حدبندی کمیشن کی مخالفت غلطیاں چھپانے کی کوشش: رویندر رینہ

جموں//بی جے پی یو ٹی کے صدر رویندررینہ نے کہا کہ کشمیری مقیم سیاست دان جو حد بندی کمیشن کی مخالفت کر رہے ہیں وہ نہیں چاہتے ہیں کہ ان کی غلطیاں سر عام میں آئیں کیونکہ 1995 کی حد بندی ایک "فراڈ" تھی۔رویندر رینہ نے کہا ، "کشمیر میں مقیم سیاست دان جو حدبندی کمیشن کے کام سے اتفاق نہیں کر رہے ہیں ، ان کا مطلب یہ ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ انہوں نے 1995 میں دھوکہ دہی کی ہے۔"رینہ نے کہا کہ: "اس کے واضح معنی ہیں کہ وہ نہیں چاہتے کہ عوام کے سامنے حقائق سامنے آئیں۔ اسی لئے وہ پروپیگنڈا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کمیشن کا خیرمقدم کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ "اس بارحدبندی کمیشن عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو ختم کرے گا اور اسمبلی حلقے تشکیل دے گا جس سے قواعد کے مطابق معاشرے کے تمام طبقات کو فائدہ ہوگا‘‘۔انہوں نے کہا "ایک طویل عرصے کے بعد جموں و کشمیر میں حد بندی کا عمل شروع ہونے والا ہے یہاں تک کہ سنہ 2026 تک کی سابقہ قانون ساز اسمبلی میں اس (حدبندی)کومنجمد کیاگیاتھا‘‘۔رینہ نے کہا کہ اسمبلی نشستوں کی حد بندی جموں و کشمیر کے تنظیم نو ایکٹ 2019 کے مطابق ہورہی ہے۔انہوں نے جموں و کشمیر یونین ٹریٹری کی آئندہ قانون ساز اسمبلی میں مغربی پاکستان پناہ گزینوں اور مہاجر کشمیری پنڈتوں کی نمائندگی کی وکالت کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (پی کے) کے مہاجرین کے نمائندوں کو 8 اسمبلی نشستیں دی جائیں۔ رینا نے جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابی حلقوں کی آخری حد بندی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے امتیازی قرار دیا۔ وہ جموں میں ایک الیکٹرانک چینل سے گفتگو کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ 24 قانون ساز اسمبلی کی نشستیں سابق ریاست جموں و کشمیر میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر (پی کے)  کے لئے مخصوص تھیں۔ انہوں نے ایک اچھی سازش کے تحت منجمد کردیا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ 1947 میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے جموں و کشمیر کے اس حصے میں آبادی کا ایک تہائی حصہ ہجرت کر گیا تھا۔تاہم انہوں نے کہا کہ ان مہاجرین ، تارکین وطن کشمیری پنڈتوں اور مغربی پاکستان پناہ گزینوں کے ساتھ انصاف کیا جائے گا تاکہ انہیں جموں و کشمیر کی آئندہ قانون ساز اسمبلی میں اپنی نمائندگی مل سکے۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی نشستوں کو غیر منجمدکرنے کے بعد آٹھ اسمبلی نشستیں پاکستانی زیر انتظام کشمیرسے آئے ہوئے مہاجرین کے نمائندوں کو دی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈت تارکین وطن کے لئے سیاسی سیٹ کے انتظامات کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا ، "کمیشن کو مغربی پاکستان پناہ گزینوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے تاکہ آئندہ اسمبلی میں ان کی نمائندگی ہوسکے۔"
انہوں نے کہا کہ حد بندی کمیشن کو مغربی پاکستان مہاجرین کو نمائندگی دینے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہئے تاکہ معاشرے کے ان طبقات کو جموں و کشمیر کی آنے والی اسمبلی میں نمائندگی مل سکے۔ تاہم انہوں نے ریاست کے بحالی پر واضح طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ اگلے وزیر اعلی ان کی پارٹی سے ہوں گے کیونکہ ان کی جماعت جموں و کشمیر میں اگلی حکومت تشکیل دے گی۔