حریت لیڈران اور کارکنان کی پکڑ دھکڑغیر جمہوری:جماعت

سرینگر//جماعت اسلامی نے کہاہے کہ وادی کشمیر میں اُن سیاسی لیڈروں اور کارکنوں،جو مسئلہ کشمیر کو ایک حل طلب مسئلہ مان کر اس کے منصفانہ اور عوامی خواہشات کے عین مطابق حل کرانے کا مطالبہ کرتے ہیں‘ کے گھروں پر چھاپے ڈالنے اور انہیں گرفتار کرنے کا ایک اور سلسلہ پچھلے کئی روز سے بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔ حریت نواز تنظیموں سے وابستہ سینکڑوں لیڈر اور کارکن وادی اور بیرون وادی کے جیلوں اور مقامی پولیس تھانوں میں نظر بند کئے گئے ہیں اور ان میں کئی ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کے اہل خانہ کو یہ تک نہیں بتادیا جارہا ہے کہ وہ کیوں زیر حراست ہیں اور کہاں رکھے گئے ہیں حالانکہ سپریم کورٹ کی واضح ہدایات اور انسانی حقوق سے متعلق بھارتی آئین میں دی گئی ضمانتوں میں یہ بات درج ہے کہ گرفتاری کے وقت ہی گرفتار شدہ فرد کے اہل خانہ کو وجوہات گرفتاری اور جائے نظر بندی سے مطلع کیا جائے اور اُن کے اہل خانہ کو اُس کی رہائی کی خاطر تمام ضروری مواد فراہم کیا جائے لیکن یہاں کی سرکاری انتظامیہ اور پولیس ان واضح ہدایات اور ضمانتوں کی کھلی خلاف ورزی کی مرتکب ہیں۔ بیان کے مطابق یہاں کے پولیس تھانوں اور تفتیشی مراکز میں محبوسین کو بلاکسی جواز کے قید رکھا جاتا ہے اور نہ ہی اُن کو وجوہات گرفتاری سے مطلع کیا جاتا ہے اور نہ ہی اُن کے اہل خانہ کو جائے نظر بندی کی اطلاع فراہم کی جاتی ہے۔ ایک حقیقی جمہوری نظام حکومت میں ہر ایک رہنے والے کو اپنی رائے کے اظہار کی مکمل آزادی ہوتی ہے لیکن ریاست جموںوکشمیر میں یہ آزادی تقریباً سلب کرکے رکھ دی گئی ہے یہاں تک کہ مذہبی تقریبات پر بھی پابندی عائد کی جاتی ہے جس کا واضح ثبوت جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر بار بارقدغن ہے۔جماعت اسلامی ترجمان نے کہاکہ پرامن احتجاج کرنے کا حق بھی یہاں کے عوام سے چھینا گیا ہے۔ عوامی لیڈروں کو اُن کے گھروں یا تھانوں یا جیلوں میں نظر بند رکھ کر اُن کو عوامی نمائندگی کے حق سے محروم کیاجاتا ہے جس کی واضح مثالیں سید علی گیلانی جیسے بزرگ رہنما کی اُن کے گھر میں سالہاسال سے مسلسل نظر بندی اور میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی بار بار خانہ و تھانہ نظر بندی شامل ہیں۔ گزشتہ کئی روز سے حریت رہنمائوں اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری کا چکرشروع کردیا گیا ہے جس کے تحت اسلامی تنظیم آزادی کے چیرمین عبدالصمد انقلابی، پیپلز لیگ کے چیرمین محمد یاسین عطائی ، تحریک وحدت اسلامی کے نثار حسین راتھر وغیرہ کو اُن کے گھروں سے بلاجواز گرفتار کرکے تھانوں میں بند کیا گیا ہے۔جماعت اسلامی جموں وکشمیر گرفتاریوں کے اس سلسلے کو فوری طور پر روک دینے اور تمام گرفتار شدگان علی الخصوص دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور اُن کی دو ساتھیوں ناہدہ نصرین اور فہمیدہ صوفی کی غیر مشروط رہائی پر زور دیتی ہے تاکہ وادی میں ایک حقیقی جمہوری فضا میں سب کواظہار رائے کی آزادی ہو جس کی ضمانت بھارتی آئین میں درج ہے۔ نیز جماعت اُن تمام نوجوانوں کو فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے جن کو پبلک سیفٹی ایکٹ اوردیگر سیاہ قوانین کے تحت گرفتار کرکے وادی اور وادی سے باہر جیلوں میں نظر بند کیا گیا ہے۔