جے این یو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات

نئی دہلی// جواہرلعل نہرئو یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں بھاجپاکے حمایتی سبھی اُمیدواروں کوکراری شکست کاسامناکرناپڑاجبکہ بائیں بازئوکے اُمیدواروں نے صدریونین سمیت سبھی چارعہدوں پرجیت درج کی۔ بھارت کے معروف تعلیمی ادارے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں ایک بار پھر چاروں سیٹوں پر بائیں بازو کی جیت ہوئی ہے۔اس بار اے آئی ایس اے، ایس ایف آئی اور ڈی ایس ایف کے اتحاد نے صدر، نائب صدر، سیکریٹری اور جوائنٹ سیکریٹری کے چاروں عہدوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔اس بار صدر کے عہدے کے لئے تقریبا تمام طلبہ تنظیموں نے خواتین کو میدان میں اتارا تھا۔خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق صدر کے عہدے کے لیے یونائیٹڈ لیفٹ کی امیدوار گیتا کماری نے بی جے پی کی طلبہ جماعت اے بی وی پی کی ندھی ترپاٹھی کو 464 ووٹوں سے شکست دی ہے۔نائب صدر کے عہدے کے لئے یونائیٹڈ لیفٹ کی زویا خان نے 800 سے زیادہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔جنرل سکریٹری کے عہدے پر یونائیٹڈ لیفٹ کے دگیرالا کرششن کی جیت ہوئی۔ انھیں 2082 ووٹ ملے جبکہ اے بی وی پی کے نیکنج مکوانا کو 975 ووٹ ملے۔جوائنٹ سیکریٹری کے عہدے کے لئے یونائیٹڈ لیفٹ کے سوبھانشو سنگھ کامیاب رہے۔صدر کے عہدے پر کامیابی کے بعد، یونائیٹڈ لیفٹ کی گیتا کماری نے جے این یو کے طلبہ اپنی کامیابی کا مستحق قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ جے این یو میں ریسرچ کی سیٹوں میں کی جانے والی کٹوتی، نئے ہاسٹل کی تعمیر جیسے مسائل کو اٹھائوں گی۔جنرل سکریٹری کے عہدے جیتنے والے دگیرالا نے کہا کہ انتخابات کے نتائج دکھاتے ہیں کہ جے این یو پہلے سے زیادہ جمہوری ہے۔اس کے ساتھ انھوں نے جی این یو میں اختلاف رائے اور بحث ومباحثہ کے کلچر کو برقرار رکھنے کی بھی بات کی۔خیال رہے کہ جے این یو میں حال میں ہی ریسرچ کی سیٹوں میں خاصی کمی کی گئی ہے جس کے خلاف طلبہ میں ایک طرح کی بے چینی پائی جاتی ہے اور اس کے خلاف انھوں نے مظاہرے بھی کئے ہیں۔جے این یو طلبہ یونین کے سابق نائب صدر اور صحافی ندیم احمد کاظمی نے بتایا کہ جے این یو میں یونائیٹڈ لیفٹ کی جیت نے یہ بتا دیا ہے کہ وہ فاششٹ قوتوں کے خلاف کھڑا ہے۔بھارت میں دائیں بازو کی لہر کے باوجود جے این یو ایک ایسا ادارہ جو اس کو چیلنج کرتا رہا ہے۔ جے این یو کی سابق جوائنٹ سیکریٹری اور بائیں بازو کی سرکردہ رہنما کویتا کرشنن نے بی بی سی کو بتایا کہ جے این یو کی جیت مرکزی حکومت کو بھی بڑا جواب ہے۔خیال رہے کہ جے این یو ایک عرصے سے مودی حکومت کو چیلنج دینے کے لیے سرخیوں میں رہا ہے اور وہاں کی طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کو غداری کے الزام میں جیل بھی بھیجا جا چکا ہے۔