حدبندی کمیشن رپورٹ ڈکسن پلان کی تقلید:الطاف بخاری

جموں//اپنی پارٹی صدر سید الطاف بخاری نے جموں وکشمیر کو فرقہ وارنہ خطوط پر تقسیم کرنے کے مقصد سے حدبندی کمیشن رپورٹ کو ڈکسن پلان کی تقلید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انکی پارٹی رپورٹ کو مسترد کرتی ہے۔ الطاف بخاری نے کہا کہ پانچ ممبران پارلیمان کی خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ وہ لوگوں کے جذبات اور خواہشات کی نمائندگی کرنے میں ناکام رہے ہیں،لہٰذا انہیںمستعفی ہونا چاہئے ۔وہ جموں میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ بخاری نے کہاکہ حد بندی کمیشن نے زمینی سطح پر مشق نہیں کی اور اپنے منصوبہ کو لوگوں کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کے مقصد سے لاگو کیا ۔ انہوں نے کہاکہ اننت ناگ لوک سبھا حلقہ کو راجوری اور پونچھ کے ساتھ ضم کرنا نا انصافی کی ایک بڑی مثال ہے۔  انہوں نے کہاکہ یہ حیران کن ہے کہ کمیشن ممبران نے پہلگام میں بیٹھ کر ایک ہی دن میں بغیر زمینی مشق کئے 12اسمبلی حلقوں کی رپورٹ مکمل کر لی۔  60ہزار سے زائد ڈیلی ویجروں کی ریگولر آئزیشن کے مسائل کو حل نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے کئے گئے وعدوں کو جلد سے جلد عملی جامہ پہنایاجائے۔ الطاف بخاری نے کہاکہ’’نوجوانوں کو نظر انداز کر کے اُنہیں پس ِ پشت ڈالنے سے ایسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جہاں وہ نشہ کے عادی بن رہے ہیں، عسکریت پسندی کی طرف مائل ہورہے ہیں، حکومت کو چاہئے کہ بے روزگاری کے بڑھتے مسئلہ کو سنجیدگی سے حل کیاجائے‘‘۔انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے مقامی بیروکریٹس کو اہم عہدوں پر تعینات نہیں کیاجارہا، اگر اُنہیں اہم عہدوں پر تعینات کیاجائے تو وہ لوگوں کے مسائل بہتر ڈھنگ سے حل کرسکتے ہیں البتہ سرکاری محکمہ جات کی کمان غیر مقامی بیروکریٹس کے ہاتھ میں دی گئی ہے۔ حکومت میں مقامی افسران کی عدم موجودگی سے جموں وکشمیر کے اندر رشوت نے تمام حدود کو پار کر دیا ہے ، عوامی مسائل حل نہیں ہورہے جس سے اُن میں الگ تھلگ اور تنہائی کا احساس جنم لے رہا ہے۔الطاف بخاری نے کہاکہ انتخابات میں پوسٹرز اور بینرز استعمال کر کے کشمیری پنڈتوں کا سیاسی استحصال کیاگیا لیکن اُن کی بازآبادکاری کے لئے کوئی پختہ اقدامات نہ اُٹھائے گئے۔ الطاف بخاری نے کہاکہ اگر اُن کی جماعت اقتدار میں آئی تو وہ کسی بھی غیر مقامی کو جموں وکشمیر کے قدرتی وسائل تک رسائی کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ جب کویڈ19بندشیں جموں وکشمیر کے بیشتر علاقوں سے ہٹالی گئی ہیں تو مرکزی جامع مسجد سرینگر کو بھی نمازیوں کے لئے کھول دیاجائے۔  انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیاکہ پریس اور صحافیوں کو بغیر بندش اپنے پیشہ وارانہ فرائض انجام دینے کی آزادی دی جائے۔