حالت میں سدھار کے مرکزی دعوے صداقت سے بعید : ڈاکٹر کمال

سرینگر/ /نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے موجودہ پی ڈی پی بھاجپا مخلوط اتحاد کو جموں وکشمیر کے مفادات کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں جماعتیں اپنے حقیر مفادات کیلئے ریاست کو حاصل خصوصی آئینی اور جمہوری مراعات کو ختم کرنے کیلئے تقسیمی اور تباہ کن سیاست میں مصروف ہیں۔ پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے کہا کہ مرکز کے اعلیٰ حکام سرینگر آکر جو دعوے کررہے ہیں وہ صداقت سے بعید ہیں۔ اگر واقعی یہاں امن لوٹ آیا ہے تو ہر گلی ہر دیہات میں فوج اور فورسز کیوں تعینات ہیں، اگر امن لوٹ آیا ہے تو آئے روز انکائونٹر کیوں ہورہے ہیں؟۔ مرکز یہاں کے حالات کی غلط تصویر دکھانے سے گریز کرے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی کی غلطیوں ،وعدہ خلافیوں اور بار بار مرکزی قوانین نافذ کرنے سے آج ریاست کے حالات دن بہ دن بدتر ہوتے جارہے ہیں، حالات سدھرنے کی کوئی بھی کرن دکھائی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کی نااہلی کا خمیازہ لوگ بھگت رہے ہیں۔ اقتصادی بدحالی ، سیاسی اور انتظامی انتشار و خلفشار محبوبہ مفتی حکومت کی حصولیابیاں ہیں۔ موجودہ حکومت جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کے ایجنڈا پر عمل پیرا ہوکر ریاست اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنے میں مصروف ہے۔پی ڈی پی رضاکارانہ طور پر بھاجپا کے ایجنڈا کی ہر سطح پر آبیاری کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بی جے پی اعلاناً ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کیلئے کام میں لگی ہوئی ہے لیکن پی ڈی پی بھاجپا کے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے میں درپردہ طور پر سرگرمِ عمل ہے اور قلم دوات جماعت ریاست کی ریاست کے انفرادیت اور وقار کو پارہ پارہ کرنے میں اپنا بھر پورہ تعاون پیش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدنظمی، کورپشن ، اقربا پروری اور اقربا نوازی موجودہ حکومت کا چہرہ بن گیا ہے۔ جی ایس ٹی کا اطلاق جموں وکشمیر کے اقتصادی بحران پر ایک اور کاری ضرب ثابت ہوا ہے ، جس کی پیشگوئی نیشنل کانفرنس اور اس کی قیادت نے یہ قانون لاگوہونے سے قبل ہی کی تھی لیکن موجودہ پی ڈی پی حکومت میں نئی دلی کو خوش کرنے کیلئے بہت زیادہ عجلت سے کام لیا ۔