حد متارکہ کے آر پار تجارت

سرینگر//حد متارکہ کے آر پار تجارت کو ریاست جموں وکشمیر کے لئے اعتماد سازی کا اہم قدم قرار دیتے ہوئے تعمیرات عامہ کے وزیر نعیم اختر نے کہا ہے کہ اس سے خطہ میں مفاہمت کے راستے ہموار ہوں گے۔وزیر موصوف جو کہ ریاستی حکومت کے ترجمان بھی ہیں، نے کہا کہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے یہ بات واضح کی ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتیں حد متارکہ کے آر پار تجارت کو جاری رکھنے کی متمنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جو حد متارکہ کے آر پار راستے کھول کر حاصل کیا ہے وہ اس اعتماد سازی کے اقدامات کو معطل کر نے کے حق میں نہیں ہے۔وزیر موصوف نے دُنیا کو گلوبل ولیج کے طور حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت روائتی راستے کھول کر جموں وکشمیر ریاست کو باہری دُنیا کے ساتھ جوڑنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جموں وکشمیر کے سبھی خطوں میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ رُوٹ کھولنے کے لئے کام کر رہی ہے۔نعیم اختر نے کہا کہ کچھ اختلافات کے پیش نظر حد متارکہ کے آر پار تجارتی سرگرمیو ں کو معطل کرنا صحیح نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اختلافات پاکستان کے ساتھ واہگہ بارڈر اور چین کے ساتھ ڈوکلا م میں پیش آتے رہے ہیں لیکن سرحد آر پار تجارتی سرگرمیاں لگاتار جاری ہیں۔حد متارکہ کے آر پار تجارتی پوائنٹوں پر منشیات اور ہتھیار کی اسمگلنگ کے رونما ہوئے کچھ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے وہاں پر مزید چوکسی بنائے رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت حد متارکہ کے آر پار اشیاء کو لانے اور لے جانے والی گاڑیوں کی جانچ پڑتال کیلئے ٹریڈ پوائنٹوں پر فُل باڈی سکینر نصب کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ایک نیوز رپورٹ میں مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے مابین حد متارکہ کے آر پار تجارت بند نہیں ہوگی ۔ رپورٹ کے مطابق مرکزی داخلہ سیکرٹری راجیو مہرشی نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے سرینگر میں سومو وار کو ایک میٹنگ کے دوران یہ بات کہی تھی۔مرکزی داخلہ سیکرٹری نے محبوبہ مفتی کو بتایا تھا کہ مرکزی حکومت جموں وکشمیر اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے مابین حد متارکہ کے آر پار تجارت کو بند کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی ہے۔رپورٹ کے مطابق حد متارکہ کے آر پار تجارت اور ٹرانسپورٹ سہولیات کو ہند۔ پاک کے مابین اعتماد سازی کی اہم مشق کے طور دیکھا جاتا ہے۔