جے کے بینک سے متعلق دی گئی معلومات ناقابل تردید سچ نہیں

   جموں//ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے جموں و کشمیر بینک سے متعلق دیئے گئے ریمارکس سے یو ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ انہیں جموں وکشمیر بنک کے ملازمین نے بھرتی عمل میں دھاندلی سے متعلق جو بتایا وہ ناقابل تردید سچ نہیں۔ سوبھاگیہ رتھ کو ہری جھنڈی دکھانے کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا’’کچھ نوجوان اور بنک ملازمین میرے پاس راج بھون ملنے آئے اور مجھے بنک میں کچھ تعیناتیوں میں بے ضابطگیوں کے بارے میں بتایا اور میں نے اسے انٹرویو کے دوران میڈیا کے ساتھ زیر بحث لایا لیکن انہوں (بنک ملازمین اور نوجوانوں)نے جو بھی مجھے کہا وہ ناقابل تردید سچ نہیں تھا ،معاملات تبھی واضح ہوں گے جب انکوائری ہوگی ‘‘۔انہوں نے کہا ’یہ بات (بھرتی میں دھاندلی کی بات) مجھے جموں وکشمیر بنک کے لوگوں نے آکے بتائی تھی، کوئی ضروری نہیں کہ وہ سچ ہو، میں بناء جانچ کے نہیں کہہ سکتا کہ ایسا ہی ہوا ہے۔،جموں وکشمیر بنک بہت اچھا کام کررہا ہے۔،یہ بنک ریاست کا ایک بہترین ادارہ ہے۔،ہم نے اس کو بہتر طریقے سے چلانے کی ہدایات دی ہیں۔ ،ہ ریاست کا ایک کامیاب ادارہ ہے۔،میں نے کسی پر کوئی الزام نہیں لگایا ہے۔ بچوں نے جو باتیں کہیں، میں نے وہی دہرائیں‘۔انہوںنے کہاکہ انہوں نے اور بنک کے سیکریٹری نے ماتحت عملے کو اس بات کی ہدایات جاری کی ہیں کہ کام کو احسن طریقہ سے چلانے کو یقینی بنایاجائے ۔گورنر نے کہا’’جموں و کشمیر بنک بہترین تجارت کررہاہے ،یہ ایک بہترین ادارہ ہے اور ہم مستقبل میں بھی اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس کاکام مناسب طور پر چلتارہے ‘‘۔کشمیر میں کرپشن کے بارے میں انکشافات سے متعلق گورنر نے کہاکہ کچھ لوگوں کی طرف سے ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیاجارہاہے اور یہ دعویٰ کیاجارہاہے کہ گورنر نے پورے کشمیری طبقہ کو بدعنوان قرار دیاہے ۔ان کاکہناتھا’’میں نے کبھی یہ نہیں کہاکہ کشمیری کرپٹ ہیں بلکہ کشمیر یوں کو وہ لوگ بدنام کررہے ہیں جو خود بدعنوان ہیں‘‘۔گورنر نے کہا’’تمام کشمیر ی بدعنوان نہیں ،ان میں سے کچھ بہت اچھے انسان ہیں ،ان میں دو قسم کے لوگ ہیں غریب اور امیر و بہت زیادہ امیر ،میں اس کلچر کو ختم کرناچاہتاہوں اور ہر ایک کشمیری کو خوش و دولت مند دیکھناچاہتاہوں اوریہ تبھی ممکن ہوسکتاہے جب اس سرزمین سے کرپشن کا خاتمہ کردیاجائے‘‘۔پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ستیہ پال ملک نے کہا’’پاکستان بوکھلاہٹ کاشکار ملک ہے،وہ جموں وکشمیر کو زیادہ سے زیادہ متاثر ریاست کے طور پر دیکھناچاہتے ہیںلیکن وہ آج تک اپنے مقصد میں ناکام ہوئے ہیں ،انہوں نے چنائو میں عوامی بائیکاٹ کی ہر ممکن کوشش کی مگر کامیابی نہیں ملی‘‘۔کشمیری نوجوانوں پر بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا’’ہم نوجوانوں کو یہ یقین دلاناچاہتے ہیں کہ انہیں ملی ٹینسی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ،جہاں تک ہمارا نظریہ ہے تو ہم انہیں ملی ٹینسی سے مذاکرات کی طرف لیجاناچاہ رہے ہیں‘‘۔ گورنر کاکہناتھاکہ سماج کے مختلف طبقوں سے ملاقات کے بعد انہوں نے کشمیر کے حالات سمجھ لئے ہیں اور اب وہ ایمانداری سے مسائل حل کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے ۔جنگجوئوں کی طرف سے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنائے جانے کے سوال کے جواب میں گورنر نے کہا’’یہ بہت ہی بدقسمتی کی بات ہے لیکن ہماری فورسز کے اہلکارہر قسم کے ملی ٹینٹوں سے لڑنے کیلئے بہت بہادر ہیں‘‘۔کشمیر میں جنگجوئوں کو مارنے کے سوال پر انہوں نے کہا’’میرا یہ خیال ہے کہ جنگجوئوں کو مارنے سے ملی ٹینسی ختم نہیں ہوگی تاہم جب تک ملی ٹینٹ سیکورٹی فورسز کو نشانہ بناتے رہیں گے تب تک انہیں بھی نشانہ بنایاجائے گا ، ہم انہیں ان کے حملوں پر پھول پیش نہیں کریں گے ‘‘۔ تاہم انہوں نے کہا’’ہمارا مقصد جنگجوئوں کو مارگرانانہیں ، ہم جنگجوئیت کو ختم کرکے کشمیر کے لوگوں کویہ تاثر دیناچاہتے ہیں کہ ہم امن پر یقین رکھتے ہیں،جب ایل ٹی ٹی ای جیسی دہشت گرد تنظیمیں ملک میں زندہ نہیں رہ پائیں توہمارا یہ یقین ہے کہ یہ ہندوستان کیلئے کوئی حیثیت نہیں رکھتے‘‘۔وادی میں بلدیاتی چنائو کے دوران کم شرح ووٹنگ کے سوال کے جواب میں گورنر نے کہاکہ یہ شرح پنچایتی چنائو میں بڑھ جائے گی ۔
 
 
 

جموں کشمیر بنک اجتماعی اثاثہ

سیاست زدہ کرنے کی کوششیں :اکنامک الائنس

نیوز ڈیسک
 
 سرینگر/ / کشمیر اکنامک الائنس چیئر مین حاجی محمد یٰسین خان نے کہا ہے کہ جموں کشمیر بینک وادی ، جموں اور لداخ کا اجتماعی اثاثہ ہے لیکن بعض قوتیں اپنے مفادات کیلئے اس ادارے کو سیاست زدہ کرنے کی کوششیں کررہی ہیں۔ خان ،جو کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچررس فیڈریشن کے صدر بھی ہیں، نے کہا ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ سے جموں کشمیر بینک کو شر پسندانہ منصوبوں کے تحت ایک یا دوسرے بہانے سے سیاست زدہ بنانے اور بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ قوتیں ایک سازش کے تحت اس بینک کو بدنام کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ جموں کشمیر کے عوام کا اجتماعی اثاثہ ہے ، اسلئے اسے نقصان پہنچانے کا مطلب ریاستی عوام کے مفادات کو زک پہنچانے کے مترادف ہوگا۔ خان نے سیاسی حلقوں ، سیول سوسائٹی اور تاجر طبقے سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جموں کشمیر بینک کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہم سب اپنے اس مشترکہ اثاثے کی حفاظت کرنے کے لئے یک جٹ ہوجائیں۔