حریت(ع) وفد بیروہ جاتے ہوئے گرفتار

سرینگر//حریت (ع) نے بیروہ جاتے ہوئے حریت اراکین کو گرفتار کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ظلم و جبر کی انتہا ہے کہ اب  غمزدہ کنبوں سے اظہار تعزیت اور یکجہتی پر بھی طاقت کے بل پر پابندی عائد کی جاتی ہے ۔حریت ترجمان کے مطابق حریت وفد تنویر احمد وانی  کی اجتماعی فاتحہ خوانی میں شرکت کیلئے بیروہ جارہا تھا ۔وفد میں مشتاق احمد صوفی، پیر غلام نبی، فاروق احمد سوداگر اور محمد صدیق شامل تھے۔ترجمان نے کہا کہ ریاستی حکمران مزاحمتی قیادت اور عوام کو دبانے اور انہیں پشت بہ دیوار کرنے کیلئے ہر غیر جمہوری اور غیر اخلاقی ہتھکنڈہ بروئے کار لارہی ہے ۔ترجمان نے کہا کہ وفد حریت چیئرمین میرواعظ محمد عمر فاروق کی ہدایت پر بیروہ بڈگام جارہا تھا تاکہ  لواحقین اور افراد خانہ کے ساتھ تعزیت و یکجہتی کا اظہار کیا جاسکے۔ترجمان نے کہا کہ مزاحمتی قائدین اور کارکنوں کے تئیں حکومت کی پالیسی سیاسی انتقام گیری پر مبنی ہے اور اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ مزاحمتی قیادت کو اپنی جائز آواز بلند کرنے سے روکا جاسکے۔اس دوران حریت رہنما مختار احمد وازہ نے دیالگام وانی ہامہ اور آرونی جاکر گزشتہ دنوں جاں بحق ہوئے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت و یکجہتی کا اظہار کیا ۔اس دوران مسلم کانفرنس کے ایک دھڑے کے چیئرمین شبیر احمد ڈار ،محاذ آزادی کے صدرمحمد اقبال میر ، انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو ،ینگ مینز لیگ کے چیئرمین امتیاز احمد ریشی اور غلام محمد میر نے بیروہ جاکر لواحقین سے تعزیت کی۔ اس موقع پر عوام سے مخاطب ہوکر شبیر احمد ڈار نے کہاکہ فوج کے ہاتھوں ایک اور نوجواںکوجرم بے گناہی میںجاں بحق کیا گیا ،جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔