حد بندی کمیشن کی تجویز عوام کو منظور نہیں

کرناہ //کرناہ سیول سوسائٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے حدبندی کمیشن کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کرالپورہ کے کچھ ایک علاقوں کو کرناہ اسمبلی حلقے کے ساتھ جوڑنا کرناہ کے لوگوں کے ساتھ ایک بڑی ناانصافی ہو گی۔
 
سیول سوسائٹی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اعجاز احمد نے اپنے ایک بیان میں اس تجویز کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناہ سیول سوسائٹی کو اس تجویز پر اعتراض ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ سیول سوسائٹی کرناہ کے تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈران سے گزارش کرتی ہے کہ وہ سیاست کو ایک طرف رکھ کر اس پر اواز بلند کریں۔
 
سوسائٹی کے چیئرمین پیرزادہ ایس ڈی قریشی کی ہدایت پر انہوںنے سنیچر کو ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ کرناہ کی اپنی ایک تعزیب کلچر ہے اور ماضی میں اس لئے اس کو الگ حلقہ دیا گیا تھا تاکہ یہاں کے لوگوں کی مشکلات کسی حد تک دور ہوسکیں۔ 
 
انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے خلاف نہیں ، لیکن جس طرح سے فیصلہ لیا گیا ہے اس سے لگتا ہے کہ یہاں کی منفرد ٹپوگرافی کو تبدیل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ کرناہ علاقہ سرما کے دوران پوری دنیا سے کٹ کر رہ جاتا ہے اور یہاں کے لوگوں کی مشکلات بھی سرما میں دوسرے علاقوںمیں مقیم لوگوں سے کئی گناہ زیادہ ہوتی ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ کرالپورہ کرناہ سے ایک سو کلو میٹر کی دوری پر ہے اور کرناہ کے لوگوں کی مشکلات بھی دوسرے علاقوں سے بلکل مختلف ہے، لہٰذا حد بندی کمیشن کو فیصلہ لینے سے قبل لوگوں کی رائے کا بھی احترام کرنا چاہئے۔
 
انہوں نے کہا کہ حد بندی کمیشن کی تجویز سامنے آنے کے بعد یہاں کے لوگوں کی مشکلات اور پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
 
بیان میں کہا گیا ہے کہ کرناہ میں 32اسمبلی حلقے ہیں اور یہاں کی آبادی 80ہزار نفوش پر مشتمل ہے لہٰذا اس اسمبلی حلقہ کے ساتھ چھڑ چھاڑ کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔
 
ادھر دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی اس تجویز کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔سابق ایم ایل اے کرناہ اور اپنی پارٹی کے ضلع صدر ایڈوکیٹ راجہ منظور نے کہا ”ہم نے قبل از وقت حد بندی کمیشن کو علاقے کی جغرافیائی پوزیشن اور لوگوں کی مشکلات سے آگاہ کیا تھا ،لیکن اس کے باوجود بھی اس سرحدی اسمبلی حلقہ کے لوگوں کے جزبات کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا “۔
 
انہوں نے کہا کہ اپنی پارٹی گھر گھر جا کر لوگوں کو اس سے ہونے والے اثرات کے بارے میں آگاہ کرے گی۔
 
پینتھر س پارٹی لیڈر جہانگیر خان نے کہا کہ ہماری تعزیب پر حملہ ہوا ہے،اور اس کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کے خلاف بڑے پیمانے پر ایجی ٹیشن شروع کی جائے گی۔
 
کانگریس لیڈر پروفیسر جہانگیر احمددانش نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کرناہ ایک پسماندہ اور پچھڑا ہواعلاقہ ہے ،کرناہ کا اپنا کلچر اپنی تہذیب اور تمدن ہے، ایک الگ پہچان ہے،اپنی جغرافیائی اور الگ تاریخ ہے۔
 
زبان اور لباس کے اعتبار سے یہ ایک الگ اکائی ہے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس علاقے کے ساتھ کرالپورہ کا ایک حصہ جوڑ دیا گیا ہے۔جو اس علاقے کے ساتھ کسی بڑے ظلم سے کم نہیں ہے۔
 
گوجرلیڈر خالد شجات بڈھانہ بھی اس فیصلے کے خلاف ہیں۔انہوں نے کہا کہ تجویزکو پبلک ڈومن میں لایا جائے تاکہ سب اس پر کھل کر اعتراض کرسکیں۔