حریت پسندوں کیخلاف کارروائیاں مذموم

 سرینگر//حریت (گ)اور حریت (ع) نے شمالی کشمیر میں فورسز کی جانب سے شبانہ چھاپوں کا سلسلہ دراز کئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے کشمیر کے حالات کا سنجیدہ نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔حریت(گ) ترجمان نے ریاست کے قریہ قریہ میں افواج اورایس او جی اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاریوں اور شبانہ چھاپوں کے بارے میں اپنے بیان کہا ہے کہ سابقہ عسکریت پسندوں ،حریت پسند اراکین اور سینر رہنمائوں کے گھروں پر شبانہ چھاپوں اور گرفتاریوں سے متعلق اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔حریت نے کہا ہے کہ حکام نے ریاست میں حریت پسند جماعتوں سے وابستہ اراکین و قائدین کے خلاف کاروائیاں عمل میںلانے کیلئے ان علاقوں میں تعینات فوجی کیمپوں کو متحرک کیا ہے ۔ حریت نے سابقہ ؑسکریت پسندوں ،جو اپنے روزگار کے سلسلے میں مصروف ہیں ، کو فوجی کیمپوں پر حاضر ہونے اور پُر امن سیاسی کارکنوں کے خلاف فوجی اہلکاروں کو جھونکنے کی کاروائی کو ایک سنگین اور حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے ان آمرانہ کاروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔حریت کانفرنس نے ایک معروف حریت پسند عبدالاحد وازہ کے گھر پر آورہ ذرہامہ کپوارہ فوجی کیمپ کی طرف سے چھاپہ کی کاروائی کے دوران ان کے اہل خانہ کو ہراسان کرنے ، حاجن بانڈی پورہ میں سینیر حریت پسند رہنمائوں عبدالحمید پرے ،خورشید احمد حجام ،نثار احمد راتھر ،غلام حسن شاہ ،محمد مظفر لون اور شکیل احمد صوفی ( بارہمولہ ) کو شبانہ چھاپوں کے دوران گرفتار کئے جانے کے دوران جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کی کاروائیوں  شدید مذمت کی ۔حریت کانفرنس نے ماسٹر علی محمد ( حاجن بانڈی پورہ) کے گھر پر ٹاسک فورس اور فوجی اہلکاروں کی طرف سے شبانہ چھاپے کی کاروائیوں کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے نوجوان نسل اور سابق عسکریت پسندوں کو ظلم و جبر کا نشانہ بنانے اور پشت بہ دیوار کئے جانے کی کاروائیاں غیر انسانی ہیں۔ ۔ادھر حریت  (ع)نے کشمیر کے مختلف مقامات  خاص طور پر حاجن بانڈی پورہ  اورپلوامہ میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی گرفتاری ، شبانہ چھاپوں ، عام لوگوں کو ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کے سلسلے کو غیر جمہوری اور بدترین آمریت قرار دیتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ حکمران طبقے نے نہتے کشمیریوں کیخلاف آئے روز غیر انسانی کارروائیاں جاری رکھنے کے عمل کو روز کا معمول بنا لیا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ عام لوگوں کو اپنی تعذیب اور تشدد کا نشانہ بنانا حکمرانوں کی ایک مستقل پالیسی بن گئی ہے ۔اس دوران سینئر حریت رہنما مختار احمد وازہ نے جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں کئی عوامی وفود اور کارکنوں کی کارنر میٹنگوں سے خطاب کرتے ہوئے اس پورے علاقے میں حکومت کی طرف سے جاری ظلم و تشدد کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے جنوبی کشمیر کو ایک طرح سے فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور آئے روز یہاں کے عوام کو سرکاری فورسز کے ہاتھوں مختلف نوعیت کے مظالم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ وازہ نے کراپر شانگس جاکر گزشتہ دنوںمژھل میںایک فرضی جھڑپ کے دوران جان بحق  کئے گئے ۲۵ سالہ نثار احمد بٹ ولد پروفیسر غلام رسول بٹ کے اہل خانہ کے ساتھ اس سانحہ پر حریت چیرمین  میرواعظ  عمر فاروق اور قیادت کی جانب سے تعزیت اور تسلیت کا اظہار کیا