حد بندی کمیشن میں 2ماہ کی توسیع

سرینگر//مرکزی حکومت نے جموں کشمیر میں اسمبلی و پارلیمانی حلقوں کے حدود کا نئے سرے سے تعین کرنے والے حد بندی کمیشن کے معیاد میں مزید2ما ہ کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔مرکزی وزارت قانون و انصاف نے پیر 21 فروری کو جموں وکشمیرمیں  اسمبلی وپارلیمانی حلقوںکی سرنو حدبندی کیلئے مارچ2020میں سپریم کورٹ کی ایک ریٹائرڈ جسٹس رنجناپرکاش ڈیسائی کی سربراہی میں تشکیل حدبنی کمیشن کا وقت2سال سے بڑھا کر2 سال2 ماہ کر کے اپنے سابق نوٹیفکیشن میں ترمیم کی ہے۔یہ فیصلہ کمیشن کی مجوزہ حد بندی رپورٹ کے خلاف علاقائی جماعتوں کے احتجاج کے بعد کیا گیا ہے۔حکومت نے6 مارچ2020میں سپریم کورٹ کی ایک سبکدوش خاتون جسٹس رنجناپرکاش ڈیسائی کی سربراہی میں حدبندی کمیشن تشکیل دیاتھا،جس میں چیف الیکشن کمشنر اورجموں وکشمیرکے الیکشن حکام بھی شامل ہیں ۔کمیشن کوایک سال میں رپورٹ پیش کرنے کوکہاگیاتھا اور اسکے لئے مارچ 2021ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ۔لیکن کورونا کی وبائی بیماری پھوٹ پڑنے کے باعث ایسا ممکن نہیں ہوپایا،جسکے بعدمرکزی سرکارنے حدبندی کمیشن کے معیادکارمیں دومرتبہ چھ چھ ماہ کی توسیع کردی ۔کمیشن سے کہا گیا تھا کہ وہ مارچ 2022میں حتمی سفارشات تیار کرے جس کے بعد جموں کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔اب کمیشن کی معیار جو مارچ 2022میں ختم ہونے والی تھی، میں مزید 2ماہ کی توسیع کی گئی ہے۔مرکزی سرکارنے متعلقہ نوٹیفکیشن میں ترمیم کرتے ہوئے کمیشن کواپنی حتمی رپورٹ مکمل کرنے کیلئے مزید2ماہ کاوقت دیا ہے۔یاد رہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ایک روز قبل ہی کہا کہ کمیشن کی رپورٹ تیار ہے اور رپورٹ پیش ہونے کے بعد درکار 6یا 8ماہ کے دوران اسمبلی انتخابات کرائے جائیں گے۔ گپکار الائنس نے 23 فروری کو کمیشن ہذاکی دوسرے مسودہ تجاویزپرباہمی صلاح مشورے کیلئے 26فروری کوسرینگرمیں ایک میٹنگ طلب کی گئی ہے۔