حد بندی کمیشن کی دِلّی میں اہم بیٹھک| اراکین کی کئی تجاویز قبول

نئی دہلی // حد بندی کمیشن نے مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے پانچ ایسوسی ایٹ ممبران بشمول نیشنل کانفرنس کے لوک سبھا ممبران پارلیمنٹ فاروق عبداللہ، حسنین مسعودی اور اکبر لون اور بی جے پی ممبران پارلیمنٹ جتیندر سنگھ اور جگل کشور کی طرف سے دی گئی کچھ تجاویز کو قبول کیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ حد بندی کمیشن کی جمعرات کو نئی دہلی میں میٹنگ ہوئی جس میں جموں و کشمیر کے ممبران پارلیمنٹ کی تجاویز پر غور کیا گیا جو کہ پینل کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں۔ میٹنگ کی صدارت جسٹس (ریٹائرڈ) رنجنا پرکاش دیسائی نے کی اور اس میں چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرا، جموں و کشمیر الیکشن کمیشن کے سربراہ اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کے چیف الیکٹورل آفیسر نے شرکت کی۔عہدیداروں نے بتایا کہ حد بندی کمیشن نے اپنی میٹنگ میں پانچ ایسوسی ایٹ ممبران کی طرف سے دی گئی تجاویز پر طویل بحث کی۔انہوں نے کہا’’وسیع بحث کے بعد، کمیشن نے پانچ ایسوسی ایٹ ممبران کی طرف سے دی گئی کچھ تجاویز کو قبول کر لیا ہے، اب ہم ایسوسی ایٹ ممبران کے پاس واپس جائیں گے اور آج ہونے والے فیصلے سے آگاہ کریں گے‘‘۔ایسوسی ایٹ ممبران کی تجاویز 14 فروری کو حد بندی کمیٹی کو پیش کی گئیں۔ ایسوسی ایٹ ممبران سے کہا گیا کہ وہ حد بندی کمیشن کی تیار کردہ رپورٹ کے مسودے پر اپنی تجاویز دیں، جس کی وہ مخالفت کر رہے تھے۔سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں چیف الیکشن کمشنر سشیل چندرا اور جے کے الیکشن کمیشن کے سربراہ کے کے شرما کے ساتھ حد بندی کمیشن 6 مارچ 2020 کو قائم کیا گیا تھا، اور اسے گزشتہ سال ایک سال کی توسیع دی گئی تھی۔ اس ماہ کے شروع میں، جموں و کشمیر میں اسمبلی حلقوں کی دوبارہ تشکیل کی مشق کو مکمل کرنے کے لیے اسے 6 مئی تک دو بار توسیع دی گئی۔اب مزید دو ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔حد بندی کمیشن نے گزشتہ سال 18 فروری اور 20 دسمبر کو ایسوسی ایٹ ممبران کے ساتھ دو میٹنگیں کیں۔ نیشنل کانفرنس کے تینوں ممبران پارلیمنٹ نے پہلی میٹنگ کا بائیکاٹ کیا، وہیں دوسری میٹنگ میں شریک ہوئے۔حد بندی کمیشن کی ابتدائی تجویز کے مطابق جموں خطہ میں نشستوں کی تعداد موجودہ 37 سے بڑھا کر 43 کردی جائے گی، جب کہ کشمیر میں ایک اضافی نشست ہوگی، جس سے اس کی تعداد موجودہ 46 سے بڑھ کر 47 ہوگئی ہے۔