جے کے بینک میں تعینات اے ٹی ایم گارڈ

 سری نگر// سی پی آئی (ایم) اور اپنی پارٹی نے جے کے بینک میں تعینات اے ٹی ایم گارڈوں کی تنخواہوں میں کٹوتی اور برطرفی پر تشویش کااظہار کیا ہے۔ سی پی آئی (ایم)لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ نئی کمپنی ،جس نے اے ٹی ایم گارڈز کو ہٹانے اور تنخواہوں میں کٹوتی کا سہارا لیکر جموں کشمیر بینک کی سیکورٹی سنبھالی ہے، ان سینکڑوں غریب لوگوں کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے، جو برسوں سے ایک ساتھ اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ قبل ازیں، ان اے ٹی ایم گارڈز کو مبینہ طور پر 7500 روپے اجرت کے طور پر ادا کیے جاتے تھے اور اضافی 1600 روپے سی پی فنڈ کے طور پر کاٹے جاتے تھے۔ تاہم اب انہیں صرف 5500 روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے جو کہ مہنگائی کے اس دور میں دو وقت کی روٹی کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔تاریگامی نے کہاکہ ان میں سے کچھ گزشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اپنی ملازمتیں انجام رہے ہیں اور صرف اپنے خاندان کی روٹی کمانے والے ہیں، وہ اپنے خاندانوں کا پیٹ کیسے پالیں گے، اگر انہیں بر طرف کر دیا جائے یا ان کی اجرت کاٹ دی جائے؟ انہوںنے کہاکہ جموں و کشمیر بینک کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ سیکورٹی کمپنی سے کہے جو ان گارڈوں کو ملازمت دیتی ہے کہ وہ انہیں کم از کم اجرت کے قانون کے مطابق ادائیگی کرے اور نہ ہی کسی ملازم کو من مانے طور پر برطرف کرے۔ نیز لیبر کمشنر کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے تاکہ ان غریب مزدوروں کو مزید تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔ادھر  اپنی پارٹی جنرل سیکریٹری رفیع احمد میر نے بیان میں کہاکہ ایسے آمرانہ فیصلوںسے لوگوں کی مشکلات میں صرف اضافہ کرتے ہیں جوکہ اپنے اہل خانہ کے لئے باوقار روزی روٹی کمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہاکہ ’’یہ انتہائی قابل مذمت ہے کہ ہمارے معاشرے کے ایک باشعور طبقے کو پس ِ پشت ڈالاجارہا ہے جوکہ پچھلے کئی سالوں سے اپنی بے مثال خدمات انجام دے رہے ہیں۔ کیا اب اُنہیں یہی انعام ملنا چاہیے؟‘‘ ۔ رفیع میر نے لیفٹیننٹ گورنر قیادت والی انتظامیہ سے گذارش کی کہ اِس فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور اے ٹی ایم گارڈز کی مشکلات کو جلد حل کیاجائے جن کی اُمیدوں پر اِس یکطرفہ فیصلے سے پانی پھیر گیاہے۔ اس دوران اپنی ٹریڈ یونین صدر اعجاز کاظمی نے  تنخواہوں میں کٹوتی کرنے کے فیصلے کی نقطہ چینی کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قراردیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ’’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ گارڈز میں بڑھتی تشویش کو دیکھتے ہوئے بیشتر ملازمین کو کمپنی نے نوکری سے نکال دیا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت کو اِس معاملے میں مداخلت کرنی چاہئے اور سیکورٹی گارڈز پر مزدوری قوانین کی عمل آوری یقینی بنانی چاہئے جن کی تنخواہوں میں کٹوتی کر کے مشکلات بڑھا دی گئی ہیں جن کے لئے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کے بیچ اپنے کنبوں کی روزی روٹی کا بندوبست کرنا مشکل بن گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بینک چیئرمین کو اِس معاملے پر فیصلہ لیکر سیکورٹی گارڈکا انتظام کرنے والی کمپنی کو بلیک لسٹ کرنا چاہئے جس نے غیر انسانی فیصلہ لیا ہے اور جن گارڈزکو نوکری سے نکالاگیاہے، دوبارہ کام پر رکھاجائے۔