حرام کو حلال سمجھنے کا رُجحان

جب کوئی گناہ عام ہو جائے تو اس کی نفرت دلوں سے نکل جاتی ہے اور جب کسی گناہ کی نفرت دل سے نکل جائے تو کسی کو اس گناہ میں مبتلا کرنے کے لئے شیطان کو زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی اور جب اس گناہ کی نفرت بھی دل میں نہیں ہوتی تو توبہ کی توفیق مشکل ہو جاتی ہے۔ تصویر کشی کا بھی یہی معاملہ ہے کہ جاندار کی تصویر بنانا، چاہے کسی بھی آلہ (چھنی ہتوڑی، قلم، کیمرہ) سے ہو حرام ہے۔ لیکن آج کل دیندار لوگ بھی کئی حیلہ سازیوں سے اس گناہ میں مبتلا ہو رہے ہیں، جو نہایت ہی افسوس ناک ہے۔ اُمت ِ مسلمہ آج جن حرام اعمال میں مبتلا ہے، ان میں سے ایک ''تصویر کشی ''بھی ہے۔ اس بدترین شوق نے اُمت ِ مسلمہ کی روحانیت پر زبردست حملہ کیا ہوا ہے، یہاں تک کہ عظیم ترین علمی ہستیاں بھی اس میں بری طرح ملوث ہیں۔بلکہ سچ کہوں تو علما کی وجہ سے تصویر کشی کا گناہ عوام کی نظر میں اب گناہ بھی نہیں رہا-لوگ دھڑادھڑ سے فوٹو کھنچوا رہے ہیں، تصویریں کھنچواتے وقت وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ کس مقام پر یہ عمل انجام پا رہا ہے؟ آپ یقین کرے کہ خانقاہیں تک محفوظ نہیں، بڑے بڑے مولوی اور'علمائے کرام فوٹو اتروا رہے ہیں، سیلفی لے رہے ہیں، اور تو اور اس گناہ سے دینی مدارس بھی پاک نہیں ہے ،عوام کی اصلاح کس طرح ہوگی، جب دینی پروگرام جلسے وغیرہ بھی اس کے بغیر مکمل نہیں ہوتے-مجھے یہ سب دیکھ کر بڑا دُکھ ہوتا ہے، ایک طرف مسلمان ظالم حکمرانوں کی مار جھیل رہے ہیں اور دوسری طرف رجوع الی اللہ کی بجاے معصیت الہٰی کا سیلاب ہے-معروف ہونے کے شوق اور شہرت کی طلب سے دینِ اسلام کو زبردست نقصان پہنچ رہا ہے اور ایک ہم ہے ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور اسی صورتِ حال کو دیکھ کر بعض ناواقف لوگوں کو اس کے جائز ہونے کا شبہ ہوجاتا ہے  بالخصوص جب علماء و مدارس اسلامیہ کے ذمہ دار حضرات کی جانب سے تصاویر کے سلسلہ میں نرم رویہ برتا جاتا ہے اور ان کی تصاویر اخبارات و رسائل میں بلا کسی روک ٹوک کے شائع ہوتی ہیں، تو ایک عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ یہ حلال ہونے کی وجہ سے لی جا رہی ہے یا ان کی بے احتیاطی کا نتیجہ ہے؟ پھر جب وہ علماء کی جانب رجوع کرتا ہے اور اس کے حلال یا حرام ہونے کے بارے میں سوال کرتا ہے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ یہ تو حرام ہے۔اس سے اس کی پریشانی اور بڑھ جاتی ہے علماء کی تصاویر کے سلسلہ نے جہاں عوام الناس کو بے چینی و پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، وہیں اس سے ایک حرام کے حلال سمجھنے کا رجحان بھی پیدا ہو رہا ہے، جو اور بھی زیادہ خطرناک و انتہائی تشویش ناک صورت حال ہےکیونکہ حرام کو حرام اورحلال کو حلال سمجھنا ایمان کا لازمہ ہے،اگر کوئی حرام کو حلال سمجھنے لگے تو اس سے ایمان بھی متأثر ہو تا ہے۔