حریت لیڈرروں کو مذہبی سرگرمیوں کی آزادی حاصل

سرینگر// ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پل وید نے کہا ہے کہ محض قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے ) کی چھاپہ ماری سے ہی کشمیر میں حالات بہتر نہیں ہوئے بلکہ کامیاب آپریشنز کے باعث نہ صرف صورتحال بہتر ہوئی بلکہ پتھرائو اور تشدد میں بھی کمی آئی ۔انہوں نے کہا کہ حریت لیڈران کی پرامن سر گرمیوں پر کوئی پابندی نہیں ہے،تاہم کسی کوبھی امن وقانون کی صورتحال میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔ پولیس سربراہ  نے ایک انٹر ویو میں کہا کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی ’این آئی اے ) کے چھاپوں سے ہی کشمیر میں صورتحال بہتر نہیں ہوئی بلکہ اِسکی دیگر کئی وجوہات بھی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں صورتحال گزشتہ برس کے مقابلے میں بہت زیادہ بہتر ہے ، گزشتہ برس کے مقابلے میں امسال پتھرائو اور تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ۔ان کا کہناتھا کہ پچھلے سال ہرروز کئی پتھرائو کے واقعات رونما ہوتے تھے ،لیکن اب کوئی پتھرائو کا واقعہ رونما نہیں ہو تا ۔ وید نے کہا کہ تجارتی سرگرمیاں جاری ہیں اور اسکول بھی کھلے ہیں ،تاہم ملی ٹنسی کے واقعات رونما ہوئے ۔ان کا کہناتھا ’ہماری کوششیں یہ ہیں کہ جو کوئی ملی ٹنسی کی سر گرمیوں سے وابستہ ہے ،اُسے یا تو مار دیا جائے یا پھر اُسے حراست میں لیا جائے ‘۔ان کا کہناتھا کہ کئی افراد جو ملی ٹنسی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے ،کو حراست میں لیا گیا ،کیس درج کئے گئے موثر تحقیقات ہوئی جسکے نتیجے میں گزشتہ10ماہ میں تشدد میں نمایاں کمی آئی ۔ڈائریکٹر جنرل نے کہا ’ ہم چاہتے ہیں کہ کشمیر منشیات ،بندوق اور تشدد سے پاک ہو‘۔انہوں نے کہا ’کشمیر کو اِن تین چیزوں سے آزادی کی ضرورت ہے ‘۔انہوں نے کہا ’میری پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ ہمیں اِن مہلک اور خطر ناک تین چیزوں سے فارغ کرے کیو نکہ یہ چیزیں وائرس کی طرح پاکستان سے درآمد ہوتی ہیں ۔‘ انہوں نے کہا کہ پولیس سنگبازوں کی کونسلنگ کررہی ہے اور اِسکے مثبت نتائج برآمدہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اِس حوالے سے قومی سطح کے ایک ادارے سے اشتراک بھی حاصل کیا گیا ،تاکہ یہاں کے نوجوانوں کو تشدد کی فضا سے باہر نکا لا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ کافی نوجوانوں کو کونسلنگ کے بعد رہا کیا گیا جو سنگبازی میں ملوث تھے جبکہ65نوجوانوں کو ملی ٹنسی کی دلدل سے باہر نکال کر قومی دھارے میں شامل کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ250مرتبہ جنگجوئوں نے اُس پار کشمیر سے اِس پار داخل ہونے کی کوشش کی،75سے لیکر80جنگجوئوں کو در اندازی کے دوران جاں بحق کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مقامی نوجوانوں کی جانب سے جنگجوئیت کی راہ اختیار کرنے میں بھی کمی آئی ہے کیو نکہ پولیس وفورسز نے اعلیٰ کمانڈروں کو ہلاک کیا ۔ ایس پی وید نے کہا کہ حریت لیڈران کی مذہبی سر گرمیوں پر پولیس کی جانب سے کوئی پابندی نہیں ہے ،وہ کہیں پر بھی کسی بھی وقت نما ز ادا کرسکتے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ ’ہم اُنکی پرامن سر گرمیوں پر کوئی پابندی عائد نہیں کرنا چاہتے ہیں ،لیکن جب بھی ہمیں تشدد کا خدشہ رہتا ہے اور ہم عوام کے جان ومال کے تحفظ کو ملحوظ نظر رکھ کر پابندیاں اور بندشیں عائد کرتے ہیں ۔