حد بندی کمیشن کی جموں و کشمیر کے حلقوں میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز

 
سرینگر//حد بندی کمیشن نے جموں و کشمیر کے اسمبلی حلقوں میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے، جس سے لوگوں میں عدم اطمینان پیدا ہو گیا ہے. 
 
میڈیا رپورٹس کے مطابق حد بندی کمیشن کی تجویز کے مطابق، بارہمولہ کو دو نئے حلقے – کنزر اور ٹنگمرگ ملے ہیں جبکہ موجودہ سنگرامہ حلقہ کو ٹنگمرگ کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔
 
کمیشن نے کپواڑہ ضلع میں ترہگام کا ایک نیا حلقہ تجویز کیا ہے اور تحصیل کرالپورہ کو کرناہ کے حلقے میں شامل کیا ہے۔
 
اسی طرح شانگس حلقہ کو جنوبی کشمیر میں اننت ناگ مشرقی اور لارنو حلقوں کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔
 
 سری نگر ضلع کی پوری تحصیل چھانہ پورہ  پر مشتمل نیا حلقہ تجویز کیا گیا ہے۔
 
ضلع کولگام سے ہوم شالی باغ حلقہ بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
ان تجاویز پر عوامی حلقوں میں سخت تشویش پیدا ہو گئی ہے.
 
کمیشن نے فاروق عبداللہ کی زیرقیادت نیشنل کانفرنس کے دائر کردہ اعتراضات کو ایک طرف رکھ دیا ہے جس میں کمیشن کے اس اقدام کی مخالفت کی گئی ہے کہ جموں خطہ کو چھ نئی اسمبلی سیٹیں ملیں گی۔
 
حد بندی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ موجودہ لوک سبھا سیٹوں کو دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے تاکہ جموں اور کشمیر دونوں میں مساوی نشستیں ہو سکیں۔
 
 اس وقت کشمیر میں لوک سبھا کی تین سیٹیں ہیں جبکہ جموں میں دو ہیں۔ اس نئے فارمولے سے جموں و کشمیر دونوں میں 2.5 لوک سبھا سیٹیں ہوں گی۔
 
خیال رہے کہ حد بندی کمیشن نے جمعہ کی شام جموں وکشمیر کے ارکان پارلیمان پر مشتمل کمیشن کے ایسوسی ایٹ ممبران کو رپورٹ بھیجی تھی۔ ارکان کو اعتراضات داخل کرنے کے لیے 10دن یعنی 14 فروری تک کا وقت دیا گیا ہے جس کے بعد اسے اعتراضات کے لیے پبلک ڈومین میں ڈالے جانے کا امکان ہے۔
 
واضح رہے کہ جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے سے پارلیمنٹ لوک سبھا کے تمام پانچ ممبران کمیشن کے ایسوسی ایٹ ممبر ہیں: تین نیشنل کانفرنس سے اور دو بی جے پی سے۔ کمیشن کی اس سے قبل دو بار میٹنگ ہو چکی ہے، پہلی میٹنگ 18 فروری کو بلائی گئی تھی اور نیشنل کانفرنس نے دور رہنے کا انتخاب کیا تھا جبکہ 20 دسمبر 2021 کو بلائی گئی دوسری میٹنگ میں نیشنل کانفرنس نے حصہ لیا۔
 
حد بندی کمیشن 6مارچ 2020کو قائم کیا گیا تھا اور توقع تھی کہ وہ ایک سال کے اندر رپورٹ پیش کرے گا لیکن 6مارچ 2021 کو ایک سال کی توسیع دی گئی۔ 
 
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر یہ عمل 6مارچ 2022سے پہلے مکمل نہیں ہوتا ہے توکمیشن کی مدت میں مزید 2-3 ماہ کی توسیع کا امکان ہے۔ 
 
جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019کے مطابق جموں و کشمیر کی اسمبلی سیٹوں میں سات کا اضافہ ہوا جس سے کل سیٹیں 114 ہوگئیں، 90سیٹوں کے لیے الیکشن ہوں گے۔ 24پی او جے کے کے لیے مخصوص ہیں۔