حاجی با با سید نو ران شا ہ

 یہ نو مبر1947 ء کی با ت ہے جب رام سخی دلیر اور کیپٹن رحمت اللہ خان منہا س نے دس ہزار مجا ہدین کے ہمراہ راجوری شہر کا محاصرہ کئے رکھا تھا اور راجو ری امن کمیٹی کے ممبران لالہ نر سنگھ داس ایڈوکیٹ ،رینا ناتھ مو دی ایڈوکیٹ ،بہا ری لعل پنچ اور بہا ری لعل صراف وغیر ہ کے ساتھ مذاکرات کا کو ئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا راجو ری قصبہ کی ساری مسلم آبادی اس وقت دیہاتوں کی طرف چلی گئی تھی اور دیہاتوں سے ساری آبادی راجوری قصبہ میں آکر مقیم تھی جن کی تعداد اس وقت بقول مرزا فقیر راجوروی بیس ہزار کے قریب تھی اور وہ سخت ہیجا نی کیفیت میں سسک سسک اسی اثنا ء میں 9نو مبر 1947ء کو حاجی با با سید نو ران شا ہ نے حالا ت کی نزاکت کا ادراک کر تے ہو ئے اپنی  رہا ئش گا ہ لا ہ میں راجوری خطہ کے تما م اہم مسلم زعما ء کا ایک اہم اجلاس طلب کیا جس میں مر زا محمد حسین ،حکیم منصور علی ،چو دھر ی دیوان علی ،مو لو ی صلاح محمد چو دھر ی نا ڑ ،مو لو ی مہر دین قمر راجو روی ،مر زا عطا ء اللہ خان اور بعض دیگر سر کر دہ زعما ء نے شر کت کی اور حاجی بابا سیدنو ران شا ہ کی صدارت میں اس خطہ میں رو نما ہو نے والے حالات و واقعات کا بغور جا ئزہ لیا گیا جس میں راجو ری قصبہ کی فتح اور زیر محاصرہ ہندہ برادری کا تحفظ اور پر امن انخلاء خاص طور پر زیر بحث آیا اور متفقہ فیصلہ ہو ا کہ آزاد فو ج کے کما نڈر راج سخی دلیر اور کیپٹن رحمت اللہ خان منہا س سے فی الفور رابطہ کر کے انہیں راجو ری شہر کے پر امن فتح اور ہند و برادری کی جا ن و مال کے تحفظ بارے احساس دلا یا جا ئے تاکہ خطہ میں فر قہ وارانہ تنا ئو پیدا نہ ہو حاجی صاحب کی رہا ئش گا ہ پر پا س ہو نے والی اس قرارداد کی ایک کا پی ایک وفد اسی رو ز شام مر زا فقیر محمد راجو ری اور حکیم فیض عالم صدیقی کی قیا دت میں لے کر کرائیاں کے مقام پر آزاد فو ج کے مذکو رہ ذمہ داروں کی خدمت میں حاضر ہو ا جس کے ساتھ ان لو گو ں نے اتفا ق کر تے ہو ئے را جو ری امن کمیٹی کے ممبران کے ساتھ ہندو برادری کے راجو ری سے پر امن انخلا ء اور راجو ری پر مجا ہدین کے قبضہ با رے ایک معا ہد ہ طے کر لیا چنا نچہ اس طے شد ہ معاہد ہ کی رو سے 12 نو مبر 1947ء کی شا م تک ہند و برادری کو راجو ری قصبہ خالی کر کے اور سفید جھنڈے لے کر بید قہ میدان میں پہنچنا تھا ،جہا ں سے انہیں بحفاظت جمو ں کی طر ف روانہ کر نا طے    ہو چکا تھا۔ چنا نچہ ہند و برادری کے لو گو ں نے جب اس معا ہد ہ پر عمل درآمد کر نا شروع کیا اور وہ اپنے گھر و ں سے با ہر نکلنے لگے تو ہند و مہا سبھا کا صدر لا لہ دینا نا تھ کیلا اور آر ایس ایس کا صدر دوارکا داس بھر ونیا جیا لا ل صراف اور ان کے دیگر کا رکن بندوقیں لے کر راجو ری قصبہ کے گلی کو چو ں میں نمودار ہوگئے اور کہنے لگے ہم اس وقت آر ایس ایس کے مسلح ورکر ،دس ڈوگرہ اور پند رہ گو رکھا سپا ہی ہندو ئوں کی حفاظت کے لئے شہر میں مو جو د ہیں، کل ہی ہندوستانی جہا ز شہر پر چکر لگا کر گیا ہے یہ مٹھی بھر قبا ئلی ہما را کچھ نہیں بگا ڑ سکتے ،ایک دو رو ز میں ہند وستانی فو ج بھی آ جا ئے گی، اس لئے ہم سب لو گ ان کے مقا بلہ کے لئے تیا ر ہیں اور جس شخص نے بھی شہر سے با ہر جا نے کی کو شش کی اسے گو لی ما ر دی    جا ئے گی اس طر ح ان تین اشخاص نے نہ صر ف یہ کہ اس معاہدہ پر عمل درآمد ہو نے دیا بلکہ شا م گئے قصبہ کی او نچی عما رتوں کی چھتوں سے   مجا ہدین کے بیس کیمپ چھچھرہ جنگل کی طرف فائرنگ شروع کر دی جس کے ردعمل میں مجا ہدین نے بھی بامر مجبوری قصبہ پر یلغار کر دی جس کے باعث را جو ری کی تا ریخ کا بد قسمت خو نی سا نحہ رو نما ہو ا جس کی ساری ذمہ داری دینا نا تھ کیلا ،دوارکا داس بھرو نیا اور جیا لا ل صراف پر عا ئد ہو تی ہے جنہو ں نے طے شدہ معا ہد ہ کی رو سے ہند و برادری کو قصبہ خالی کرنے کی نہ صرف یہ کہ اجا زت نہ دی بلکہ الٹا مجا ہدین کے بیس کیمپ پر فا ئرنگ کر کے انہیں را جو ری قصبہ پر یلغا ر کر نے پر مجبو ر کیا ۔
چنا نچہ 12 اور 13نو مبر 1947 ء کی درمیا نی شب کو مجا ہدین نے قصبہ پر چا رو ں طر ف سے زبر دست یلغار کر کے مکمل کنٹرول حاصل کرلیا اور یہ لو گ مجا ہدین کا مقا بلہ نہ کر سے جس میں یقینا کچھ جا نی نقصان بھی ہو ا جب کہ احاطہ تحصیل میں 13نو مبر کی صبح کو دینا نا تھا کیلا اور ا س کے سا تھیو ں نے سا ت سو قریب دو شیزائو ں کو زہر دے کر اور کلہا ڑو و بر چھیو ں سے کا ٹ کر غیر ت کے نا م خو د ہلاک کر دیا اگر یہ لو گ وقتی طو ر پر سو جھ بو جھ اور تد بر کا مظا ہر ہ کر تے تو را جو ری کی تا ریخ کے اس خو نی سانحہ کو ٹا لا جا سکتا تھا ۔افسوس کہ آج تک کسی غیرجا نبدار مو رخ نے اس مو ضوع پر تا ریخی حقائق و صداقت کے تنا ظر میں لکھنے کی کو شش نہیں کی جب کہ ایک طبقہ نے یکطر فہ طور پر اس واقعہ کی ذمہ داری اکثر یتی طبقہ کے سر تھو پ کر گذشتہ ستر سالو ں سے صر ف تلخیو ں اور رنجشوں کو فروغ دیا ۔راجوری کی فتح اور خو نزیزی کے بعد 13 نو مبر 1947کے روز راجو ری قصبہ کے زند ہ بچ جانے والے تما م مر دو خواتین اور بچو ں کو قصبہ کے اس پا ر مو جو دہ ہوائی پٹی کی جگہ جمع کیا گیا اسی اثنا ء میں حاجی با با سید نو ران شا ہ ،مر زا محمد حسین ذیلدار،مو لا نا صلا ح محمد ،مو لا نا ولا یت حسین شا ہ (فاضل دیو بند)چو ہد ری دیوان علی اور مو لوی مہر دین قمر راجو روی اور دیگر مسلم زعما ء آ گئے گو کہ اس جگہ بے تدبیر ی کے با عث کچھ جا نی نقصان بھی ہوا لیکن حاجی با با اور دیگر مسلم زعما ء کی مداخلت کے با عث بڑی حد تک بچا ئو ہو گیا اور مر زا محمد حسین کی قیا دت میں قائم ہو نے والی انقلا بی وار کو نسل کی قیا م کے بعد ہند و برادری کے ان تما م لو گو ں کو قصبہ راجو ری کے نواح میں گر دھن کے مقام پر ایک پنا ہ گزین کیمپ میں منتقل کر دیا جہا ں ان کے قیا م و طعا م و دیگر ضروریا ت زند گی کا معقول انتظام رکھا گیا ۔12 اپریل1948 سقوط راجو ری تک حاجی با با اکثر اس پنا ہ گزین کیمپ میں آتے اور ہند و برادری کے لو گو ں کی خبر گیر ی کرتے رہے، حاجی با با اس خطہ کی ایک بزرگ شخصیت تھی اور سبھی مکتبہ فکر و مذاہب کے لو گ ان کا احترام کرتے تھے اور ان کے دل میں بھی سب کے لئے محبت و احترام کا جذبہ تھا مر زا محمد حسین کو بھی حاجی با با سے بڑی عقیدت تھی ۔حاجی با با نے 1947 اور 1948 کے دوران اس خطہ کی مسلم قیا دت کومسلمانوں کے علا وہ غیر مسلم رعایا کے ساتھ خصو صی طور پر فیا ضانہ بر تا ئو اور ان کی بنیا دی ضروریا ت پو ری کر نے کی تلقین کر تے رہے ۔آزاد شدہ راجو ری کے اس چھ ما ہ (13 نو مبر1947تا اپریل 1948 )کے عرصہ میںحاجی با با کے خاندان کے دیگر احباب نے آزاد شدہ راجوری کی سر حدوں کی حفاظت اور نئے علا قو ں کو فتح کر نے میں اہم رول ادا کیا مگر افسوس کہ را جو ری کی انقلا بی وار کو نسل کے سر براہ مر زا محمد حسین اور آزاد حکو مت کے صدر سر دار محمد ابراہیم خان کے درمیا ن تنا ئو و کشمکش اور سا ما ن حرب و ضر ب کی بند ش کے با عث نہ تو مزید مطلو بہ نتائج حاصل ہو سکے اور نہ ہی آزاد شدہ را جو ری کا تحفظ ہو سکا حاجی با با کے برادر اصغر سید سلیما ن شاہ اور بیٹے مولوی حبیب اللہ شا ہ ضیا ء و سید محمد عبد اللہ شا ہ آزاد اور خاند ان کے دیگر تما م اہم لو گ برابر چھ ما ہ تک عملی طور پر راجو ری کے محاذ جنگ پر ڈٹے رہے اور سید سلیما ن شا ہ نے عظمت آبا د کے مقا م پر اکتالیس جا نبا زو ں کے سا تھ لڑتے ہو ئے جا م شہا دت نو ش کیا۔13 اپریل 1948کو جب را جو ری کا سقو ط ہوا اور ہند وستانی فوج اپنے جدید سامان حر ب وضر ب ہوائی جہا زو ں اور بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ را جو ری پر قا بض ہو ئی اور خطہ میں زبر دست قتل و غارت و املا ک کی تبا ہی و بر با دی شروع کی تو اس وقت حاجی با با اور ان کے خاندان کا یہاں زند ہ رہنا نا ممکن ہو گیا اس لئے انہو ں نے اپنے خاندان کے ایک بڑے قا فلہ کے ہمراہ با مر مجبو ری خو ن کے آنسو ں رو تے ہو ئے اپنی خو بصورت اور ہر دلعزیز زمین را جو ری کو الوداع کہتے ہو ئے کنٹرول لا ئن کے اس پا ر اس امید پر ہجر ت کی تھی مگر افسوس کہ آج ستر سال بیت جا نے تین جنگو ں اور گذشتہ پچیس سا لو ں کی خو نی تحریک مزاحمت اور قر با نیو ں کے با وجو د یہ خواب ہنو ز شر مند ہ تعبیر ہو نا با قی ہے حاجی با با اور اس خطہ کے لاکھوں مہا جرین اپنے وطن کی آزادی اور دید کی حسرت سینہ میں لئے دیا ر غیر میں اس دار فنا سے دار بقا کی جانب کوچ کر گئے، راجوری کا یہ عظیم حریت پسند اور تحریک سید احمد شہید کا سفیر اپنے وطن جمو ں و کشمیر کی آزادی کی حسر ت و خواب سینے میں لئے با لاخر 13 اکتوبر 1966 بروز جمعرات بو قت مغرب پا کستانی پنجاب کی جر نیلی شا ہراہ پر آباد قصبہ سوہا وا میں داعی اجل کو لبیک کہتے ہو ئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملا ۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔حاجی با با کی وفات کی خبر پھیلتے ہی کنٹرول لا ئن کی دو نو ں اطراف رنج و الم کی لہر دو ڑ گئی اور سوہا واہ کے مقام پرآزاد کشمیر اور پا کستان بھر سے عوام کا ایک جم غفیر امڈ پڑا پا کستان اور’’ آزاد کشمیر‘‘ سے ہر مکتبہ فکر کے علما ء و مشائخ اہل علم و دانشور سیا سی و مذہبی قائدین اور مہا جرین جمو ں وکشمیر کی ایک بڑی تعداد وہا ں جمع ہو گئی آزاد کشمیر و پا کستان کے تما م قابل ذکر مذہبی و سیا سی  قا ئدین نے بشمول چو ہدری غلا م عبا س ،میر واعظ مو لا نا یو سف شا ہ ،مو لا نا مظفر حسین ند وی اور مو لا نا صد رالدین الرفاعی وغیر ہ نے نما ز جنا زہ اور تعزیتی مجالس میں شر کت کی آپ کی نما ز جنا زہ پا کستان کی ممتاز رو حانی شخصیت پیر صاحب آف دیو ل شریف پیر عبدالمجید احمد قادری نے پڑھا ئی ۔آپ کی تد فین قصبہ سو ہا وا ہ کے متصل آپ کے خاندان کے خرید کر دہ قطعہ اراضی پر شیر شاہ سوری کی تعمیر کر دہ جر نیلی شا ہر اہ کے قریب ہو ئی جہا ں بعد میں آپ کے خاند ان کے اکثر لو گو ں نے مکا نا ت تعمیر کر کے رہا ئش اختیار کر لی اور یہ جگہ آج کل آپ کی نسبت سے نو ر پو ر سیداں کے نا م سے مشہو رومعروف ہے حاجی با با کی وصیت تھی کہ میر ی قبر کے قریب ایک مسجد بھی تعمیر کی جا ئے تاکہ شا ہر اہ عام ہو نے کی وجہ سے مسلما ن ادھر سے گذرتے ہو ئے نما ز ادا کر سکیں اس لئے آپ کی وفا ت کے بعد آپ کے خاندان کے لو گو ں نے حسب وصیت مسجد تعمیر کر دی پا کستان کے مر حوم صدر جنرل ضیا ء الحق کے قا فلہ کا ایک دفعہ یہا ں سے گذر ہو ا تو انہو ں نے اس مسجد میں نما ز مغر ب ادا کی اور قریب میں بنی آپ کی قبر اور اس پر لگا کتبہ پڑھ کر مزید دریافت کر نے پر جب انہیں بتا یا گیا کہ یہ قبر جمو ں و کشمیر کی ایک عظیم روحانی شخصیت اورتحریک آزادی جمو ں وکشمیر کے ایک ممتاز رہنما و قافلہ سید احمد شہید کے سفیر الحاج سید نو ران شا ہ کی ہے تو انہو ں نے فوری طور پر شا یا ن شا ن طریقہ سے اس مسجد کی دو بارہ تعمیر کے احکا ما ت صادر فر ما کر چند مہینو ں میں ایک خوبصورت اور کشادہ مسجد تعمیر کروادی جس میں اس وقت نما ز جمعہ بھی ادا کی جا تی ہے ۔
رابطہ نمبر9419267231