حدبندی کمیشن کا مسوداتی تجاویز پر سیاسی جماعتوں کا تیکھاردعمل

 جموں و کشمیر میں جمہوریت مر چکی ہے: محبوبہ مفتی

 کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ، رپورٹ حیران کُن

سری نگر// سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کو کہا کہ جموں و کشمیر میں جمہوریت مر چکی ہے اور کسی کو بھی اپنے دل کی بات کہنے کی اجازت نہیں ہے۔پی ڈی پی صدرنے کہا کہ ان کی پارٹی جموں و کشمیر میں حد بندی رپورٹ کے نتائج پر حیران نہیں ہے۔جے کے ین  ایس کے مطابق محبوبہ مفتی نے صحافیوں کیساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں کسی کو بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے ضلع گاندربل کے صدر کو حد بندی کمیشن کے خلاف بولنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ اسے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور کسی طرح، ہم نے اس کی رہائی کا انتظام کیا۔ ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’حجاب‘ کی وجہ سے مسلم بچوں کو تعلیم سے دُور رکھنے کی کوشش ،سازش کے سوا کچھ نہیں۔محبوبہ مفتی نے صحافیوں کو بتایا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت بیانیہ کو بدلنا چاہتی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ جموں و کشمیر میں سب ٹھیک ہے۔ایک سوال کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو بے اختیار کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔پی ڈی پی صدرنے مزید کہا کہ لوگوں کیلئے بیرونی سرمایہ کاری کا کیا مطلب ہوگا جب اُنہیں بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور انہیں بے اختیار کر دیا گیا ہے۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے مودی حکومت پر ہندوؤں اور مسلمانوں کو تقسیم کرنے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے کو بیت الخلا ء کے طور پر استعمال کرنے کے لیے ’’گوڈسے کے ایجنڈے‘‘ کو نافذ کرنے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ نہ صرف کشمیربلکہ پورا ملک ’’گوڈسے کے ایجنڈے‘‘ پر چل رہا ہے۔انہوںنے سنگین الزام لگاتے ہوئے کہاکہ یہ حکومت نہیں ہے، یہ ایک آمریت ہے جسے وہ اپنے 70 سال پرانے ایجنڈے کے ساتھ نافذ کر رہے ہیں، جس پر وہ عمل پیرا ہیں۔ وہ اسے (مہاتما) گاندھی کے ہندوستان کے بجائے (ناتھورام) گوڈسے کا ہندوستان بنانا چاہتے ہیں، جس کے لئے جموں و کشمیر کو تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔پی ڈی پی صدرنے کہا کہ ان کی پارٹی جموں و کشمیر میں حد بندی رپورٹ کے نتائج پر حیران نہیں ہے۔انہوںنے کہاکہ پی ڈی پی حد بندی کی رپورٹ سے حیران نہیں ہے جو منظر عام پر آئی ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہم نے پہلے ہی مطلع کر دیا تھا کہ یہ خدشہ ہے کہ رپورٹ بی جے پی کا ایجنڈا ہے۔انہوں نے کہا کہ سب کچھ وہ کشمیر سے شروع کر رہے ہیں، اور وہ وقت آئے گا جب ملک کے دیگر حصوں میں بھی یہی حربے استعمال کئے جائیں گے۔محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ حلقہ بندیوں کو دوبارہ ترتیب دیا گیا ہے تاکہ ہمیں ووٹ دینے یا نہ دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔کشمیر یا راجوری یا چناب وادی میں اکثریتی برادری کو بے اختیار کیا جا رہا ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ بی جے پی ملک میں کسی کی نہیں سن رہی ہے۔ یہ صرف ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ کسانوں نے ایک سال تک سڑکوں پر احتجاج کیا۔ ان کی بات نہیں سنی گئی۔ تاہم، جب اتر پردیش میں انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہوا تو فارم قانون کو واپس لے لیا گیا۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشنPAGD کے ارکان23 فروری کو جموں میں ملاقات کریں گے اور حد بندی رپورٹ پر تبادلہ خیال کریں گے۔کشمیر میں صحافیوں کی گرفتاری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ حکومت نہیں چاہتی کہ وادی میں کوئی سچ بولے۔ انہوںنے کہاکہ فہد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پہلے سجاد گل کو گرفتار کیا گیا تھا اور اب میں نے سنا ہے کہ مزید صحافیوں کو طلب کیا جا رہا ہے۔
 
 

رپورٹ نہیں کھچڑی تیار کی گئی

کمیشن اناڑی درزی ثابت ہوا: آزاد

بلال فرقانی
 
سرینگر // سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے حد بندی کمیشن کے مسودہ کو کھچڑی قرار دیکر اسے یکسر طور پر مسترد کردیا ہے۔انہوں نے ایک انٹر ویو میں کہا ’’ جموں کشمیر کے عوام کو 25سال سے حد بندی کا انتظار تھا لیکن 25سال کے طویل انتظار کے بعد  رپورٹ کے نام پرکھچڑی تیار کی گئی، یہ تو کوئی رپورٹ ہی نہیں ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’20،25حلقوں کے نام و نشان ہی نہیں رکھے گئے ہیں اور یہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ حلقوں کی حد بندی کے دوران پرانے حلقوں کا نام و نشان ہی مٹادیا گیا ہے‘‘۔آزاد نے کہا کہ اناڑی درزی کی طرح حلقوں کی کانٹ چھانٹ کی گئی ہے، یہ تو اس طرح کا کام کیا گیا ہے جیسے کسی کا پائوں کاٹ کر سر جوڑا گیا ہے،شہری علاقہ گائوں کیساتھ اور پہاڑی علاقہ شہر کیساتھ جوڑا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کمیشن نے کسی دفتر میں بیٹھ کر اسے بنایا ہے کیونکہ رپورٹ کے مسودہ سے تو یہی لگتا ہے کہ بنانے والوں کو خود نہیں پتہ کہ انہیں کیا تیار کرنا تھا۔انکا کہنا ہے کہ حد بندی کے صرف دو پیمانے ہوتے ہیں، علاقہ اور آبادی۔لیکن یہاں ان میں سے کسی ایک پیمانے پر بھی عمل نہیں کیا گیا ہے۔
 

بھاجپا کے مکروہ خاکوں میں رنگ بھرنے کا مذموم عمل: نیشنل کانفرنس 

سرینگر//حدبندی کمیشن کی دوسرے مسودہ تجاویز کو بھاجپا کے مکروہ خاکوںمیں رنگ بھرنے کا مذموم عمل قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس نے کہا کہ نئی دلی میں بیٹھے حکمران جموںوکشمیرکے عوام کو علاقائی، مذہبی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور کوئی بھی جمہوریت ایسے مذموم اور ناپاک عزائم کی اجازت نہیں دیتی۔ان باتوں کا اظہار پارٹی لیڈران نے نوائے صبح کمپلیکس میں ایک اجلاس کے دوران اپنی آراء پیش کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پارٹی کی خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس ، صوبائی یوتھ صدر سلمان علی ساگر اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔ پارٹی لیڈران نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے حدبندی کمیشن کی پہلی رپورٹ بھی مسترد کردی اور دوسری رپورٹ کو بھی یکسر مسترد کردیاہے۔ حدبندی کمیشن کی ایک آئینی حیثیت ہوتی ہے اور حدبندی میں کسی بھی طرح کی سیاسی مداخلت یا جانبداری کی اجازت نہیںہوتی لیکن جموں وکشمیر کی حدبندی کیلئے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے اُس سے ایسا محسوس ہورہاہے کہ یہ رپورٹ بھاجپا ہیڈکوارٹر پر تیار کی گئی ہے ، جس کا مقصد جموں و کشمیر کے عوام کو علاقائی، مذہبی اور لسانی بنیادوں پر تقسیم کرناہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کا روز اول سے ہی یہ موقف رہاہے کہ حدبندی کمیشن کا قیام غیر قانونی ہے کیونکہ جس جموںوکشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019کے تحت اس کا قیام عمل میں لایا گیاہے اُس کی جوازیت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس کیلئے سپریم کورٹ نے ایک آئینی بنچ بھی قائم کیا ہے۔ اس لحاظ سے جموں وکشمیر کی حدبندی نہ صرف آئین کے منافی ہے بلکہ سپریم کورٹ کی توہین کے مترادف بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حد بندی کمیشن نے کشمیرکیلئے ایک اور جموں کیلئے 6نشستوں کی سفارش کرکے آئین کی دھجیان اُڑانے کیساتھ ساتھ جمہوریت کا بھی قتل کیا ہے اور جس طرح سے کشمیر میں نشستوں کی نئی حدبندی کی تجاویز دی گئی ہے اُس طریقہ کار سے صاف طور پر ایک منصوبہ بند سازش کی عکاسی ہوتی ہے۔ پارٹی لیڈران نے کہاکہ نہ صرف اسمبلی نشستوں کی حدبندی بلکہ پارلیمانی نشستوں کی حدبندی میں بھی تمام لوازمات، جائز طریقہ کار اور قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھا گیا ہے اور پارلیمانی نشستوں کی ایسی حدبندی کی گئی ہے جو سمجھ سے مکمل طور پر بالاتر ہے۔ 
 
 

جموں کشمیرکی وحدت کیلئے نقصان دہ:سوز

سرینگر//سابق مرکزی وزیرپروفیسرسیف الدین سوزکے کہا ہے کہ آرایس ایس اوربھاجپاگٹھ جوڑ کرکے غیرجمہوری طریقے سے جموں کشمیرکامسلم اکثریتی کردارختم کرناچاہتے ہیں،جو سیکولرذہن رکھنے والے لوگوں کیلئے اذیت ناک ہے۔ایک بیان میں پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا،’’میر ی معلومات کے مطابق جموںو کشمیر حد بندی کمیشن اپنی کارروائی سے ریاست جموںوکشمیر کی وحدت کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور یہ کمیشن ایک خاص سیاسی ٹولے کے زیر اثر کام کر رہا ہے۔‘‘انہوں نے مزیدکہا،’’ریاست جموںوکشمیر کی میں اسٹریم جماعتوں کو تمام سکیولر قوتوں کے ساتھ مل کر اس سازش کا قلع قمع کرنا چاہئے۔‘‘انہوں نے کہا،’’جموں سے ایک دانشور صحافی نے آج صبح مجھے ٹیلی فون پربتایا کہ آر ایس ایس ؍بی جے پی درحقیقت ریاست کا مسلم اکثیریتی کردار بدلنا چاہتی ہے تاکہ وہ بالآخر ریاست میں ایک ہندو چیف منسٹر کو گدی پر بٹھاسکیں۔ میں نے کہا کہ اگر یہ کاروائی جمہوری اور آئینی طریقے سے کی جائے گی ،تو اُس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا کیونکہ دوسرے لوگ بھی جمہوری طریقے سے اپنی آواز اٹھائیںگے۔‘‘انہوں نے کہاکہ یہ بہت ہی افسوس ناک بات ہے کہ آر ایس ایس ؍ بی جے پی گٹھ جوڑ غیر جمہوری طریقے سے ریاست کا اکثریتی مرتبہ ختم کرنا چاہتی ہے۔ یہ منظر اُن لوگوں کیلئے اذیت ناک ہے ،جنہوں نے ہمیشہ ریاست کے سکیولر وجود کو قائم رکھنے کیلئے اس نظریہ کی تائید کی ہے۔جموںوکشمیر کی مین اسٹریم سیاسی لیڈر شپ کو بہت زیادہ منظم ہو کر فرقہ ورانہ سوچ کو شکست دینی چاہئے اور ریاست کا سیکولر وجود برقرار رکھنا چاہئے۔جموںوکشمیر کے مین اسٹریم جماعتوں کو اپنی سوچ کے مطابق سب سے بڑی عدالت یعنی ’’عوامی عدالت ‘‘ کے سامنے جانا چاہئے اور جمہوری اور آئینی طریقے سے جاہلانہ اور متعصب سوچ کو شکست دینا چاہئے۔