حزب ضلع کمانڈر اور ساتھی جاں بحق

نماز جنازے میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک، لشکر اور حزب کا خراج عقیدت

 
پلوامہ//کھریو کے شار شالی علاقے میں شبانہ تصادم آرائی کے دوران حزب المجاہدین سے وابستہ2مقامی جنگجوجاں بحق ہوئے ہی، جن میں ضلع پلوامہ کا ضلع کمانڈر بھی تھا۔جنگجوئوں کی ہلاکت کے بعد پلوامہ میں انٹر نیٹ اور ریل سروس بدستور بند رہی جبکہ ہڑتال کے دوران دونوں جنگجوئوں کی نماز جنازہ میں لوگوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی۔

جھڑپ کا آغاز

جنوبی قصبہ پانپور سے تقریباً 8کلومیٹر دورشار شالی کھریوعلاقے میںجنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر50آر آر،سی آر پی ایف اور ایس او جی اونتی پورہ اور پانپور نے دوران شب ہی محاصرے میں لیا اور بستی کے باہر جانے کے تمام راستے سیل کر دئے۔ اس دوران جب فورسز اس مکان کے صحن میںداخل ہوئے جس میںا نہیں جنگجووں کے موجود گی کے حوالے سے اطلاع تھی تو  افراد خانہ کو گھر سے باہر نکالا گیا اور فورسز اہلکار مکان کے اندر تلاشی لینے کے غرض سے ر داخل ہوئے۔اس موقعہ پرجنگجو مکان سے باہر آئے اور انہوں نے فورسز پر شدید فائرنگ کر کے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم انکی کوشش ناکام ہوئی جس کے بعد طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جو رات کے تقریباً 3بجے تک جاری رہا۔اس تصادم آرائی میں 2 جنگجو جاں بحق ہوئے جن کی بعد میںحزب المجاہدین کے ضلع کمانڈر پلوامہ عدنان احمدلون عرف عقاب ولد غلام محمد لون ساکن برابنڈنہ اونتی پورہ اور عادل بلال بٹ عرف عمر الحزبی ولد بلال احمد بٹ ساکن ملنگ پورہ اونتی پورہ پلوامہ کے طور پر شناخت ہوگئی۔

کون تھے دونوں جنگجو؟ 

بتایا جاتا ہے کہ عدنان احمد لون، کمانڈر ریاض نائیکو کا قریبی ساتھی رہا۔عدنان 6جنوری2015میںجنگجوئوںکی صف میں شامل ہوا اور اس وقت ضلع کمانڈر پلوامہ تھا ۔وہ قریب 4سال تک سرگرم رہا۔عدنا ن اسلامک یونیورسٹی اونتی پورہ میں بی ٹیک کی ڈگری کررہا تھا جب وہ اچانک لاپتہ ہونے کے بعد جنگجوئوں کے ساتھ شامل ہوا ۔عدنان ایک پڑھے لکھے اور صاحب ثروت کنبہ سے تعلق رکھتا تھا۔اسکا ایک بھائی ڈاکٹر، ایک انجینئراور ایک ماسٹر ہے۔عادل بلال بٹ کے بارے میں دستیاب جانکاری کے مطابق انہوں نے یکم اکتوبر 2017کو بندوق اٹھائی۔عادل نے بارہویں تک تعلیم حاصل کی تھی اور اسکے بعد وہ ایک مقامی ٹھیکیدار کیساتھ بطور کاریگر اونتی پورہ ائر پورٹ میں کام کرتا تھا۔اس سے قبل اس نے پلوامہ میں کمپوٹرکی تربیت حال کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔عادل بھی ریاض نائیکو کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتا تھا۔

ہڑتال و نماز جنازہ

جنگجوئوں کی ہلاکت کے خلاف پورے پلوامہ ضلع میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمولات  زندگی بری طرح متاثر رہی ۔ انتظامیہ نے افواہ بازی کو روکنے کے لئے انٹر نیٹ سروس بند کرنے کے علاوہ ٹرین سروس کو بھی معطل کر دیا ۔پلوامہ ضلع میںہڑتال کے باعث دکانات ،کاروباری ادارے بند رہے جبکہ تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کا عمل بھی متاثر رہا ۔پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ۔حساس علاقوں میں فورسز کی بھاری نفری ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خد شات کے پیش نظر تعینات کی گئی تھی ۔ادھرپولیس نے دوران شب ہی نعشوں کو پولیس اسٹیشن اونتی پورہ پہنچا کر قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعدجمعرات کی صبح سویرے لواحقین کے حوالے کر دیا ۔دونوں جنگجوئوں کی لاشوں کو آبائی علاقوں میں لیا گیا جہاں کافی تعداد میں لوگ موجود تھے جو آزادی کے حق میں نعرے لگارہے تھے۔بعد میں دونوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی جن میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور انہیں سپرد خاک کیا گیا۔ لوگوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عدنان کی تین بار نماز جنازہ ادا کی گئی جبکہ عادل کی چار بار نماز جنازہ پڑھائی گئی۔

پولیس کیا کہتی ہے؟

پولیس کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق عدنان لون ضلع کمانڈر پلوامہ تھا۔مہلوک سیکورٹی فورسزپر حملوں ، عام شہریوں کوتشد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں ملوث رہ چکا ہے۔ اُس کے خلاف سال 2015سے جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔ عدنان لون کمانڈر ریاض نائیکو کا قریبی ساتھی تھا اور وہ حال ہی میں سرینگر میں جھڑپ کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہوا تھا۔ اُس کے خلاف کئی کیس بھی رجسٹر ہے۔ عادل بٹ بھی ریاض نائیکو کا قریبی ساتھی تھا اور اُس کے خلاف بھی جرائم کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔ اکتوبر 2017میں مہلوک نے اونتی پورہ میں ہیڈ کانسٹیبل عاشق حسین کا قتل کیا۔  جھڑپ کی جگہ اسلحہ و گولہ بارود اور قابلِ اعتراض مواد برآمدکرکے ضبط کیا گیا۔

قاضی گنڈ اور کولگام میں ہڑتال

لشکر کمانڈر نوید جٹ کی ہلاکت کے خلاف ڈورو اور قاضی گنڈ میں تعزیتی ہڑتال رہی ،جس دوران معمول کی زندگی متاثر رہی ۔دونوں قصبوں میں تمام دکانیں ،کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑک سے ٹریفک کی نقل وحرکت متاثر رہی ۔لالچوک اننت ناگ میں پتھرائو کا معمولی واقع پیش آیا جس کے سبب یہاں کچھ دیر کے لئے دکانیں بند ہوئیں ۔ضلع اننت ناگ میں تیز رفتار انٹرنیٹ سروس بعد دوپہر بحال کر دی گئی ۔ادھر کولگام میں جمعرات کو آٹھویں روز بھی مکمل ہڑتال رہی۔کولگام قصبہ کے علاوہ کیموہ، ریڈونی، کھڈونی، گھاٹ، آرونی اور دیگر علاقوں میں ہر قسم کی معمولات متاثر رہیں۔

بانہال بھی بند

کشمیر میں جنگجوئوں اور عام شہریوں کی پے در پے ہلاکتوں کے خلاف قصبہ بانہال اور ٹھٹھاڑ اور چریل کے علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی جس کی وجہ سے معمول کی زندگی متاثر رہی ۔ ہڑتال کی کال مقامی سطح پر اگرچہ کسی بھی تنظیم یا تاجر برادری نے نہیں دی تھی تاہم  بظاہر کشمیر ہلاکتوں کو لیکر جمعرات کی صبح سے ہی قصبہ بانہال اور شاہراہ پر واقع  چریل اور ٹھٹھاڑ کی مارکیٹوں میں بیشتر دکانیں مکمل طور بند تھیں تاہم قصبہ بانہال میں ہڑتال کا علم نہ ہونے کی وجہ سے اکا دکا دکانیں کھلی ہوئی تھیں ۔ کئی دکانداروں نے بتایا کہ یہ ہڑتال کشمیر میں پچھلے چند روز سے لشکر کمانڈر نوید جٹ سمیت کئی جنگجو کمانڈروں اور ایک بچی سمیت عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف اور کشمیریوں کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کے طور کی گئی۔ 

حزب اور لشکر کا خراج عقیدت

حزب المجاہدین نے عدنان لون اور عادل بٹ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔حزب ترجمان سلیم ہاشمی کے مطابق سپریم کمانڈر سید صلاح الدین کی زیر صدارت کمانڈ کونسل کا ایک اجلاس منعقد ہوا ۔صلاح الدین نے کہا کہ دونوں جذبہ جہاد سے سرشار تھے، شہداء نے اپنا قیمتی لہو تحریک آزادی پر قربان کرکے تحریک کی آبیاری کی۔انکے اس مقدس لہو کے ساتھ کسی کو کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صلاح الدین نے کہا گذشتہ چند روز میں26 عسکریت پسندوں نے راہ حق میں اپنے مشن کی آبیاری کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔نائب امیر حزب المجاہدین سیف اللہ خالد نے بھی اجلاس کے دوران انہیںاور چھترگام بڈگام میں نوید جٹ اور اس کے ساتھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ادھرلشکر طیبہ سربراہ محمودشاہ نے پانپور میں کمانڈرعادل حزبی اور انجینئر عدنان کو شاندارالفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ جس تیزی کے ساتھ تحریک آزادی کشمیر آگے بڑھ رہی ہے اور ہندوستانی فورسز اپنے آخری حربے استعمال کررہی ہے اس سے یقین ہوتا جارہاہے کہ اب ہندوستان کی شکست بہت زیادہ دور نہیں ہے ۔محمودشاہ نے بپن روات کے ڈرون حملوں کے حوالے سے دیے گئے بیان پر اپنے ردعمل میں کہاہے کہ ڈرون حملوں کی بات کرنا اپنی شکست کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے ۔یہ ہندوستانی فوجی سربراہ کی بوکھلاہٹ کو واضح کررہی ہے ۔بپن راوت اس بات کی دھمکی دے رہے ہیں جس سے ہم پیار کرتے ہیں ۔ہمیں موت کی دھمکی دینا بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں ۔انہوںنے معراج احمد کے جنازے پر بھارتی فورسز کی طرف سے شیلنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بزدلی کی بدترین مثال اور ہو نہیں سکتی ۔