جے کے بینک کیلئے عمارت خریدنے کا معاملہ| عمر عبداللہ سے ای ڈی کی پوچھ گچھ

نیوز ڈیسک
نئی دہلی//نیشنل کانفرنس نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے جمعرات کو جے اینڈ کے بینک کیلئے باندرا کورلا مہاراشٹرا میں ایک عمارت خریدنے کے معاملے میں ای ڈی نے پوچھ گچھ کی۔ این سی لیڈر جمعرات کو صبح 11بجے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے ہیڈکوارٹر پہنچے جہاں اس کیس کے سلسلے میں ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا جو اس سال کے شروع میں ای ڈی نے درج کیا تھا۔ای ڈی کے دفتر سے نکلتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ وہ اس کیس میں ملزم نہیں ہیں۔”انہوں نے مجھے تقریباً 12 سال پرانے کیس میں جاری تفتیش کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا۔ میں نے ان کو جتنا ہو سکا جواب دیا۔ اگر انہیں میری ضرورت ہو تو میں ان کی مزید مدد کروں گا۔ انہوں نے مجھ پر کوئی الزام نہیں لگایا،۔حکام کے مطابق، یہ معاملہ 2010 میں بندرا کرلا میں جے اینڈ کے بینک کی عمارت کی خریداری سے متعلق ہے، جب سابق ریاست کے سابق وزیر خزانہ حسیب درابو اس کے چیئرمین تھے۔سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے قبل ازیں جے اینڈ کے بینک کے سابق چیئرمین مشتاق احمد شیخ اور دیگر کے خلاف قرضوں اور سرمایہ کاری کی منظوری میں مبینہ بے ضابطگیوں کا مقدمہ درج کیا تھا۔سی بی آئی کی ایف آئی آر کا نوٹس لیتے ہوئے، ای ڈی نے منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (پی ایم ایل اے) کی جانچ شروع کی ہے۔سی بی آئی نے2021 میں جے اینڈ کے بینک کی اس وقت کی انتظامیہ کے خلا ف 2010 میں ممبئی کے باندرہ کرلا میں میسرز اکروتی گولڈ بلڈرز سے مبینہ طور پر 180 کروڑ روپے کی حد سے زیادہ شرح پر جائیداد خریدنے کے لیے ایک مقدمہ درج کیا تھا۔ نیشنل کانفرنس (جے کے این سی) نے مرکز پر تنقید کرتے ہوئے مرکزی ایجنسیوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔پارٹی نے ٹویٹر پر کہا، ’’ہمیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مچھلی پکڑنے کی اس مہم سے بی جے پی کو کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں ملے گا اور لوگ جب بھی ضرورت پڑے گی نیشنل کانفرنس کی بھرپور تائید کریں گے۔‘‘انہوں نے کہا کہ مرکز کی یہ کارروائی محض سیاسی انتقام گیری ہے اور اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔این سی نے عبداللہ سے پوچھ گچھ کرنے کے ای ڈی کے اقدام کی مذمت کی، اسے سابق وزیر اعلی کی “بدتمیزی” اور مرکزی تحقیقاتی ایجنسی کا مسلسل غلط استعمال قرار دیا۔این سی  ترجمان نے کہا کہ ایک وقت تھا جب الیکشن کمیشن کے ذریعہ انتخابات کا اعلان کیا جاتا تھا لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ان کا اعلان ای ڈی کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔”حالیہ سالوں میں، ہم نے دیکھا ہے کہ جہاں کہیں بھی ریاستی انتخابات ہونے والے ہیں، ای ڈی جیسی ایجنسیاں حرکت میں آتی ہیں اور ان پارٹیوں کو نشانہ بناتی ہیں جو بی جے پی کو چیلنج کرتی ہیں،” ۔انہوں نے کہا کہ ان کے نائب صدر کو سمن اسی سلسلے میں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ عبداللہ کو اس بنیاد پر دہلی میں ای ڈی کے سامنے پیش ہونے کو کہا گیا تھا کہ تحقیقات کے سلسلے میں ان کی حاضری ضروری ہے۔