حجاب تنازعہ: ہائی کورٹ کا حکم سپریم کورٹ میں چیلنج

نئی دہلی// اسکولوں میں حجاب پہننے پر روک جاری رکھنے کے کرناٹک ہائی کورٹ کے منگل کے فیصلے کے کچھ گھنٹے بعد اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔
نِبا ناز نے ہائی کورٹ کےفیصلے کوچیلنج کرنے کےلئے وکیل انس تنویر کے ذریعہ سے ایک عرضی کے ذریعہ سپریم کورٹ کا رخ کیا ۔
عرضی گزاروں نے کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ 1983 اور اس کے تحت بنائے گئے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی عرضی میں دعوی کیا ہے کہ طلبہ کےلئے کسی بھی طرح سے لازمی وردی کا التزام نہیں ہے۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا،’’حجا ب پہننا اسلام کا لازمی حصہ نہیں ہے۔وردی کا تعین آئینی ہے اور طلبہ اس پر واعتراض نہیں کر سکتے۔‘‘
عدالت میں دائر عرضی میں کرناٹک ایجوکیشن ایکٹ کے تحت ریاستی حکومت کے ذریعہ پاس پانچ فروری 2022 کے حکم کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔عرضی میں دعوی کیا گیا ہے کہ یہ ہدایت ’’مذہبی اقلیتوں اور خصوصی طورپر اسلامی عقیدت کے حجاب پہننے والی مسلم خواتین پیروکاروں کی تضحیک کرنے اور ان پر حملہ کرنے کے ارادے سے جاری کی گئی تھی جس کا کوئی وجود نہیں ہے۔‘‘
درخواست میں کہا گیا ہے کہ حجاب پہننے کا حق آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت ضمیر کے حق کے تحت محفوظ ہے۔