صادق کیا قاسم کیا، فاروق کیا گلہ شاہ کیا،مفتی کیا بیگ کیا  المختصر جہاں تخت پر بٹھانے والے چاہئے ساتھ میں تخت سے اتارنے کا پربندھ پہلے ہی کر کے رکھتے ہیں۔جوڑیاں توڑیاںسلامت رہیں۔
اس پر ہل والے دریندروں کو بھی موقعہ ہاتھ لگا ۔ اپنے دور میں آسیہ نیلوفر کیس کی کالک منہ پر پتائے آصفہ کے حق میں انصاف کی دہائی دینے نکل پڑے۔ساتھ میںملک کشمیر کا حل ڈھونڈنے گپکار کی خاموش سڑکوں پر ایسے لال جھنڈا لے کر فلیگ مارچ کیا کہ نیشنلی فوج کے قدم تال پر قلم کنول ایوانوں میں زلزلہ پیداہوا۔لگتا تھا ابھی ہل والی فوج چڑھائی کردے گی، پیپلز بھاجپا ٹھکانوں پر اپنا پرچم لہرائے گی،قبضے کا اعلان نوائے صبح کی چھت پر کردے گی،ایمرجنسی نافذ کر سرکاری ایوانوں کو اپنی تحویل میں لے کر تختہ پلٹنے کا ایسا اعلان کردے گی کہ قلم کنول والوں کو جموں سے سرینگر آنے کے لئے پاسپورٹ ویزا کی ضرورت محسوس ہو۔ اور تو اور ہل والے ٹویٹر ٹائیگر نے فوراً چٹکی لی کہ قلم دوات والی بانوئے کشمیر حسیب کا حساب کرنے سے اپنے گناہ دھو نہ پائے گی ۔اور ہم بس سوچتے ہی رہ گئے کہ بانوئے کشمیر کو کٹہرے میں کھڑا کرنے سے کیا وہ نعرہ بھول پائیں گے 
ظالمو جواب دو 
خون کا حساب دو
اور ہم ہیں کہ سر کھجانے بیٹھ جاتے ہیں ۔پریشان ہیں کہ کس سے حساب مانگیں ، کس کے نام الزام ڈالیں، کس سے امید رکھیں کس سے بچتے رہیں    ؎
ایک حمام میں تبدیل ہوئی ہے دنیا
سب ہی ننگے ہیں کسے دیکھ کے شرمائوں میں
خیر دھونے دھلانے کی بات جو چلی، سنا ہے کنول بردار بھاجپا اصل میں واشنگ مشین ہے۔ جبھی تو کل کے غدار اور بے ایمان بھاجپا میں داخلے پر شفاف ہوجاتے ہیں۔ان کے گناہ ایسے دھل جاتے ہیں جیسے گنگا نہائے ہوں ۔یقین نہ آئے تو مہاراشٹر کا سابق کانگریسی لیڈر کل تک رشوت خور تھا اور اس پر بھاجپا والے کرپشن کیس میں  داخل زندان کروانا چاہتے تھے کہ اچانک لیڈر نے پینترا بدلا ۔ہاتھ ملانے سے گریز کر کے کنول کا پھول چھاتی پر سجایا کہ اچانک اوپر سے نیچے تک دھل گیا اور اندر باہر شفاف ہوگیا ۔اس سے بڑھ کر نریش اگروال بڑے لمبے اور دلچسپ شعر سناتا تھا ۔نمونہ کلام پھر کبھی۔خیر کنول بردار اسے مملکت خداداد ترسیل کرنے کی بابت کاغذات تیار کر نے لگے کہ نریش دیش دروہی ہے ، ناصاف ہے ناپاک ہے مگر اگروال تو پکا بیوپاری نکلا۔ڈرائی کلین کے لئے بھاجپا لانڈری میں داخلہ لیا اور صاف و شفاف ہی نہیں ہوا بلکہ راجیہ سبھا کا ٹکٹ بھی حاصل کیا۔کنول بردار اپنی جگہ مگر جو سائیکل سواروں نے ہاتھی میرے ساتھی کا نعرہ لگایا تو یوگی مودی قلعے میں شگاف پڑ گئے کہ اب کی بار یوگی مودی سرکار کے لئے سیاسی زلزلے کا مرکز یو پی ثابت ہوا ۔گئو شالہ والا گورکھپور ہاتھ سے نکل گیا ، پھولپور کے کنول پھولوں میں وہ پرانی مہک نہیں رہی۔شاید یہ پھول اب باسی ہوگئے ہیں اور ان سے فرقہ وارانہ  بدبو کے سوا کچھ بھی نہیںمگر ہم تو کچھ اور سمجھتے ہیں۔سری رام کی سبکی کرنے والوں کے ساتھ ہاتھ ملایا تو رام جی کے جھوٹے گُن گانے والوں پر اس کی مار پڑی ۔اور تو اور یوگی مہاراج اپنے گئو ماتائیں میدان الیکشن میں اتارنے سے رہ گئے ۔شاید بھول گئے وہ ووٹ دیتیں تو بھاجپا آرام سے جیت لیتی۔ 
الیکشن تو آگے بھی ہیں ۔کہاں پندرہ لاکھ کی باتیں ، دو کروڑ نوکریوں کے وعدے، ایماندار سرکار کا آشواسن، چھپن انچ چھاتی کا گھمنڈ ۔یہ تو اب باتیں ہی رہ گئیں اب آگے دکھانے کو کچھ نہیں ۔بچی کھچی امید تو رام مندر سے ہے مگر عدالت کیا فیصلہ دے یہ تو پتہ نہیں۔مانا کہ کنول بردار اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ وہ اس سے واقف ہیں مگر لگتا ہے شاید اسی لئے یوگی پارٹی نے ڈبل سری یعنی سری سری روی شنکر کو میدان میں اتارا ہے کہ رام بھلی کرے گا کچھ ہماری مدد کرو ۔ ہمارے پاس اب دھونے نچوڑنے کو کچھ نہ رہا تم ہی اپنی ایک چادر میلی سی ہماری ستر پوشی کے لئے عطیہ میں دیے دو۔سری سری توکپڑے کم ہی پہنتا ہے لیکن لگتا ہے کسی ریڈی میڈکپڑے کی پیمایش ہے جیسے ایکس ایل یا ڈبل ایکس ۔کچھ عرصے سے اچھل کود میں مصروف ہے کہ رام مندر کا حل عدالت سے باہر ہی نکل آئے لیکن کوئی نام لینے کو تیار نہیں۔ ساتھ میں یہ دھمکی بھی بونس کے طور دیتا ہے کہ اگر رام مندر نہ بنا تو بھارت ورش میں خانہ جنگی ہوگی اور بھارت ملک شام میں تبدیل ہوگا۔ابھی ڈبل سری رام مندر کا حل نہ کرپایا کہ ملک کشمیر کو پر امن بنانے ڈل کے پانیوں پر ٹھنڈی ہوا کھانے پہنچا کہ بھائی لوگو سروں کو ٹھنڈا رکھو، دل تھام کر بیٹھ جائو کہ ہم ملک کشمیر میں امن لائیں گے۔ اہل کشمیر تو سبز رومال میں لال نمک دیکھنے کے عادی ہیںنجانے کیا کیا سبز باغ دکھانے ڈبل سری بھی پہنچا تھا ،مگراب کی بار سبز باغ میں دلچسپی پیدا نہ ہوئی۔ زندہ باد مردہ باد چلّا کر اسے چلتا کردیا گیا۔مرتا کیا نہ کرتا  فوجی ظلم کرتے ہیں ،دہرا کر اپنی راہ ہولیا۔واپس پہنچتے یہ نہ سمجھ پایا کہ ایودھیا حل کرنے آیا تھا یا مسلٔہ کشمیر ۔مسلمانوں کو بلا معاوضہ مشورہ دے ڈالا کہ رام مندر کے لئے ایودھیا میں زمین دان میں دے دویعنی باتوں باتوں میں اپنی خمیر تک پہنچ ہی گیا۔
چلتے چلتے یہ دلچسپ خبر کہ کینیڈا میں ڈاکٹروں نے اضافی تنخواہیں لینے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ اس پیسے کو کسی فلاحی اسکیم کے لئے استعمال کیا جائے لیکن اجین مدھیہ پردیش میں سنگھی بلوائیوں نے کرسچن ہسپتال میں اودھم مچائی اور جے سی بی لا کر اس عمارت کے کئی حصوں کو توڑ ڈالا۔
رابط[email protected]/9419009169