جی20 ٹورازم ورکنگ گروپ کا 3روزہ اجلاس آج سے شروع | طویل انتظار ختم، نئی تاریخ رقم زبرون پہاڑیوں سے ڈل جھیل تک شہر پرسیکورٹی اہلکاروں کی عقابی نظر

یو این آئی
سرینگر// آج یعنی 22مئی2023کو ایک نئی تاریخ رقم ہوگی ،کیونکہ سرینگر پہلی مرتبہ کسی بین الااقوامی سطح کی کانفرنس کی میزبانی کا شرف حاصل کرے گا۔ جھیل ڈل کے کنارے اور زبرون پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع شیرکشمیر انٹر نیشنل کانفرنس سینٹر SKICCمیں 24مئی تک G20کے ٹورازم ورکنگ گروپ کی میٹنگ منعقد ہوگی ،جس کاافتتاح لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کریں گے جبکہ مرکزی وزیر سیاحت جی کے ریڈ ی اوروزیراعظم دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ کانفرنس میں بطور مہمانان خصوصی شرکت کریں گے ۔

 

اسکے ساتھ ہی مختلف ممبرممالک اورملکی وغیر ملکی تنظیموں کے تقریباً 200 سے زیادہ مندوبین اس تین روزہ اجلاس میں شریک ہونگے ۔سرینگر میں اس سلسلے میں تمام تر تیاریوں سیکورٹی انتظامات سے لے کر شہر کی تزئین و آرائش تک، کو حتمی شکل دی گئی ہے اور شہر پوری آب و تاب کے ساتھ اجلاس کی میز بانی کیلئے مہمانوں کا منتظر ہے۔مہمانوں کے پرتپاک استقبال کے لیے جگہ جگہ خیر مقدمی بینر اور ڈیڑھیاں آویزاں کی گئی ہیں جبکہ شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کنارے پرمنعقد ہونے والے اس اجلاس کے لئے اس فراخ جھیل کے حسن میں بھی مزید چار چاند لگادئے گئے۔شہر کو جاذب نظر بنانے کے لئے جہاں سڑکوں پر میگڈم بچھایا گیا ہے وہیں فٹ پاتھوں کو مختلف قسم کے پھولوں کے چمن تیار کرکے سجایا گیا ہے اور دیواروں کو بھی مختلف قسموں کی پینٹنگ اور رنگ و روغن سے آراستہ و پیراستہ کیا گیا ہے۔سرینگر سمارٹ سٹی کے تحت ترجیحی بنیادوں پر لئے گئے پروجیکٹوں کو مکمل کیا جا رہا ہے جن میں سے بعض کو عوام کے نام وقف بھی کر دیا گیا ہے۔ا

 

ن پرجیکٹوں کی تکمیل جن سے شہر کی خوبصورتی دو بالا ہوگئی ہے۔شہرہ آفاق جھیل ڈل کے کناروں پر واقع شیر کشمیر انٹرنیشنل کنوکیشن سینٹر جہاں اجلاس منعقد ہوگا، میں بھی مہمانوں کے لئے تمام تر تیاریاں مکمل کی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح کے اس اجلاس کے انعقاد کو کامیابی اور خوش اسلوبی کے ساتھ یقینی بنانے کے لئے تمام تر تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی ہے۔انتظامیہ نے سر ینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تیاریوں کو مکمل کیا ہے۔سرینگر میں منعقد ہونے والے اس بین الاقوامی سطح کے اجلاس کے لئے سیکورٹی کے فیقدالمثال انتظامات کئے گئے ہیں۔سرینگر میں جہاں اس اجلاس کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے وہیں جھیل ڈل اور ‘ایس کے آئی سی سی’ کو سیکورٹی فورسز نے پوری طرح سے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔شہر کے قرب وجوار میں کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے کو ناکام بنانے کے لئے بھاری تعداد میں سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔جھیل ڈل کے اردگرد علاقوں پر خصوصی ڈرون کیمروں کے ذریعے نظر گزر رکھی جارہی ہیں۔

 

جموں و کشمیر کے سرحدوں پر بھی چوکسی کو بڑھا دیا گیا ہے۔بحریہ کے میرین کمانڈوز دلکش ڈل جھیل پر گشت کر رہے ہیں اور سیکورٹی اہلکار زمین پر چوکس ہیں تاکہ سرینگر میں شروع ہونے والے جی 20 اجلاس کو یقینی بنایا جاسکے۔جی 20 کا سیاحت پر مرکوز اجلاس آج یعنی 22 سے 24 مئی تک سرینگر میں ہونے جارہا ہے۔حکام نے کہاکہ دنیا کے مختلف حصوں سے کم از کم 60 ڈیلی گیٹ اجلا س میں شرکت کرنے جارہے ہیں۔ ایس کے انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں تیسرے G20 ٹورازم ورکنگ گروپ کے اجلاس کے لیے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔آرٹیکل 370 کی منسوخی اور سابق ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں ،جموں و کشمیر اور لداخ ،میں تقسیم کرنے کے بعد کشمیر میں یہ پہلا بین الاقوامی اجلاس ہے۔کم از کم پولیسنگ اور زیادہ سے زیادہ سیکورٹی کو یقینی بنانے کے مقصد سے، جموں و کشمیر پولیس نے میٹنگ کے مقام اور مہمانوں کے لیے رہائش کی سہولیات کو نظرمیں رکھتے ہوئے زبرون پہاڑی سلسلے کے اونچے حصے کا احاطہ کرنے کے لیے فوج کیساتھ سیکورٹی سنبھالی ہے۔سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی تیس کمپنیاں، جنہیں پہلے جموں و کشمیر سے ملک کے باقی حصوں میں انتخابی ڈیوٹی کے لیے لے جایا گیا تھا، اس کے بعد سے وادی میں سیکورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے واپس بلایا گیا ہے، جہاں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے مشورہ دیا ہے کہ دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات یا گاڑیوں میں نصب آئی ای ڈیز کیے خطرے کو ٹالا جائے۔۔عہدیداروں نے کہا کہ نیشنل سیکورٹی گارڈ (این ایس جی) کے انسداد ڈرون یونٹ کی ٹیموں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کام میں لگایا گیا ہے کہ کوئی ناپسندیدہ فضائی دخل اندازی نہ ہو۔