حد بندی کمیشن کی کشتواڑ میں42سیاسی و سماجی وفود سے ملاقاتیں

کشتواڑ+جموں//کشمیر میں مختلف سماجی و غیر سماجی تنظیموں سے ملنے کے بعد حد بندی کمیشن نے جموں کا دورہ کیا جہاں پہلے روز ڈاگ بنگلہ کشتواڑ میں ڈوڈہ ، رام بن و کشتواڑ کے ترقیاتی کمشنروں ، سیاسی رہنمائوں و دیگروفود نے حد بندی کمیشن سے ملاقات کی۔ ضلع ترقیاتی کمشنروں نے موجودہ اسمبلی حلقوں کے جغرافیائی حدود ، آبادی پر تبادلہ خیال کیا۔ تینوں اضلاع سے جہاں 56  وفود نے ملنے کی خواہشات ظاہرکی تھی جبکہ کل 42وفودکمیشن سے ملے۔سرکاری ذرایع کے مطابق سبھی ضلع ترقیاتی کمشنروں کو 10منٹ کا وقت دیا گیا تھا جبکہ سیاسی جماعتوں کو بھی 10منٹ دئے گئے جبکہ دیگر وفود کو تین منٹ کا وقت اپنی بات کہنے کیلئے دیا گیا۔ پہلے بی جے پی کے پانچ رکنی وفد، جسکی قیادت سنیل شرما کررہے تھے ،نے کمیشن سے ملاقات کی جسکے بعد انھوں نے میڈیا کو بتایا کہ انھوں نے تین مدعے کمیشن کے سامنے رکھے جن میں خطہ چناب کو دیگر میدانی سطح کے حلقوں کی طرح نہیں رکھا جانا چاہے جب حد بندی ہو تو اسے الگ رکھا جاناچاہے کیونکہ تینوں اضلاع دورافتادہ علاقہ جات پر مشتمل ہیں اور ووٹران کی بڑی تعداد ان علاقوں میں رہایشی ہے جہاں ایک نمائندے کو پہنچنے کیلئے کڑی مشقت کرناپڑتی ہے جبکہ نئے حلقوں کو ضلع کے اندر نہیں جبکہ ضلع کے باہر جاکر نئے حلقے بنائے جانے چاہئیں چونکہ چناب کے دونوں اطراف بڑی تعداد میں آبادی رہ رہی ہے اور پورے چناب کو مد نظر رکھتے ہوئے حلقے بننے چاہئیں۔بھاجپا وفد نے بتایاکہ2011مردم شماری میںخامیاں ہیں۔ جہاں ہر سال ووٹران کی تعداد بڑھتی ہے وہیں ووٹران کی فہرست کو دیکھ کر آبادی کے تناسب کو مدنظر رکھا جانا چاہئے جس پر حد بندی ہونی چاہئے۔ انھوں نے بتایا کہ 1995میںکی گئی حد بندی دو خاندانوں نے کی تھی اور پہلی بار حد بندی کمیشن سبھی ممبران سے مل رہا ہے۔کانگرس کے وفد نے بھی ملاقات کی جنھوں نے کمیشن کے سامنے تینوں اضلاع میں تین نئے حلقے بنانے کی مانگ کی ۔ انھوں نے کہا کہ نئے حلقے زمینی و جغرافیائی حدود کو دیکھ کر بنائے جانے چاہئیں جبکہ انھوں نے پاڈر ،مڑواہ کو الگ حلقہ بنانے کی مانگ کی جبکہ ماجد ملک نے بھدرواہ کو الگ اوربھلیسہ کو الگ حلقہ بنانے کی مانگ کی۔معزورین کے وفد نے الگ سے سیٹیں مخصوص رکھنے کی مانگ کی جبکہ گوجر طبقے نے 2 سیٹیں گوجروں کیلئے ریزیرو رکھنے کا مطالبہ رکھا۔واضح رہے کہ ضلع میں حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے تھے جہاں جگہ جگہ نیم فوجی دستوں و پولیس کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا تھا۔

 جموں

 مرکزی دھارے میں شامل سیاسی جماعتیںجموں و کشمیر کے چار روزہ دورے کے آخری مرحلے پر موسم سرما کے دارالحکومت میں جمعرات کی سہ پہر تک پہنچنے والے 3 رکنی حدبندی کمیشن سے ملاقات کرتے ہوئے بنیادی نظریات پر قائم رہیں۔کانگریس کے وفد نے اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست کی بحالی کے لئے اپنے موقف کا اعادہ کیا ، بی جے پی نے امید کی کہ یہ حد بندی کمیشن پچھلی ایسی مشقوں میں جموں خطے کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو ختم کرے گا۔نیشنل کانفرنس نے "جامع جموں و کشمیر" سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حدبندی کمیشن کو انتہائی شفاف ، منصفانہ اور منصفانہ انداز میں کام کرنا چاہئے کہ وہ آئین کے دائرہ کار کے مطابق انتخابی حلقوں کی حد بندی میں سب کو انصاف فراہم کرے۔پی سی سی کے ترجمان اعلیٰ رویندر شرما نے کہا "ہم نے حدبندی کمیشن کو آگاہ کیا کہ جب تک کہ مکمل طور پر اسمبلی کی بحالی کے سلسلے میں کل جماعتی میٹنگ میں مرکز نے اپنے عہد کو پورا نہیں کیا تب تک یہ مشق ایک بے معنی مشق رہے گی۔ ریاست کی بحالی کے بغیر ، یہ ادارہ بے اختیار رہے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے انتخابی انتخابی حلقوں کے بارے میں لوگوں کی پریشانیوں اور حلقوں کو محدود کرنے کے لئے اختیار کیے جانے والے معیارات کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ ہم نے کمیشن کو بتایا کہ جموں میں ان کے لئے یہ ایک مشکل کام ہوگا جس میں کثیرالجہتی کردار اور تنوع زیادہ ہے۔شرما نے کہا کہ ان تک یہ بات پہنچا دی گئی ہے کہ اسمبلی اور پارلیمانی انتخابی حلقوں کی حد بندی کرتے ہوئے کمیشن کو جموں کے تمام علاقوں میں انصاف کو یقینی بنانا ہوگا۔ سابق وزیر رمن بھلا اور وفد کے دیگر ممبران کے ہمراہ ، شرما نے کہا ، "کمیشن کو بتایا گیا تھا کہ پارٹی اس وقت تک کوئی ٹھوس تجویز نہیں دے سکتی جب تک کہ اس کی (کمیشن) کی مسودہ تجویز عوامی سطح پر سامنے نہ آجائے۔"بی جے پی کے وفد نے ، جموں و کشمیر کے صدر رویندر ینہ کی سربراہی میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر کیلئے مخصوص 24 اسمبلی نشستوں کو غیرمنجمدکرنے کا مطالبہ کیا تاکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے آئے ہوئے مہاجرین ، کشمیر پنڈت ، ایس سی اور ایس ٹی طبقہ کو ریزرویشن دی جاسکے۔ انہوں نے جموں کے لئے اسمبلی میں مناسب نمائندگی بھی طلب کی۔سابق نائب وزرائے اعلیٰ نرمل سنگھ اورکویندر گپتا ، بی جے پی کے چیف ترجمان سنیل سیٹھی اور سابق قانون ساز آر ایس پٹھانیا نے بی جے پی کے وفد کا حصہ تشکیل دیا۔نیشنل کانفرنس کے وفدنے اس کے صوبائی صدر دیویندر سنگھ رانا کی قیادت میں اس بات کا اعادہ کیا کہ حد بندی کے عمل میں ، جموں خطے کے ہر حصے کو بااختیار محسوس ہونا چاہئے اور وہ خود کو الگ الگ ، الگ تھلگ ، منقطع یا محروم محسوس نہیں کرنا چاہئے۔رانا میں سرجیت سنگھ سلاتھیا ، اجے کمار سدھوترا ، سجاد احمد کچلو اور جاوید احمد رانا شامل تھے۔پروفیسر بھیم سنگھ کی سربراہی میں جے کے این پی پی کے ایک وفد نے کمیشن کے ساتھ اپنی میٹنگ میں عرض کیا کہ پینتھرس پارٹی "جموں و کشمیر کے ریاست کی بحالی کی متمنی ہے۔"انہوں نے کہا کہ حد بندی کمیشن پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کا یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کریں کہ جموں و کشمیر میں علاقائی تناؤ کو ختم کیا جاسکے۔ ان کاکہنا تھاکہ جموں اور کشمیر صوبوں کے درمیان سیٹوںکی یکساں تقسیم مسئلہ کا حل ہے۔ان کے مطابق جموں وکشمیر کے مابین اس وجہ سے سیاسی تناؤ رہا ہے کہ ماضی میں کئی بار حد بندی نہیں کی گئی تھی۔
 

حد بندی کمیشن کی آمد ، سماجی دوری کی کھلے عام دھجیاں اڑائی گئیں

عاصف بٹ
کشتواڑ//حد بندی کمیشن کی کشتواڑ آمد پر ڈاک بنگلہ کے باہر کرونا ایس او پی و سماجی دوریوں کی کھلے عام دھجیاں اڑائی گئیں ۔کرونا کے مثبت معاملات پر قابو پانے کیلئے انتظامیہ کی جانب سے جاری کئے گئے ایس او پی، ماسک و سماجی دوریوں کو بالائے طاق رکھاگیا۔ جہاں ہرروز کشتواڑ انتظامیہ خلاف ورزی کرنے والوں پر سے ہزاروں روپے جرمانہ وصولتی ہے وہیں آج کوئی بھی ٹیم نہ دیکھی گئی۔ ڈاک بنگلہ کے باہر ڈوڈہ، کشتواڑ و رام بن سے آئے ہوئے بیشتر وفودنے سماجی دوریوں کو بالائے طاق رکھا وہیں گیٹ کے باہر بھی کافی بھیڑ جمع رہی جو اندر جانے کیلئے ایس او پی کی خلاورزی کرتے دیکھی گئی جبکہ ذرائع سے ملی جانکاری کے مطابق ڈوڈہ و رام بن سے آئے بیشتر لوگوں کے کرونا ٹیسٹ ہی نہیں کئے گئے اور نہ ہی ان سے کوئی رپورٹ مانگی گئی ۔
 

نئے اسمبلی حلقوں کا قیام ناگزیر 

خطہ چناب میں میدانی علاقوں سے ہٹ کر معیار بنایا جائے :بھاجپا 

اشتیاق ملک
کشتواڑ//بی جے پی نے حد بندی کمیشن سے وادی چناب کے جغرافیائی حدود کو ملحوظ خاطر رکھنے و آبادی کے بجائے رائے دہندگان کے تناسب کے مطابق اسمبلی حلقہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس دوران انہوں نے نئے انتظامی یونٹوں کی حدبندی کرنے کی بھی مانگ کی۔ڈاک بنگلہ کشتواڑ میں حد بندی کمیشن سے ملاقات کے بعد بی بی جے پی کے وفد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چناب خطہ میں آبادی کے ساتھ ساتھ جغرافیائی حالات کو بھی حد بندی کے دوران ملحوظ خاطر رکھنے اور تازہ ترین ووٹر فہرستوں کی بنیاد پر مجموعی آبادی کا تخمینہ لگانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ خطہ کے ساتھ انصاف ہو سکے.وفد میں شامل سابق وزرا سنیل کمار شرما، شکتی راج پریہار، سابق ایم ایل اے دلیپ سنگھ پریہار و سابق ایم ایل اے نیلم لنگھے شامل تھے۔سنیل شرما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2011کی مردم شماری میں ہیرا پھیری کی گئی ہے جبکہ وادی چناب کا بیشتر حصہ پہاڑی علاقوں پر پھیلا ہوا ہے اور ایک رکن اسمبلی کو عوام تک پہنچنے میں کافی دشواریوں سے گذرنا پڑتا ہے۔حد بندی کمیشن سے ملاقات کے دوران بھاجیا وفد نے کہا کہ خطہ چناب نئے اسمبلی حلقے بنانے کے لئے میدانی علاقوں سے ہٹ کر معیار بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ بہت علاقوں کے انتظامی یونٹ الگ الگ اضلاع میں تقسیم کئے گئے ہیں جن کی حد بندی کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے۔میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں انہوں نے ووٹ کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی پالیسی کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابھی حد بندی کمیشن نے آغاز بھی نہیں کیا ہے تو کچھ لوگوں نے افواہوں کا بازار گرم کیا ہے۔سنیل شرما نے کہا کہ حد بندی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ہی حقیقت سامنے آئے گی۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے بھاجپا لیڈر طارق حسین کین نے کہا کہ انہوں نے حد بندی کمیشن کو وادی چناب کی جغرافیائی صورتحال کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے میدانی علاقوں کے مقابلہ یہاں زیادہ حلقے قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔
 
 

خطہ چناب میں 3اسمبلی نشستیں بڑھائی جائیں:کانگریس 

بنا کسی دبائو جغرافیائی و زمینی صورتحال کے مطابق فیصلہ کرنے پر دیا زور 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //کانگریس نے خطہ چناب میں تین نئی اسمبلی نشستیں قائم کرتے ہوئے کہا کہ لداخ خطہ میں گیارہ ہزار اور بیس ہزار ووٹوں پر اسمبلی حلقے بنائے گئے تو پھر پاڈر، مڑواہ، واڑون، گول و دیگر علاقوں کو اسمبلی کا درجہ کیوں نہیں دیا جا سکتا ہے جہاں کی آبادی گریز و لداخ اسمبلی حلقہ سے کئی گناہ زیادہ ہے۔کشتواڑ میں ڈاک بنگلہ حد بندی کمیشن سے ملاقات کے بعد سابق وزیر غلام محمد سروڑی نے سابق وزیر وقار رسول، سابق قانون سازیہ ارکان اشوک کمار و نریش کمار گپتا، ضلع کانگریس صدر ڈوڈہ شیخ مجیب علی کی موجودگی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال پورے ملک میں 2026 تک اسمبلی کی حد بندی پر پابندی عائد کی گئی تھی لیکن موجودہ حکومت کے کیا عزائم ہیں وہ اس سے ناواقف ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈوڈہ، کشتواڑ و رام بن اضلاع میں الگ الگ تین نئے اسمبلی حلقے قائم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ 17ہزار مربع کلومیٹر پر پھلے وادی چناب کی آبادی گیارہ لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے لیکن اس خطہ کے ساتھ انصاف کرنے کا یہی تقاضا ہے کہ گول سے بھلیسہ تک اور پاڈر سے بانہال تک تین اسمبلی نشستیں بنائی جائیں۔انہوں نے کہا کہ خطہ چناب ایک پسماندہ علاقہ ہے جہاں سترہ کلومیٹر پر ایک سب سینٹر و پچیس کلومیٹر پر ایک پی ایچ سی قائم ہے اور لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کانگریس نے کمیشن سے مطالبہ کیا کہ نئی نشستوں کا قیام جغرافیائی و زمینی اعتبار کے مطابق و بنا کسی سیاسی دبا کے عمل میں لایا جائے تاکہ حقیقی معنوں میں اس خطہ کی عوام کے ساتھ انصاف کیا جا سکے۔
 
 

ڈوڈہ سے 34 وفود حد بندی کمیشن سے ملاقی 

بھدرواہ، ٹھاٹھری و بھلیسہ کو الگ الگ اسمبلی حلقہ کا درجہ دینے کا مطالبہ 

اشتیاق ملک 
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کے 34 وفود حد بندی کمیشن سے ملاقی ہوا جس میں کانگریس، بھاجپا، اپنی پارٹی، پنتھرس پارٹی کے علاوہ بی ڈی سی و ڈی ڈی سی ممبران، سناتن دھرم و انجمن اسلامیہ، بھدرواہ سیول سوسائٹی، بھلیسہ یونائٹڈ فرنٹ، بھلیسہ سیول سوسائٹی، ٹھاٹھری ڈیولپمنٹ فرنٹ، گوجر یوتھ ایسوسی ایشن، ہینڈی کیپ ایسوسی ایشن و دیگر غیر سرکاری تنظیمیں شامل تھیںتاہم پی ڈی پی نے مکمل بائیکاٹ کیا۔اس دوران جہاں ان وفود نے بھدرواہ، بھلیسہ، ٹھاٹھری کو الگ الگ اسمبلی حلقہ کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا وہیں شیڈول ٹرائب و شیڈول کاسٹ طبقہ کے لئے مخصوص نشستیں قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ہیڈی کیپ ایسوسی ایشن نے معذور افراد کو بھی اسمبلی میں ریزرویشن دینے کی مانگ کی۔چیئرمین بھلیسہ یونائٹڈ فرنٹ محمد حنیف ملک نے کہا کہ بھلیسہ 1951 سے 1967 تک الگ حلقہ تھا لیکن اسوقت کے سیاستدانوں نے اپنے مفاد کی خاطر اس علاقہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور آج تک لوگ اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔انہوں نے بھلیسہ کو الگ اسمبلی بنانے کا مطالبہ کیا۔ان وفود میں سے سب سے زیادہ وفد بھلیسہ سے آئے تھے۔
 

ضلع رام بن کا وفد حدبندی کمیشن سے ملاقی

گول گاندھری کو الگ اسمبلی حلقہ دینے کی مانگ، یاداشت کی پیش

زاہدبشیر
گول//جموںو کشمیر میں حدبندی کمیشن کے دورے کے دوران آج ضلع رام بن کا وفد پی ڈبلیو ڈی گیسٹ ہائوس کشتواڑ میں ملاقی ہوا ۔ کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے ضلع رام بن کی ڈی ڈی سی چیرپرسن ڈاکٹر شمشادہ شان نے کہا کہ اُن کی قیادت میں ایک ٹیم جن میں بشیر احمد رونیال،فیاض نائیک ڈی ڈی سی ممبر رامسو ، شمیم اختر ڈی ڈی سی گاندھری ، اور چوہدری سخی محمد ڈی ڈی سی ممبر گول داڑم شامل تھے ۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے حدبندی کمیشن کے وفد سے ملاقات کی اور گول کو ایک الگ اسمبلی حلقہ دینے کی مانگ کی جس میں انہیں ایک یاداشت کے ساتھ ساتھ اس اسمبلی حلقے کا نقشہ بھی پیش کیا اور یہ نقشہ انہوں نے یاداشت کے ساتھ بھی رکھا ۔ انہوں نے کہا کہ گول، داڑم ، اندھ ، سنگلدان ، گاندھری ، پنچایت سمڑ بجمستی نیابت ہا پر کو ایک الگ اسمبلی حلقہ دینے کی حد بندی کمیشن سے مانگ کی ۔انہوں نے کہا کہ سب ڈویژن گول کو حلقہ انتخاب گول ارناس59جو ضلع رام بن اور ضلع ریاسی کے انتظامی حدود میں آتا ہے یعنی یہ اسمبلی حلقہ جہاں جغرافی لحاظ سے بھی جوڑنہیں کھاتا وہیں انتظامیہ حدود بھی ان کے الگ الگ ہیں جس وجہ سے لوگوں کو شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے اس موقعہ پر یاداشت میں یہ بھی مانگ کی کہ گول کی پانچ ایسی پنچایتیں ہیں جن کو انتظامی حدود ضلع رام بن سے کاٹ کر ضلع ریاسی کے ساتھ رکھا گیا ہے جو کسی لحاظ سے ٹھیک نہیں ہے اور ان پانچ پنچایتوں کو ضلع رام بن کے ساتھ جوڑنے اور ان کو گول گاندھری اسمبلی حلقہ کے اس خاکے میں ضم کرنے کی بھی مانگ کی ۔
 

جموں وکشمیر تاریخ کے دوراہے پر

کمیشن کو جموں کے تمام علاقوں میں انصاف کو یقینی بنانا ہوگا: رانا

جموں //حد بندی کمیشن کو شفاف اور منصفانہ انداز میں جموں خطے کے تمام حصوں کو اپنا جائز حصہ دینا چاہئے تاکہ وہ جمہوریت کے عمل میں بھی برابر کے شراکت دار بن سکیں۔اس کا مطالبہ 5 رکنی نیشنل کانفرنس کے وفد نے صوبائی صدر دیویندر سنگھ رانا کی سربراہی میں حدبندی کمیشن کو جمع کروائے گئے اپنے میمورنڈم میں کیا۔وفد کے دیگر ممبران میں سرجیت سنگھ سلاتھیا ، اجے کمار سدھوترا ، سجاد احمد کچلو اور جاوید احمد رانا شامل تھے۔پارٹی کی یادداشت پر زور دیا گیا ہے کہ نمائندگی ، خاص طور پر دور دراز کے علاقوں میں دیہی علاقوں میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا ضروری ہے تاکہ موثر حکمرانی اور عوامی نمائندوں کی رساء کے قابل بننے کے لئے عوامی رساء تک رسائی اور آسانی ہو۔ ""ہمیں یقین ہے کہ حدبندی کمیشن حلقہ بندیوں کو حد سے تجاوز کرنے میں سب سے شفاف ، انصاف پسندانہ اور منصفانہ انداز میں کام کرے گا ، حد بندی کے بنیادی اصولوں – آبادی ، جغرافیہ ، ٹپوگرافی ، علاقے ، جسمانی خصوصیات کی بنا پر رانا نے چیئر پرسن حدبندی کمیشن جے اینڈ کے جسٹس (ریٹائرڈ) رنجنا پرکاش دیسائی کو خطاب میمورنڈم میں کہا ، انتظامی یونٹوں کی سہولت اور آسانی سے مواصلات کی سہولیات اور عوامی سہولت کی سہولت۔یہ کہتے ہوئے کہ جموں و کشمیر تاریخ کے دوراہے پر ہے ، رانا نے کہا کہ ان کی پارٹی "جموں و کشمیر میں جمہوریت کو مستحکم کرنے کی ایک مضبوط ووٹ رہی ہے اور رہے گی۔" رانا نے کہا ، "ہم جموں وکشمیر کے عوام کی امنگوں کے مطابق ان کی امنگوں کی حمایت کرتے ہیں جو متنوع اور کثیر جہتی ہیں۔"نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر نے میمورنڈم میں اس بات کا اظہار کیا کہ حد بندی کمیشن کو جموں خطے کے تمام حصوں کی وجہ سے اپنی ذمہ داری دینی ہے تاکہ تمام علاقوں اور سب کے مساویانہ اختیار کے لئے وابستگی کا عہد کیا جائے۔ خطے میں نفرت نہیں ہونی چاہئے۔این سی میمورنڈم نے نوٹ کیا کہ جموں خطے میں جغرافیائی اور ٹپوگرافیکل چیلنجز بھی موجود ہیں اور کچھ علاقے دور دراز ، دور رس ، دور دراز ، پسماندہ اور پہاڑی علاقے تھے۔ ‘‘لہذا ان کے معاملات کو اس انداز میں حل کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ آسانی سے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر کے جمہوریت کے عمل میں برابر کے شراکت دار بن سکیں۔ شیڈول ذات پات کی جماعتیں ، خطے کے شیڈول قبائل کو مناسب طور پر مناسب نمائندگی حاصل کرنی ہوگی۔ ریزرویشن مستقل پیمائش پر مبنی ہونا چاہئے جس کی شفافیت کے ساتھ پیروی کی جانی چاہئے تاکہ اس بات کا یقین کیا جاسکے کہ حد بندی کمیشن کے ادارے میں لوگوں کا اعتماد برقرار ہے۔رانا نے میمورنڈم میں اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ کمیشن کے ذریعہ جموں و کشمیر اور جموں خطے میں انصاف آجائے گا۔
  

پنتھرس پارٹی کاجموں اور کشمیر صوبوں کو یکساں سیٹیں دینے پر زور

 جموں//جموں وکشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی کے صدر پروفیسربھیم سنگھ کی قیادت میں پنتھرس پارٹی کے پانچ رکنی وفد نے جموں وکشمیر میں حدبندی کے عمل کے سلسلہ میں آئے حد بندی کمیشن سے ملاقات کی۔ پنتھرس پارٹی کے وفد میں سابق وزیر تعلیم ہرش دیو سنگھ، سینئر نائب صدر پی کے گنجو، جنرل سکریٹری انیتا ٹھاکر، نائب صدر محمد اقبال چودھری اور پنتھرس ٹریڈ یونین کے صوبائی صدر سردار پرمجیت سنگھ مارشل شامل تھے۔حد بندی کمیشن برائے جموں وکشمیر سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر بھیم سنگھ نے لداخ خطے کو نظرانداز کئے جانے اور اس کے لئے حدکمیشن مقرر نہ کئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ۔انہوں نے پنتھرس پارٹی کی جانب سے حد بندی کمیشن سے مطالبہ کیا کہ لداخ کے پاس ایک اسمبلی ہونی چاہئے جس طرح دوسرے مرکزی خطوں جیسے پڈوچیری اور دہلی این سی ٹی کے لئے اسمبلی موجود ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے حد بندی کمیشن پر زور دیتے ہوئے کہاکہ پہلی ترجیح جموں وکشمیر کی داخلی اور باہری کشیدگی کو کم کرنا ہونی چاہئے۔سیاسی تفریق ختم ہو۔ انہوں نے کمیشن کو بتایا کہ پارلیمنٹ نے جموں وکشمیر کے لئے 90اسمبلی سیٹیں کے کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حد بندی نصف نصف کی بنیاد پر سیٹوں کی تقسیم کرے یعنی صوبہ کشمیر کے لئے 45اور صوبہ جموں کے لئے 45اسمبلی نشستیں۔ انہوں نے حد بندی کمیشن کو یہ بھی بتایا کہ جموںا ورکشمیر دونوں صوبوں کے مابین سیاسی تناو رہا ہے جس کی بنیادی وجہ اسمبلی نشستوں کے الاٹمنٹ میں تفریق ہے۔انہوں نے درخواست کی کہ ففٹی ففٹی کے فارمولہ سے دونوں خطوں کے مابین تناو کم ہوگا اور لوگ خوش ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کو دہلی کے حکمرانوں کے ہاتھوں نقصان اٹھانا پڑا ہے جس کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ 1951, 1971اور 1991میں اسمبلی کی کوئی حد بندی نہیں کی گئی ۔پنتھرس پارٹی کے چیرمین اور سابق وزیر تعلیم ہرشدیو سنگھ نے پرزور الفاظ میں کہاکہ حد بندی جلد از جلد ہونی چاہئے اور درج فہرست قبائل کے ساتھ ساتھ درج فہرست ذات کو مناسب ریزرویشن دیا جانا چاہئے۔انہوں نے یہ بھی اپیل کی کہ آزادنہ اور منصفانہ انتخابات ہونے چاہئے اور پنتھرس پارٹی کے عہدیداروں کو جموں وکشمیر میں سیاسی مہمات کے دوران مناسب سیکورٹی فراہم کئے جانے کی ضرورت ہے ۔